دیوبند،سماج نیو زسروس:مجلس صیانۃ الحق کے زیرِ اہتمام خانقاہ امدادیہ اشرفیہ تھانہ بھون میں ایک روحانی و اصلاحی مجلس کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری اور خانقاہ رحمانیہ مالیگاؤں کے ناظمِ اعلیٰ و سجادہ نشیں مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے خصوصی شرکت کی ۔یہ مجلس خانقاہ تھانہ بھون کے مسند نشیں، ناظم و متولی مولانا سید نجم الحسن کی سرپرستی میں منعقد ہوئی، اپنے خطاب میں مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی نے کہاکہ حکیم الامت مجددِ ملت مولانا اشرف علی تھانوی کی اس عظیم اور بافیض خانقاہ میں میری حاضری ایک خادم اور نیازمند کی حیثیت سے ہے۔ یہی وہ تاریخی مرکز ہے جہاں سادگی، اخلاص اور چٹائیوں پر بیٹھ کر ایک عظیم مردِ خدا نے امت کی ایسی تجدیدی خدمت انجام دی، جس کی مثال صدیوں میں کم ہی ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ خانقاہ تھانہ بھون نے ایسے رجالِ کار اور باکمال افراد تیار کیے جن کے ذریعے لاکھوں انسانوں کو دین و روحانیت کا فیض پہنچا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک جملہ نقل کرتے ہوئے کہاکہ‘‘حکیم الامتؒ کے خلفاء کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ دریا کیا ہوگا جس کے قطرے بھی سمندر ہوں۔’’انہوں نے کہا کہ اگر انسان اپنی روح کو پاکیزہ بنانا چاہتا ہے، دل کو نورِ ایمان سے منور کرنا چاہتا ہے اور زندگی میں حقیقی سکون حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے کسی نہ کسی صاحبِ نسبت بزرگ سے اصلاحی تعلق ضرور قائم کرنا ہوگا۔مجلس میں علماء، طلبہ، مشائخ، اہلِ تعلق اور عوام کی بڑی تعداد شریک رہی۔مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی کا شمار ملک کی ان ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے دینی خدمات، اصلاحِ امت، ملی قیادت اور روحانی تربیت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ آپ کی شخصیت علم و عمل، خطابت و روحانیت، تنظیمی صلاحیت اور فکری بصیرت کا حسین سنگم ہے۔مولانا کو متعدد بزرگوں سے اجازت و خلافت حاصل ہے، جن میں مولانا عبداللہ مغیثی، مولانا مصطفی رفاعی جیلانی، مولانا یونس پالن پوری اور صوفی میاں جی محمد رمضان میواتی خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔ آپ کا بنیادی روحانی سلسلہ قادریہ نقشبندیہ مجددیہ ہے، جبکہ سلسلہ چشتیہ، سہروردیہ، رفاعیہ اور شاذلیہ وغیرہ میں بھی اجازت حاصل ہے۔












