صادق شروانی
نئی دہلی،سماج نیوز سروس: ترلوک پوری کے متاثرہ مسلمان ورلڈ پیس ہارمنی کےچیئرمین حاجی شکیل سیفی کی تلاش کر رہے ہیں۔اور مختلف ذرائع سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح سے ان کا یہ پیغام حاجی شکیل سیفی تک پہنچ جائے اور وہ ہماری مدد کے لیے آگے آئیں۔واضع رہے کہ دہلی میں واقع ترلوک پوری میں گذشتہ دنوں مدرسہ کے طالب علم ایان سیفی کو اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ پارک میں کھیل رہا تھا۔اس طرح کے الزامات عائد کرتے ہوئے مقتول کی والدہ اور نانی کا کہنا ہے کہ ان کا بچہ چھٹیوں میں گھر پر آیا تھا اور اپنے دوستوں کے ساتھ پارک میں کھیل رہا تھا۔ تبھی آٹھ سے دس لڑکوں نے مل کر اس پر چاقوں سے زبردست حملے کئے جس کی وجہ سے علاج کے دوران ایان سیفی (۱۶ سال) زخموں کی تاب نہ لاسکا اور دم توڑ دیا۔ گھر والوں کا رو رو کر برا حال ہے تو وہیں ملزمان کی گرفتاری اور قانونی کارروائی کے لیے تنظیموں اور وکلائ سے گہار لگائی جا رہی ہے کہ وہ اس معاملے میں آگے آکر ان کی مدد کریں۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک ہمیں اس طرح کی مدد کی پیشکش نہیں ہوئی ہے۔حالانکہ گذشتہ روز آل انڈیا جمعیۃ علمائے ہند کے وفد نے بھی پولیس افسران سے لے کر متوفی کے گھر والوں سے جن میں والدہ اور نانی تھیں سے ملاقات کی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے کو ٹھنڈے بستے میں نہیں جانے دیں گے۔ جب تک دہلی پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کر لیتی ہے ہمارا مطالبہ اور احتجاج جاری رہےگا۔پتا چلا ہے کہ اس سب کے باوجود ترلوک پوری کے لوگ حاجی شکیل سیفی کو تلاش کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ جس طریقے سے ورلڈ پیس ہارمنی کے بینر تلے حاجی شکیل سیفی اس طرح کے واردات اور حادثات کے دوران لوگوں کی مدد کرتے رہتے ہیں، ہم بھی مظلوم ہیں اور ہم نے سنا ہے کہ ان دنوں مظلوموں کا سب سے بڑا سہارا اور ساتھی ورلڈ پیس ہارمنی کی شکل میں حاجی شکیل سیفی ہیں۔آئے دن اخبارات اور دیگر ذرائع سے یہ خبریں موصول ہوتی ہیں کہ شکیل سیفی کے ذریعے فلاح خاندان کی مدد کی گئی ۔ ان کو نہ صرف مالی مدد پہنچائی گئی بلکہ قانونی مدد کی بھی یقین دہانی کراتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ لیکن حاجی شکیل سیفی نے ابھی تک ترلوک پوری کا رخ کیوں نہیں کیا ہے یہ بہت افسوس کی بات ہے۔متاثرہ خاندان ، گلی اور محلے میں رہائش پذیر لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے قبل حاجی شکیل سیفی کے ذریعہ مراد نگر میں ہوئے حادثے میں قانونی مدد کے ساتھ ساتھ مالی مدد میں ان کی جانب سے کئی لاکھ روپئے دئے گئے تھے۔اسی طریقے سے انوپ شہر میں ایک حادثے کے شکار گھر والوں کو ایک لاکھ روپئے کی مالی مدد کی گئی۔ غازی آباد سے سٹے لونی علاقہ میں ایک لڑکی پر ظلم کیا گیا تھا جس کی مدد کے لیے اس وقت ورلڈ پیس ہارمنی آگے آئی اور کئی لاکھ روپئے کی مالی مدد پہنچائی گئی۔ سنبھاولی میں بھی اسی طرح کی مالی مدد ہم نے سوشل میڈیا پر دیکھی تھی جس میں شکیل سیفی کے ہاتھوں میں نوٹوں کی گڈیاں تھیں اور وہ متاثرہ کو دیتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ اسی طریقے سے مظفر نگر ضلع کے ایک سیفی لڑکے کو جس کے ساتھ موب لنچنگ کا حادثہ ہوا تھا اس میںبھی ان کو مالی مدد کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔نمائندے سے بات کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ بھلے ہی حکومت اور الیکٹرانک کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا میں آپریشن سندور کی سالگرہ منائی جا رہی ہو، کشمیر کے اس حادثے کو تقریباً ایک سال ہو گیا، پہلگام حادثے میں بھی سیاحوں کی جان بچانے والے سید عادل حسین شاہ کے اہل خانہ کو ڈھائی لاکھ روپئےکی مالی مدد پہنچائی گئی۔ اتنا ہی نہیں گذشتہ دنوں پنجاب میں سیلاب سے تباہی کے شکار کسانوں کو پانچ لاکھ روپئے کی فوری مدد دی گئی۔لوگوں کا کہنا ہے کہ ہم نے سنا ہے کہ اس وقت بغیر کسی ذات برادری اور مذہب کو بغیر دیکھے شکیل سیفی کے ذریعہ مظلوم کی مدد کی جاتی ہے لیکن آخر ایسی کیا مجبوری ہے کہ شکیل سیفی نے ابھی تک اس معاملے پر لب کشائی نہیں کی ہے۔واضح رہے کہ یکم مئی 2026 کو مشرقی دہلی کے ترلوک پوری میں ایان سیفی (۱۶) کو چاقو مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق ان کا بیٹا ایان اپنے دوستوں کے ساتھ پارک میں کھیل رہا تھا۔ تبھی آٹھ سے دس لوگوں کے گروپ نے ایان کا پیچھا کیا اور اس کی پیٹھ پیٹ اور پیروں پر چاقوں سے کئی مرتبہ حملہ کیا۔ جس میں وہ بری طرح زخمی ہو گیا اور اسپتال میں علاج کے دوران اس کی جان چلی گئی۔












