چھپرا، پریس ریلیز: امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال کی جانب سے مدرسہ حمیدیہ گودنا سارن (چھپرہ) میں مورخہ ۴؍مئی ۲۰۲۶ء روز سوموار کو عظیم الشان اجلاس منعقد ہوا، جس میں دارالقضاء کا افتتاح عمل میں آیا اور مولانا مفتی محمد افضل حسین قاسمی بیگوسرائے کو وہاں کا قاضی شریعت مقرر کیا گیا، اس افتتاحی اجلاس میں امیر شریعت بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ ومغربی بنگال حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب مدظلہ کی طرف سے قاضی شریعت کو دستار وسند قضا سپرد کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے نائب قاضی شریعت مولانا مفتی وصی احمد قاسمی صاحب نے کہا کہ ’’تاریخ اسلامی کے ہردور میں انسانوں پر قانونِ الٰہی کو نافذ کرنے کی خاطر نظام قضاء کو قائم کیا جاتا رہا ہے اور قاضی شریعت مقرر کئے جاتے رہے ہیں، ہندوستان میں بھی یہ نظام عرصہ تک جاری تھا، مگر جب انگریزوں کا تسلط ہوا تو نظام قضاء بھی متاثر ہوا، چنانچہ ملک کے فقیہ النفس عالم دین بانی ٔ امارت شرعیہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے قیام امارت کے بعد سب سے پہلے قضا کے نظام کو زندہ کیا اور مسلمانوں کو قانونِ شریعت کے مطابق اپنے عائلی اور معاشرتی تنازعات کو حل کرنے کی طاقتور عملی تحریک شروع فرمائی، ان کوششوں کے نتیجہ میں اب تک بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے مرکزی مقامات پر پنچانوے ذیلی دارالقضاء قائم ہوئے مسلمانوں کے ہزاروں معاملات شریعت کی روشنی میں حل ہوئے اور آج یہ نظام روز بروز وسیع تر ہورہا ہے، آج یہاں دارالقضاء کے قیام کا یہ عمل اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے‘‘، اس موقع پر امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکنڈ کے نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے نظام قضاء کی شرعی حیثیت پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’عدل وانصاف کے قیام سے انسانی معاشرے میں عدل ومساوات کی خوشگوار فضا قائم ہوتی ہے، اسی لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصاف کرنے والوں کو ستر سال عبادات کا ثواب ملتا ہے، یہ ایک ایسا شجرِ طوبیٰ ہے جس کا پھل مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے‘‘، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرتی جھگڑوں کو دارالقضاء کے ذریعہ حل کرائیں اور چراغ کی اس روشنی کو گھر گھر پہنچانے کی جدوجہد کریں، کیوںکہ قانونِ شریعت کے مطابق فیصلہ کو تسلیم کرنے سے عزت وآبرو اور مال ودولت کی حفاظت ہوتی ہے، اس لئے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ دارالقضاء کے اس نظام سے فائدہ اٹھائیں‘‘، انہوں نے امارت شرعیہ کے قیام کے اسباب ومحرکات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ ’’ایک امیر کے ماتحت متحد ومنظم زندگی گذاریں‘‘، مولانا رضوان احمد ندوی معاون ناظم امارت شرعیہ نے قرآن وحدیث کی روشنی میں کہا کہ ’’عدل وانصاف کو قائم کرنا اسلام کا بنیادی حصہ ہے، اس لئے اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اس کو قائم کرنے کی تاکید کی ہے‘‘، مولانا مفتی مجیب الرحمن قاسمی معاون قاضی شریعت نے کہا کہ ’’امارت شرعیہ کے دارالقضاء کے ذریعہ ہزاروں مقدمات کے فیصلے ہوئے اور مسلمانوں نے ان فیصلوں کو ایمانی قوت کے ساتھ تسلیم کیا، جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ان کی جہاں دنیا سنور گئی، یقین مانئے کہ آخرت میں بھی اس کے درجات بلند ہوںگے‘‘، جناب مولانا محمد راشد انور قاسمی معاون قاضی شریعت