دیوبند،سماج نیوزسروس: دارالعلوم دیوبند کی مجلس عاملہ کایک روزہ اجلاس گزشتہ شب ادارہ کی تعلیمی و تعمیری ترقی نیز جدید طلبہ کی داخلوں کی منظوری اور دیگر اہم فیصلوںکے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔دارالعلوم دیوبند کے مہمان خانہ میں منعقد یہ یک روزہ اجلاس دو نشستوں پر مشتمل تھا،جس میں ادارہ کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی ، صدر المدرسین مولانا سید ارشد مدنی کے علاوہ مولانا سید محمود اسعد مدنی، مولانا مفتی محمد اسماعیل مالیگاوں، مولانا رحمت اللہ کشمیری، مولانا انوارالرحمن بجنوری، مولانامحمود راجستھانی اور مولانا ملک محمد ابراہیم مدراسی شامل ہوئے جبکہ مجلس عاملہ کے رکن اور حالیہ انتخاب میں آسام کے ضلع ہوجائی کی بننا کنڈی سے نومنتخب رکن اسمبلی مولانا بدرالدین اجمل شریک اجلاس نہیں ہوئے۔اجلاس میں حال ہی میں وفات پانے والے علماء کرام کے انتقال پر رنج و غم کے اظہار کے ساتھ ان کی ارواح کے لیے ایصال ثواب کیا گیا اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔مجلس عاملہ کے اجلاس میں حسب معمول اجلاس مجلس شوری منعقدہ ماہ شعبان کی کارروائی کی خواندگی عمل میں آئی اور خواندگی کے دوران زیر غور مسائل پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں مجلس تعلیمی کی رپورٹ پیش کی گئی اور تعلیم سے متعلق امور پر اہم فیصلے لیے گئے۔اجلاس میں دارالعلوم کے تعمیری و انتظامی امور پر بھی غور و خوض ہوا اور ضروری فیصلے لیے گئے۔اس دوران جدید داخلوں کی منظوری دی گئی اور تعلیم نظام کے تعلق سے اہم گفت و شنید ہوئی۔ اس کے علاوہ طلبہ کو مزید سہولیات فراہم کرنے اور حکومت کی جانب سے مدارس اسلامیہ کے تعلق سے کئے جانے والوں فیصلوں اور بیانات کے تعلق سے غور کیاگیا۔ مجلس کے دوران محاسبی، تعمیرات، اساتذہ و ملازمین اور گیس کی قلت جیسے مسائل بھی زیر غور آئے۔ الغرض اہم تعلیمی و انتظامی تجاویز کی منظوری اور ملک وملت کے لیے دعاو ں کے ساتھ مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔












