نئی دہلی ،پریس ریلیز،ہمارا سماج : ہمارے اوپر سب سے پہلا حق اس پالنہار کا ہے جس نے ہم سب کو پیدا کیا اور جو ہمیں روزی دیتا ہے جوہم سب کا خالق حقیقی ہے جس کا تقاضا ہے کہ ہم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں وہی صرف اس لائق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔ اس خالق حقیقی نے جہاں ہمیں صرف اپنی عبادت کا حکم دیاہے ساتھ ہی میں اس نے ہمارے دنیا میں آنے کا ذریعہ بننے والی دو عظیم ہستیوں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم صادرفرمایا ہے، کتنا عظیم حق ہے کہ خالق کائنات اپنے حق کے ساتھ ان کے حقوق کی عظمت کو واضح کردیا کہ جنت کے حصول کے لیے رب کی عبادت کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت ضروری ہے، حقوق اللہ کی ادائیگی کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی بھی ضروری ہے ۔ اورنہ صرف یہ کہ والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ کا حکم دیا بلکہ فرمایا کہ اگر کوئی ان میں سے یادونوں ہی بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو اورنہ ہی انہیں جھڑکو بلکہ نہایت ہی نرم اور شرافت بھری بات کہو ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ اور ان کے لیے دعا کرو کہ اے میرے رب! ان دونوں پرایسے ہی رحم فرمایا جیسا کہ بچپن میں انہوں نے میری پرورش کی ۔ ماں باپ کو بر ابھلا کہنے والوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے گناہوں میں سے ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پرلعنت بھیجے، صحابہ نے پوچھا اے اللہ کے رسول کوئی شخص اپنے والدین پر کیسے لعنت بھیج سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص دوسرے کے والدین کو لعنت بھیجے ۔ایک روایت میں ہے گالی دے تو دوسرا پلٹ کر اس کے والدین پرلعنت بھیجے یا گالی دے چوں کہ سبب وہی بنا ہے اس لیے گویا کہ اس نے خود گالی دی ہے یا ان پر لعنت بھیجی ہے، ذرا سوچیں وہ لوگ جومعمو لی معمولی باتوں پر والدین کے ساتھ بد کلامی کرتے ہیں، ان کوستاتے ہیں، انہیںتکلیف دیتے ہیں ، انہیںگھروں سے نکال دیتے ہیں ، انہیں بے سہارا چھوڑدیتے ہیں یا اولڈ ایج ہوم میں ڈال دیتے ہیں کتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ صحابی رسول آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کرتے ہیں اے اللہ کے رسول مجھے جہاد میں شرکت کی اجازت دیں ۔












