دربھنگہ(پریس ریلیز) : بچیوں کے لیے ہم مسلمان زیورات تو بناتے ہیں لیکن ان کی تعلیم پر سرمایہ کاری نہیں کرتے جس کی وجہ سے شادیوں کے لیے پیسے جوڑنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔موجودہ وقت میں ایک بڑا طبقہ اردو زبان سے خود کو دور کرتی جا رہی ہے ،جو اطمینان بخش نہیں۔زمینی سطح پر اس زبان کی ترویج واشاعت کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنے کی ضرورت ہے جس سے اردو کو گھر گھر تک پہنچایا جا سکے۔مذکورہ باتیں معروف نقاد پروفیسر صفدر امام قادری(شعبہ اردو کالج آف کامرس آرٹس اینڈ سائنس،پٹنہ) نے دربھنگہ صدر بلاک کے مریا گاؤں میں قاسم ایجوکیشنل فاؤنڈیشن اور عارف اقبال اردو کلاسیز کی جانب سے منعقد طلبہ حوصلہ افزائی تقریب اور علمی مذاکرہ ’’اردو زبان کی صورتحال اور روزگار کے مواقع‘‘ میں کلیدی خطبہ میں کہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچیوں کو تعلیم حاصل کرنے کا پورا موقع دیں، آج ہر میدان میں طالبہ کامیابی و کامرانی حاصل کر رہی ہے۔ پروفیسر قادری نے کہا کہ اردو زبان پڑھ کر بھی آپ زندگی کے مختلف میدان میں اچھا کر سکتے ہیں بشرطیکہ اردو کو بھی اسی طرح پڑھیں جس طرح دیگر مضامین میں محنت کی جاتی ہے۔ اردوزبان کو بھی بطور کیریئر اختیار کرنے کے بہت سے مواقع ہیں لیکن اس کے بھی وہی تقاضے جو دیگر کسی بھی مضمون کے تقاضے ہوتے ہیں۔ عارف اقبال کی طلبہ کے تئیں لگن اور انہماک کی تعریف کرتے ہوئے پروفیسر قادری نے کہا کہ ایسے اساتذہ سماج کے لیے غنیمت ہیں جو اردو کی خدمت میں تن من سے لگے ہیں اور نئی نسل کو اردو زبان سے جوڑنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔صدارتی خطاب میں پروفیسر شاکر خلیق(سابق صدر شعبہ اردو، للت نارائن متھلا یونیورسٹی، دربھنگہ) نے کہا کہ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلائیں اور اس کے لیے بھر پور محنت کریں۔ مہمان خصوصی کے طور پر شریک سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر شکیل احمد نے کہا کہ ہمارے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے۔ تعلیم، تعلیم، تعلیم اور محنت، محنت، محنت اور کوئی دوسرا شارٹ کٹ راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عارف اقبال بچوں کی ترقی کے لیے بڑی محنت کر رہے ہیں، یہ ان کے خلوص اور محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج اتنی بڑی تعداد میں یہاں طلبہ اعزاز حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے اردو زبان کی ترقی و ترویج کی تاریخ پر بھی بات کی اور کہا کہ یہ بھی ہماری دیسی زبان ہے اور اردو ہندی دونوں کو امیر خسرو اور دیگر شعرا نے مل جل کر پروان چڑھایا ہے۔ انہوں نے گھر میں اردو کا ماحول بنانے کی اپیل کی۔ مہمان اعزازی کے طور پر شریک نتیشور کالج مظفر پور کے اسسٹنٹ ڈاکٹر کامران غنی صبا نے اپنے خطاب میں کہا کہ گارجین بچیوں کو اسکول جانے سے روکتے ہیں۔ یہ مایوسی ہے۔ انہوں نے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دینے کی اپیل کی۔انہوں نے طلبہ سے کہا کہ اردو کے تئیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے پورا یقین ہے اگر عارف اقبال جیسا استاذ آپ کے پاس ہے تو آپ کامیاب ہوں گے بس آپ ایسے استاذ کی قدر کریں اور ان کی رہنمائی میں آگے بڑھتے جائے۔ پروگرام کا افتتاح محمد سلمان کے تلاوت قرآن سے ہوا۔ جبکہ بارہویں جماعت کی طالبہ نے استقبالیہ گیت پیش کیا۔پروگرام کنوینر عارف اقبال نے مہمانوں کا استقبال شال اور گلدستہ سے کیا۔ پروگرام کی نظامت کے ایس کالج کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبد الودود قاسمی اور احتشام الحق نے مشترکہ طور پر انجام دیے۔ اس موقع پرمیٹرک اور انٹر امتحان 2026میں کامیاب ہونے والے اردو داں طلبہ و طالبات کو مہمانان کرام کے ہاتھوں یادگاری تحفے، سرٹیفکیٹ اور میڈل سے حوصلہ افزائی بھی کی گئی۔ ساتھ ہی دسویں اور بارہویں جماعت میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو بھی نوازا گیا۔ وہیں قاسم فائونڈیشن کی جانب سے تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والے اساتذہ رشی کیش کمار، اسامہ عاقل اوراحتشام الحق کو ’’بہترین استاد ایوارڈ‘‘ بھی دیا گیا۔ میڈل اور سرٹیفکیٹ پانے والے طلبہ و طالبات میں شیخ محمد شمامہ، محمد سلمان، وصی احمد، ذکرا پروین، سیرت پروین،سعیدہ پروین، صوفیہ تسکین، رونق پروین، کلثوم پروین،کہکشان پروین، ساہستہ پروین، عائشہ پروین، عارفین نوری، فضاء پروین، محمد ارمان علی، عفت پروین،نور جہاں، ثناء پروین کے نام قابل ذکر ہیں جبکہ میٹرک اور انٹر میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات میں سدرہ پروین، عائشہ فاطمہ، رونق پروین، منتشا پروین، کنیز فاطمہ، ابو طلحہ، ساحل عمران، عائشہ پروین، سمیہ ناز، تبسم پروین کے نام شامل ہیں۔ عارف اقبال کے کلمات تشکر پر پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔ پروگرام میں قاسم فاؤنڈیشن کے سرپرست محمد قاسم، ڈاکٹر عبد المتین قاسمی، آصف علی، دانش اقبال، احسان مکرم پوری،محمد سجادکے علاوہ بڑی تعداد میں طلبہ و طالبات اور سرپرست موجود تھے۔












