واشنگٹن، (یو این آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ ایران سے نیوکلیئر ڈسٹ حاصل کرے گا اور ایران کے ساتھ مل کر اس کے افزودہ یورینیم کو نکالے گا اور اسے واپس امریکا لے آئے گا۔انھوں نے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں کہا ’’ہم اسے اکٹھا کریں گے، ہم ایران کے ساتھ مل کر، آرام دہ رفتار سے، اندر جائیں گے اور بڑی مشینری کے ساتھ کھدائی شروع کریں گے اور ہم اسے امریکہ لے آئیں گے۔‘‘ انھوں نے ’’جوہری دھول‘‘ (نیوکلیئر ڈسٹ) کا ذکر کیا اور کہا کہ اسے ’’بہت جلد‘‘ نکال لیا جائے گا۔ تاہم ایران نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کو منتقل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بعد میں سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’ایران کا افزودہ یورینیم کہیں بھی منتقل نہیں کیا جائے گا، امریکہ کو یورینیم منتقل کرنا ہمارے لیے کبھی بھی کوئی آپشن نہیں رہا۔‘‘ ٹرمپ کی جانب سے ’’نیوکلیئر ڈسٹ‘‘ کا ذکر دراصل اس چیز کی طرف اشارہ ہے جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ گزشتہ سال جون میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کے بعد باقی رہ گئی ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے پاس 900 پاؤنڈ سے زیادہ یورینیم موجود ہے جسے 60 فی صد تک افزودہ کیا گیا ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے سب سے پیچیدہ مسائل میں سے ایک رہا ہے۔فینکس میں تقریب سے خطاب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بی ٹو طیاروں کی بمباری سے پیدا شدہ نیو کلیئر ڈسٹ ایران سے حاصل کی جائے گی، ایران میں بی ٹو بمبار طیاروں نے جوہری صلاحیت ختم کر دی ہے، اب امریکہ ایران سے نیوکلیئر ڈسٹ بھی حاصل کرے گا، اس بات پر اتفاق کر لیا گیا ہے کہ ایران کے پاس اب کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں ہوں گے، تباہ کیے گئے جوہری پلانٹ کی باقیات بھی واپس لائیں گے۔
