دھرم شالا، (یو این آئی) پنجاب کنگس نے ابھی تک ارشدیپ سنگھ سے باضابطہ طور پر یہ نہیں کہا ہے کہ وہ اپنے انسٹاگرام ہینڈل پر وی لاگز یا ریلز پوسٹ کرنا بند کریں۔ تاہم کرکبز کی رپورٹ کے مطابق، فرنچائز ہفتہ کی شام کھلاڑیوں، خصوصاً ارشدیپ سنگھ، سے ملاقات کرے گی اور انہیں ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کی حالیہ ایڈوائزری پر عمل کرنے کے لیے کہے گی۔ہندوستان اور پنجاب کنگز کے تیز گیندباز ارشدیپ سنگھ ایک سرگرم وی لاگر ہیں اور انسٹاگرام پر ان کے 60 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ وہ باقاعدگی سے ریلز پوسٹ کرنے کے لیے مشہور ہیں، جو سوشل میڈیا پر کافی مقبول ہیں۔ اسی وجہ سے بی سی سی آئی کے منتظمین اور عہدیداروں کی توجہ اس جانب گئی ہے۔ اب آئندہ ویڈیوز صرف فرنچائز کے سرکاری ہینڈل کے ذریعے ہی بنائی اور پوسٹ کی جائیں گی۔پنجاب کنگز ہفتہ کی شام دھرم شالا کے ایچ پی سی اے اسٹیڈیم میں پریکٹس سیشن کے بعد کھلاڑیوں کے ساتھ میٹنگ کرے گی اور نئی ہدایات پر عمل درآمد کی تصدیق کے طور پر ان سے دستخط بھی لیے جائیں گے۔اطلاعات کے مطابق ابتدا میں توقع تھی کہ پنجاب کنگز کے شریک مالکان اس میٹنگ میں کھلاڑیوں سے خطاب کریں گے، لیکن پرواز کا راستہ تبدیل ہونے کے سبب وہ دھرم شالا نہیں پہنچ سکے۔ اب فرنچائز کے سی ای او ستیش مینن کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر ہدایات سے آگاہ کریں گے اور ان سے ان پر عمل کرنے کا عہد لیں گے۔جیسا کہ سب سے پہلے کرک بز نے رپورٹ کیا تھا، بی سی سی آئی نے آئی پی ایل کھلاڑیوں، سپورٹ اسٹاف، منیجروں، فرنچائز عہدیداروں اور مالکان کے لیے ’’کیا کریں اور کیا نہ کریں‘‘ پر مشتمل ایک فہرست جاری کی ہے۔ اس میں مہمانوں سے ملاقات، انہیں ٹیم ہوٹل میں آنے کی اجازت، سگریٹ نوشی یا ویپنگ، ایکریڈیشن کارڈ دکھانا اور پی ایم او اے گائیڈلائنز پر عمل کرنا شامل ہے۔بی سی سی آئی کی ہدایات کے مطابق ہر ٹیم منیجر کے لیے ضروری ہے کہ وہ احکامات موصول ہونے کے 48 گھنٹوں کے اندر ٹیم کے ساتھ میٹنگ کرے۔ پنجاب کنگز ہفتہ کی شام یہ عمل مکمل کرے گی، جو مقررہ مدت کے اندر ہوگا۔رپورٹ کے مطابق، بی سی سی آئی ’’ٹیم منیجر اور/یا فرنچائز کے مجاز نمائندے کو ان ہدایات پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اور انفرادی طور پر ذمہ دار‘‘ مانتا ہے۔ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ منیجرز ’’48 گھنٹوں کے اندر ایک لازمی ٹیم بریفنگ منعقد کریں تاکہ تمام کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کو ان ہدایات سے آگاہ کیا جا سکے، اور ہر کھلاڑی و سپورٹ اسٹاف رکن سے تحریری تصدیق حاصل کی جائے کہ انہوں نے ان ہدایات کو حاصل اور سمجھ لیا ہے۔‘‘












