• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, مئی 26, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

یوم جمہوریہ: ہندوستان کیسی جمہوریت کی ماں ہے!

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 23, 2023
0 0
A A
یوم جمہوریہ: ہندوستان کیسی جمہوریت کی ماں ہے!
Share on FacebookShare on Twitter

عابد انور

ہندوستان نے اپنا74واں یوم جمہوریہ بہت تزک و احتشام کے ساتھ منانے پر دہانے پرہے۔ رنگا رنگ تقاریب کے ساتھ راج پتھ پر ہندوستان نے اپنی طاقت کا زبردست مظاہرہ اور اپنے دشمنوں کو یہ بھی بتا دیا جا گا کوئی اس کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی دیکھنے کی کوشش نہ کریں ورنہ اس کا انجام بہت برا ہوگا۔ ملک میں ہونے والی گوناگوں ترقی کو بھی دکھایا جائے گااور اس موقع پر بہادر جوانوں اور سیکورٹی فورسیز کو مختلف میڈل بھی پیش کئے جائیںگے۔ اس موقع پر ہندوستان کی طاقت کا مظاہرہ کیا گیا اور دنیا کو دکھا دیا کہ ہندوستان کسی ملک سے کم نہیں ہے اور دفاعی تکنالوجی میں وہ کئی ممالک کے ہم پلہ اور ہم سر ہے۔ جمہوریت کے گانے اور ترانے بھی بجائے جائیں گے لیکن ملک کو صحیح معنوں میں اس وقت حقیقی جمہوری ملک اس وقت تک نہیں کہا جاسکتا جب تک اس کا فیض دورافتادہ علاقے اور گاؤں تک نہ پہنچ جائے۔ جب ہم قومی راجدھانی سے دور دراز علاقوں کا جائزہ لیتے ہیں تو اس وقت محسوس ہوتا ہے کہ یہ علاقے جمہوریت کے فیض سے کوسوں دور ہیں۔ جمہوریت کے نفاذ کے سات عشرے گزرنے کے بعد بھی آج اکثریت ان کی ہے جو جنہیں پیٹ بھرکھانا نصیب نہیں ہوتا۔ وہ تمام شہری سہولتوں سے محروم ہیں۔ سرکاری اس کاموں کا فائدہ ان تک نہیں پہنچ رہا ہے۔ اس سمت میں سخت قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ عوامی نمائندگان بھی جمہوریت کا فیض عوام تک پہنچانے میں ناکام رہے ہیں۔ ہندوستان کی جمہوریت کی درجہ بندی گزشتہ آٹھ برسوں سے لگاتار نیچے گررہی ہے۔ اس وقت اس کی رےیکنگ 93 ہے جو پڑوسی ملک نیپال ( 71) بھوٹان ( 65) سری لنکا (88) اور پاکستان 117ہے۔ صرف پاکستان ہی پڑوسی ملکوں میں پاکستان ہی سے ہندوستان کی رینکنگ اچھی ہے جو کہ اکثریتی طبقہ کے لئے راحت کی بات ہے۔ ہندوستان کا دعوی ہے کہ وہ جمہوریت کی ماں ہے جب کہ ملک میں کہیں بھی حقیقی جمہوریت نظر نہیں آتی۔ اسٹیٹ ٹرےرزم کو انصاف کہتے ہیں، اکثریتی جذبات کے خیال کی پاسداری کو آئےن تصور کرتے ہیں۔ ماورائے قتل کو جذبات کی تسکین تصور کیا جاتا ہے۔
