لکھنؤ، ی،سما ج نیوز سروس : ملک میں ڈیجیٹل اور آف لائن مردم شماری (Census) کے پہلے مرحلے کے باقاعدہ آغاز پر جمعیۃ علماء اتر پردیش کے صدرمفتی سید محمد عفان منصورپوری نے تمام شہریوں بالخصوص اقلیتوں اور مسلمانوں سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اس قومی فریضے میں پوری بیداری اور ذمہ داری کے ساتھ حصہ لیں۔ اپنے ایک پریس بیان میں مفتی سید محمد عفان منصورپوری نے فرمایا کہ مردم شماری محض ایک سرکاری اعداد و شمار کا کھیل نہیں ، بلکہ یہ ہماری ملی، سماجی اور دستوری شناخت کی بقا اور ملکی ترقیاتی منصوبہ بندی کا کلیدی خاکہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کوئی بھی گھرانہ یا فرد اس اندراج سے محروم نہ رہے، عوام کسی بھی قسم کی بے بنیاد افواہوں پر دھیان دیے بغیر دیانتداری کے ساتھ اپنی درست معلومات درج کرائیں۔ اس حساس موقع پر جمعیۃ علماء اتر پردیش کے ناظم اعلیٰ، مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی کی جانب سے ریاست بھر کی تمام ضلعی اور مقامی اکائیوں کو ایک خصوصی تفصیلی سرکلر جاری کیا گیا ہے۔ سرکلر کے حوالے سے مولانا قاسمی نے جمعیۃ کے تمام ذمہ داران اور کارکنان کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ اس کام کو محض کاغذی کارروائی کے بجائے ایک منظم ’ملی و سماجی جدوجہد‘ اور تحریک کے انداز میں انجام دیں۔ مولانا عبداللہ قاسمی نے ضلعی عہدیداران اورکارکنان پر زور دیا ہے کہ وہ مساجد کے ائمہ کرام اور خطباء سے ذاتی ملاقات کر کے ان سے درخواست کریں کہ جمعہ کے خطبات میں اس کی اہمیت اجاگر کی جائے۔ مزید برآں تنظیم کے کارکنان محلوں اور پسماندہ بستیوں میں باقاعدہ ’رہنمائی کیمپس‘ کا انعقاد کریں تاکہ ایسے افراد کا آن لائن اور آف لائن اندراج کرانے میں عملی تعاون کیا جا سکے جو تکنیکی وسائل سے نابلد ہیں۔ واضح رہے کہ مردم شماری کا آن لائن مرحلہ 7 سے 21مئی تک جاری ہے جس میں شہری خود پورٹل پر معلومات درج کر کے ۱۱ ہندسوں کی شناختی آئی ڈی (جو حرف H سے شروع ہوتی ہے) حاصل کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں 22مئی سے 20جون تک اہلکار گھر گھر آئیں گے۔ جمعیۃ علماء نے عوام کی رہنمائی کے لیے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس پورے عمل میں آدھار کارڈ، پین کارڈ، بینک کی معلومات یا کوئی او ٹی پی (OTP) بتانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے، البتہ آنے والے اہلکار کا شناختی کارڈ ضرور چیک کیا جائے۔