نے وحدت واجتماعیت کے ساتھ زندگی گذارنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’اسلامی عبادت کی روح اتحاد واتفاق پر ہے، ہم سب لوگ مل جل کر ایک امیر شریعت کے ماتحت متحد ومنظم زندگی گذاریں اور اس نظامِ قضاء کو قوت بخشیں‘‘، دارالقضاء امارت شرعیہ سیوان کے قاضی شریعت مولانا محمد مرتضیٰ صاحب نے بھی اظہار خیال فرمایا، مجلس استقبالیہ کے صدر جناب مولانا محمد ظفر عالم قاسمی صاحب نے اپنے خیرمقدمی کلمات میں امیر شریعت حضرت مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب مدظلہ، صدر قاضی شریعت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب دامت برکاتہم اور ناظم امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ وجھارکھنڈ مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب دامت برکاتہم کاشکریہ ادا کیا کہ ان بزرگوں نے ہم لوگوں کی درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا اور یہاں دارالقضاء قائم کرنے کا فیصلہ کیا، ہم مجلس استقبالیہ کی طرف سے حضرت امیر شریعت اور اپنے مہمانوں کا بھی دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کرتے ہیں، مدرسہ حمیدیہ گودنا کے ناظم اور مجلس استقبالیہ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد اسلم ازہری صاحب نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مدرسہ حمیدیہ کی سوسالہ خدمات کا ایک سرسری خاکہ پیش کیا اور کہا کہ ’’اس ادارہ کو امیر شریعت خامس حضرت مولانا عبد الرحمن صاحبؒ نے خونِ جگر سے سینچا اور پروان چڑھایا، ان شاء اللہ اس وقت جو دارالقضاء قائم ہورہا ہے، اس سے ادارہ کی تعلیمی شہرت وناموری بھی ہوگی اور یہ ادارہ ترقی بھی کرے گا۔ مجلس استقبالیہ کے دوسرے ذمہ دار اصحاب جناب ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب (سرپرست) جناب حاجی تنویر احمد صاحب، جناب ماسٹر توقیر عالم صاحب، جناب محمد ساغر صاحب، جناب مولانا ارشد صاحب قاسمی(مدرسہ حمیدیہ)، جناب سعادت حسین عرف ننھے صاحب، مدرسہ کے متولی جناب محمد احسن خان صاحب ایڈوکیٹ اور ان کے صاحبزادے سمیت متعدد اصحاب فکر ودانش نے دارالقضاء کے قیام پر خوشی ومسرت کا اظہار کیا اور اس افتتاحی اجلاس کو کامیاب بنانے میں مثالی کردار نبھایا، مدرسہ کے سابق پرنسپل حضرت مولانا محمد مصطفی صاحب نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’عرصہ سے یہاں دارالقضاء کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی، جس کی آج تکمیل ہورہی ہے، راشٹریہ جنتا دل کے سینئر سیاسی قائد جناب عبد الباری صدیقی صاحب ایم ایل سی نے قیام دارالقضاء پر مبارک باد دیتے ہوئے حضرت امیر شریعت کا شکریہ ادا کیا، مجلس استقبالیہ کے ذمہ داروں نے اور جناب جاوید اقبال ایڈوکیٹ صاحب رکن شوریٰ وعاملہ امارت شرعیہ نے اس اجلاس کو کامیاب بنانے میں جس طرح محنت کی اس کے لئے یہ سب لوگ ہم لوگوں کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں، نیز مولانا ظہیر الحسن شمسی صاحب مبلغ امارت شرعیہ اور ان کے رفقاء نے اس اجلاس کی کامیابی کے لئے بڑی کدوکاوش کی، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے، دعا سے قبل مقرر کردہ قاضی شریعت مولانا افضل حسین قاسمی صاحب کو استقبالیہ کے ذمہ داروں نے شال پوشی کے ذریعہ عزت افزائی کی، نیز امارت شرعیہ سے تشریف لانے والے تمام مہمانوںکو بھی شال پوشی سے اکرام واعزاز بخشا، پھر امارت شرعیہ کے علماء کرام نے قاضی صاحب کو کارِ قضاء سنبھالنے کے لئے مسند قضاء پر بٹھایا، آخر میں یہ نشست حضرت مولانا مصطفی صاحب مدظلہ کی دعا پر اختتام کو پہونچی۔












