نئی دہلی/ چنڈی گڑھ، (یو این آئی) ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی کی صدارت میں قومی دارالحکومت کے ہریانہ بھون میں صنعتکاروں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں نئی ہریانہ انڈسٹریل پالیسی 2026 (ڈرافٹ) اور سیکٹرل پالیسیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت نئی صنعتی پالیسی کو حتمی شکل دینے سے پہلے صنعت سے براہ راست تجاویز لے رہی ہے تاکہ ان کی ضروریات اور توقعات کو پالیسی میں شامل کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پہل کا مقصد سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور صنعتوں کے لیے شفاف اور سازگار ماحول تیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی پالیسی ملک اور عالمی سطح کی بہترین صنعتی پالیسیوں کے مطالعے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے تاکہ ہریانہ کو سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنایا جا سکے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست میں سرمایہ کاری کی خواہشمند کمپنیوں کے ساتھ حکومت مسلسل رابطے میں ہے۔ صنعتکاروں کی تجاویز کو سنجیدگی سے لے کر پالیسی کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ حکومت مستقبل میں 10 نئے انڈسٹریل ماڈل ٹاؤن شپ (آئی ایم ٹی) تیار کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ انبالہ اور نارائن گڑھ میں زمین کی خریداری کا عمل جاری ہے۔ ساتھ ہی جاپانی کمپنیوں کے لیے خصوصی صنعتی زون تیار کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔کونٹی نینٹل ایج کے نمائندوں نے مانیسر میں جدید الیکٹرانک بریک پلانٹ قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جس کے لیے تقریباً 1000 کروڑ روپے کی ابتدائی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے حکام کو اس پروجیکٹ کی رسمی کارروائیاں جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ پیناسونک لائف سلوشنز انڈیا نے جھجر میں واقع اپنے پلانٹ کی پیداواری صلاحیت پانچ لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ اے سی یونٹ سالانہ کرنے کا منصوبہ بتایا۔ اس توسیع کے لیے تقریباً 200 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کمپنی کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔برآمدات کو فروغ دینے کے لیے وزیر اعلیٰ نے حکام کو ایکسپورٹ سبسڈی کے مختلف سلیب تیار کرنے کی ہدایت دی تاکہ زیادہ سے زیادہ صنعتیں برآمدات کے لیے حوصلہ افزائی پائیں۔ صنعتوں کے مطالبے پر وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ گروگرام کے وزیر پور سے جھجر تک سڑک کو چھ لین کرنے کا منصوبہ منظور ہے اور چندو بائی پاس کو بھی منظوری دی جا چکی ہے۔اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز سے وابستہ نمائندوں نے ہندوستان میں ڈیفنس سیکٹر میں تقریباً 3000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے امکان کا اظہار کیا، جس میں ہریانہ بھی ممکنہ مقامات میں شامل ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس سرمایہ کاری کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ وزیر اعلیٰ نے صنعتکاروں سے تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور نئی ٹیکنالوجیز اپنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ہریانہ کو صنعتی اختراع کا صف اول کا مرکز بنایا جا سکے گا۔












