ڈہری آن سون،(پریس ریلیز: انسانی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت عمل وکردار اور کوشش وجدوجہد کی ہے،محنت ولگن اور عملی کوششوں ہی سے انقلاب آتاہے اور تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ،اس لئے ہم سب کو پہلی توجہ عمل اور تعمیر وترقی کی راہ میں کوشش وجدوجہد پر دینی چاہئے،آج کا یہ خصوصی تربیتی اجلاس دراصل اسی فکر کو مہمیز دینے اوراسی عملی جذبہ کو بیدار کرنے ،نیز کوششوں کی راہ پر کس طرح چلاجائے ،اسی کے رنگ وآہنگ کو سمجھنے اور سمجھانے کے لئے منعقد ہوا ہے،آپ سب آج کے اجلاس سے یہ ذہن بناکے واپس جائیں کہ مجھے بحیثیت نقیب یا نائب نقیب جو ذمہ داریاں دی گئی ہیں اوراس دینی منصب ومقام کا جو تقاضہ ہے ہر قیمت پر اس کا پاس ولحاظ رکھیں گے،اگر آپ ایسا کریں گے تو یقینا جس حلقہ کے آپ نقیب ونائب نقیب ہیں اس میں امارت شرعیہ کی فکر آگے بڑھے گی اور آپ کے ذریعہ معاشرہ میں بہتر تبدیلی رونما ہوگی، ان خیالات کا اظہار مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ امیر شریعت بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے آج مورخہ ۱۰؍مئی ۲۰۲۶ء کو شہر ڈہری اون سون کے انجینئر للن سنگھ اسپورٹس کلب، ذکی بیگہ کے پرشکوہ ہال میں منعقد ضلع رہتاس کے نقباء ونائبین پر مشتمل خصوصی تربیتی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا،انہوں نے اس موقع پر کاموں کی عملی ترغیب اور تربیت کے لئے کئی جہتوں سے آپسی مذاکرے اور سوالات وجوابات کے حلقے بھی لگوائے ،حاضرین نے نہایت دلچسپی کے ساتھ حضرت امیر شریعت مدظلہ کے ان تربیتی پہلوئوں سے فائدہ اٹھایا،، اس اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے صدر مفتی وناظم اعلی امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی نے کہاکہ فکر امارت کی اساس کتاب وسنت ہے اور اس کے پورے نظام کا رشتہ اس سلسلہ خلافت وامارت سے جڑتاہے جو کائنات کے آخری پیغمبر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایاتھا، اس لئے اس نظام سے وابستگی کو بڑی ایمانی ضرورت اورشرعی تقاضہ تصور کرنا چاہئے،آپ نے اس موقع پر امارت شرعیہ کی طرف سے جاری مختلف سرگرمیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے نقباء ونائیبن سے توقع ظاہر کی کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں نہ صرف پیغام امارت کو عام کریں گے بلکہ امیر شریعت کے نمائندہ کی حیثیت سے تعمیر ملت کے ہرکام میں بر چڑھ کر حصہ لیں گے۔امارت شرعیہ کے صدر قاضی موانامفتی محمدانظار عالم قاسمی نے نہایت جامع انداز میں نظام قضاء کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور کہاکہ اپنے معاملات کو دارالقضاء میں پیش کرنا آپ کا اختیاری عمل نہیں بلکہ شرعی فریضہ ہے ،اسی طرح یہ سوچنا کہ دارالقضاء میں صرف طلاق ونکاح کے معاملات حل ہوتے ہیں اور اسی قسم کے معاملات کو دارالقضاء میں پیش کیا جاتاہے یہ صحیح نہیں بلکہ ہروہ معاملہ جو سول ضابطہ کے تحت آتے ہیں ان سب کے حل کے لئے دارالقضاء کی طرف رجوع کرنا ایک بڑا ایمانی تقاضہ ہے۔امارت شرعیہ کے نائب ناظم وانچارج شعبہ تنظیم مولانامفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نقباء ونائبین کو ان کے منصب ومقام اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرتے ہوئے اس وقت پہلے مرحلہ میں دو کاموں کو پورا کرنے کی ذمہ داری ان کے حوالے کی، پہلا کام مردم شماری کے جاری عمل کو اپنے اپنے حلقہ میں پوری نگرانی اور توجہ کے ساتھ پورا کرانا اور دوسرا کام اپنے حلقہ کاایسا سروے جس میں تعلیمی ،معاشی اور دینی بیداری کی نوعیت اور آبادی کے موجودہ حالات وضروریات درج ہوںرپورٹ کی شکل میں تیار کرکے امارت شرعیہ کے مرکزی دفتر کوفراہم کرانا ۔امارت شرعیہ کے معاون ناظم مولانااحمد حسین قاسمی مدنی نے امارت شرعیہ کی تاریخی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ اسلامی تاریخ کے ہردور میں نظام امارت کا وجود کسی نہ کسی انداز میں ہمیشہ موجود رہا ہے، ہندوستان میں سامراجیت کے غلبہ کے بعد جب اس فکر کی بیخ کنی شروع ہوئی تو وقت کے ممتاز علماء نے نہ صرف اس فکر کو بچایا بلکہ اس ملک میں امارت شرعیہ کا مضبوط ڈھانچہ قائم کیا جس کے فیض سے آج امت مستفیض ہورہی ہے۔معاون ناظم امارت شرعیہ مولانا قمر انیس قاسمی نے امارت شرعیہ کا تعارف اور اس کی خدمات پر نہایت جامع انداز میں روشنی ڈالی۔قاضی شریعت ضلع رہتاس مولانا احسان الحق قاسمی نے استقبالیہ کلمات کے ساتھ نقباء کو تعلیمی ترقی اور خدمت خلق کے میدان میں نئے جذبہ کے ساتھ آگے آنے کی دعوت دی۔اجلاس کا آغاز مولانا انعام الحق قاسمی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ،نعت پاک مولانا احباب العین نے پیش کی،جبکہ نظامت کی ذمہ داری جب مولانامفتی محمد سہراب ندوی قاسمی نے بحسن وخوبی انجام دی۔اجلاس صبح ۱۰؍بجے شروع ہوا اور ظہر سے قبل حضرت امیر شریعت مدظلہ کی دعاپر بحسن وخوبی اختتام پذیر ہوا۔اس اجلاس کو کامیاب بنانے میں استقبالیہ کمیٹی کے ذمہ داران ،مدرسہ فلاح دارین کے اساتذہ وطلباء اور امارت شرعیہ کے شعبہ تبلیغ وتنظیم کے رفقاء ومبلغین نے کلیدی کردار نبھایاحضرات مبلغین میں مولانا مزمل حسین قاسمی،مولانا رفیع احمد ندوی،مولانا نعمان احمد قاسمی،مولانا خالد انور قاسمی،مولانا عثمان رحیمی،مولانا عبدالجبار حسامی، مولانا فیروز ،قاری شفیع اللہ رحمانی،مولانا نوشاد عالم قاسمی کے نام قابل ذکر ہے۔ اجلاس میں بڑی تعداد میں پورے ضلع رہتاس کے نقباء ونائبین نے شرکت کی۔












