دیوبند،سماج نیوز سروس: دیوبند تحصیل کے تحت آنے والے گائوں گنگ داس پور جٹ میں علیحدہ پچھم پردیش کی تشکیل کو لے کر نوجوانوں نے زبردست احتجاج کیا اور ایک بڑی میٹنگ منعقد کی ۔نوجوانوں کی اس خصوصی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے پچھم پردیش مکتی مورچہ اور بھارتیہ کسان یونین ورما کے صوبائی صدر بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ اب نوجوانوں نے عہد کرلیا ہے کہ ہم علیحدہ پچھم پردیش کی تشکیل ہونے تک خاموش نہیں بیٹھیں گے اورقومی صدر بھگت سنگھ ورما کی قیادت میں نئے صوبہ کی تشکیل کی جدوجہد کو دیہی اور شہری علاقوں میں پہنچ کر مضبوط کیا جائے گا ۔بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ پچھم اترپردیش کی 6کمشنریاں اور 26اضلاع نیز یہاں کی 8؍ کروڑ عوام کے ساتھ ہونے والے بھید بھائو اور ان کو نظر انداز کیا جانا کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اب یہاں کی عوام اور نوجوان علیحدہ پچھم پردیش کی تشکیل ہونے پر ہی چین کا سانس لیں گے جس کے لئے اب جدوجہد کو تیز کردیا گیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ نئے صوبہ کی تشکیل کے لئے نوجوانوں کو اس تحریک سے منسلک کیا جارہا ہے ۔بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے صوبوں کی تشکیل سے ہی اس ملک کی ترقی ممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کے چھوٹے صوبے ہریانہ ،پنجاب ،ہماچل پردیش ،اتراکھنڈ ،تلنگانہ چھوٹے چھوٹے صوبے ہیں جن کی ترقی ایک مثال ہے ،انہوں نے کہا کہ پچھم اترپردیش کو 26اضلاع حکومت کو سب سے زیادہ ٹیکس اداکررہے ہیں لیکن اس کے باوجود ان اضلاع میں بنیادی سہولیات تک کا فقدان ہے اس لئے اب ہمیں کسی بھی قیمت پر پ پچھمی پردیش کی تشکیل کرانی ہے ۔انہوں نے کہا کہ الگ صوبے کی تشکیل ہوجانے پر آگرہ ،گوتم بدھ نگر اور میرٹھ جیسے شہروں میں بڑے آئی ٹی سینٹر کا قیام ہوگا جو بنگلور اور حیدرآباد کے سینٹروں سے بھی بہتر ہوں گے ،انہوں نے کہا کہ علیحدہ صوبہ بن جانے پر تعلیم اور میڈیکل سہولیات بھی عالمی معیار کی ہوں گی ۔اس کے علاوہ اس نئے صوبے کے ہرایک شہری کی آمدنی سب سے زیادہ ہوگی ۔اس میٹنگ کی صدارت کرنے والے اور تنظیم کے قومی صلاح کار حافظ مرتضیٰ نے کہا کہ بھگت سنگھ ورما کی قیادت میں اب ایک علیحدہ صوبہ کی تشکیل کی جدو جہد تیز ہوگئی ہے ۔میٹنگ کی نظامت کو انجام دینے والے محمد ارشاد مکھیا نے کہا کہ نئے صوبہ کے تشکیل ہونے کے بعد ہی مسائل کا بہتر حل ہوسکے گا ۔












