سرینگر /22جنوری /اعجاز ڈار ناروال جموں میں دو دھماکوں کے بعد سخت ترین سیکورٹی انتظامات کے بیچ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی قیادت میں بھارت جوڑو یاترا جموں کے کٹھوعہ ضلع کے ہیرا نگر علاقے سے دوبارہ شروع ہوئی۔دھماکوں کے بعد سیکورٹی میں مزید اضافہ کیا گیا ہے اور یاترا کے پُر امن انعقاد کیلئے فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ایک دن کے وقفے کے بعد کڑے سیکورٹی انتظامات کے بیچ بھارت جوڑو یاترا دوبارہ بحال ہوئی ۔ اتوار کی صبح پیدل مارچ شیڈول کے مطابق صبح 7 بجے کے قریب ہیرا نگر سے جموںپٹھانکوٹ ہائی وے کے ساتھ بین الاقوامی سرحد کے قریب سے شروع ہوا جسے پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز نے سیل کر دیاتھا ۔ بھارت جوڈو یاترا میں کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے ساتھ جموں کشمیر پردیش کانگریس کے سربراہ وقار رسول وانی، ورکنگ صدر رمن بھلا اور ترنگا لے کر سینکڑوں رضاکار بھی شامل تھے ۔ گاندھی صبح 8 بجے کے قریب لونڈی چیک پوائنٹ کو عبور کرنے کے بعد سانبہ ضلع کے تپیال گگوال میں داخل ہوئے اور دونوں طرف انتظار کرنے والے پرجوش کارکنوں اور حامیوں نے ان کا استقبال کیا۔تقریباً 25 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعدمارچ سانبہ کے وجے پور سے جموں کیلئے دوبارہ شروع ہونے سے پہلے چک نانک میں ایک رات کو ٹھہرے گا۔ ادھر یاترا کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کئے گئے ہیں ۔ حکام کے مطابق راہول گاندھی کے لئے پولیس، سی آر پی ایف اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ پرامن مارچ کو یقینی بنانے کے لئے سخت نگرانی کے لئے کافی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔مارچ 7 ستمبر کو کنیا کماری سے شروع ہوا اور جمعرات کو پنجاب سے جموں و کشمیر میں داخل ہوا۔ یاترا سرینگر میں 30 جنوری کو راہول گاندھی کے ذریعہ کانگریس ہیڈکوارٹر پر قومی پرچم لہرانے کے ساتھ ختم ہونے والی ہے۔












