نئی دہلی،سماج نیوز سروس: عام آدمی پارٹی نے دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کی جانب سے مبینہ آبکاری معاملے میں جج سوارنا کانتا شرما کی عدالت میں جاری کارروائی میں حصہ نہ لینے کے فیصلے کو نہایت جرات مندانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ قومی سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے پروگرام میں جا کر یہ کہنا کہ جب بھی آپ کے پروگرام میں آتی ہوں تو میرا پروموشن ہو جاتا ہے، ایسے جج سے انصاف کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ اس صورتحال میں اروند کیجریوال کا گاندھی وادی ستیہ گرہ ہی درست راستہ ہے۔ جسٹس سوارنا کانتا شرما کے سامنے نہ کوئی بحث ہوگی نہ کوئی دلیل، وہ اپنی فکر کے مطابق جو چاہیں فیصلہ کریں۔سنجے سنگھ نے کہا کہ جسٹس سوارنا کانتا شرما کے معاملے میں تین چار اہم نکات ہیں جنہیں عوام کا جاننا ضروری ہے۔ ان کے بچوں کو سرکاری فوائد حاصل ہو رہے ہیں، جس پر ہم نے اعتراض درج کیا ہے۔ یہ وہی جسٹس سوارنا کانتا ہیں جنہوں نے آبکاری پالیسی معاملے میں چھ مرتبہ ہمارے خلاف فیصلے دیے، جنہیں بعد میں سپریم کورٹ نے تبدیل کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ جج ہیں جن کے پاس ای ڈی گئی اور کہا کہ ستیندر جین کے کیس میں نچلی عدالت میں جاری سماعت پر انہیں اعتماد نہیں ہے۔ ای ڈی کے اس بیان پر جسٹس سوارنا کانتا نے اسے قبول کرتے ہوئے جج تبدیل کر دیا۔ جب ستیندر جین کے کیس میں فیصلہ آنے والا تھا، تب بھی انہوں نے نچلی عدالت کا جج بدل دیا۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ جب ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ چھ بار ہمارے خلاف فیصلہ دے چکی ہیں، سپریم کورٹ نے اُن کے فیصلے بدل دیے ہیں، ان کے بچوں کو سرکاری فائدے مل رہے ہیں اور ستیندر جین کے معاملے میں بھی وہ ایسا فیصلہ دے چکی ہیں، اس کے علاوہ وہ آر ایس ایس کے پروگراموں میں بھی جاتی رہی ہیں۔ سنگھ وہ تنظیم ہے جس نے بی جے پی کو جنم دیا اور بی جے پی نے نریندر مودی اور امت شاہ کو آگے بڑھایا، اور یہی لوگ اروند کیجریوال اور عام آدمی پارٹی کے خلاف فرضی مقدمات بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جسٹس سوارنا کانتا آر ایس ایس کے پروگراموں میں جا کر یہ کہتی ہیں کہ جب بھی وہ وہاں جاتی ہیں تو ان کی ترقی ہو جاتی ہے۔ ایسے جج سے انصاف کی کیا امید کی جا سکتی ہے؟ اسی لیے اروند کیجریوال کا فیصلہ سو فیصد درست ہے۔