ہندوستانی لیڈران جو آئین و انصاف کی پاسداری کے نام پر منتخب ہوکر آتے ہیں وہ کسی بھی معاملے کی آزادانہ تحقیقات، حراستی ظلم اور اموات کو بہت ہلکے انداز میں لیتے ہیں اور کبھی بھی تحقیقات کے تئیںسنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جب بھی الیکشن کا موقع ہوتا ہے وہی لیڈران (خواہ وہ کسی بھی پارٹی سے ہو) انسانی حقوق ، حراستی اموات اور قانون و انتظام کو اپنی انتخابی مہم کا اہم موضوع بناتے ہیں اور ہر سیاسی مباحثہ اور مناظرہ میں یہ موضوع چھایا رہتا ہے۔ جمہوریت ایک نظام کا نام ہے جہاں جمہوریت پر بحث ہونی چاہئے، اجتماعیت، فراخدلانہ، غیرجانبدارانہ اور آزادانہ خیال کا مظاہرہ ہونا چاہئے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہندوستانی سیاست اور جمہوریت میں کبھی ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا ہے بلکہ اوچھی سیاست، سماجی ناسور، نفرت پھیلانااور ایک فرقہ میںدوسرے فرقہ کے خلاف زہر بھرنا وغیرہ کا مظاہرہ الیکشن کے دوران بار بار ہوتا ہے تاکہ ووٹ کو تقسیم کےا جائے اور اس تقسیم سے فائدہ اٹھایا جائے۔ ہندوستانی جمہوریت میں لمبے چوڑے وعدے کے بجائے مستحکم جمہوریت کی ضرورت ہے جہاں ذات پات، طبقات، مذہب اور فرقہ پرستی کی سیاست نہ ہو بلکہ مساویانہ حقوق، انسانی حقوق، حراستی اموات کے خلاف مؤثر مہم،بے خوف و خطر سب کو زندگی گزارنے کاحق وغیرہ حاصل ہو کسی قوم کو مذہب کی بنیاد پر نشانہ نہ بنائے۔ یہ خوبیاں ہر لیڈرمیں ہونی چاہئے۔ یہ کم از کم صلاحیت الیکشن میں حصہ لینے کا پیمانہ ہونا چاہئے۔
ہندوستان کو جمہوری ملک بنے تقریبا ًسات دہائی ہوچکے ہیں لیکن عوام میںابھی تک جمہوری شعور پیدا نہیں ہوا ہے۔ خاص طور سے تعلیم یافتہ طبقہ یا بزنس مین بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کے لئے نہیں نکلتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غلط امیدوار منتخب ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ بڑی تعداد میں ووٹ ڈالتے ہیں ان میں سےاسی سمجھ کی کمی ہوتی ہے۔ لیکن الیکشن ان کے لئے کچھ پیسے بٹورنے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ ایسے حالات میں صحیح امیدوار کا انتخاب کیسے ممکن ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ رائے دہندگان لیڈروں کے کر توت سے واقف نہیں ہوتے ۔لیکن سمجھتے ہیں کہ الیکشن کا موسم ہی ہے جب سے ان سے کچھ لیا جاسکتا ہے اور وہ یہ جانتے ہیں کہ یہ لیڈران جو وعدے کر رہے ہیں وہ کبھی پورے نہیں ہوں گے۔مگر وہ اس بات سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں کہ ان کے ووٹ کی منہ مانگی قیمت ادا کی جائے گی اور پھر غریب عوام پیسوںاور تحفوں سے خوش ہوجاتے ہےں مستقبل میں وہ لیڈر ان کے لئے کتنا کام کریں گے اس کی پروا ہ انہیں نہیںہوتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم بدعنوان، مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے اور کم تعلیم یافتہ رہنما کا انتخاب کرلیتے ہیں۔ معاملہ یہاں نہیں رکتا ہے وہ لیڈران جو منتخب ہوکر آتے ہیں ایماندار افسران کا ٹرانسفر کرتے ہیں اور ان کی جگہ بدعنوان افسر لے آتے ہےں تاکہ وہ خود بھی کمائے اوران کو بھی کماکر دے۔ کبھی کبھی اپنے حق میں ووٹنگ کرانے کے لئے کچھ اپوزیشن اور کچھ حکمراں پارٹیوں کے کارکن اپنی حمایت میں اضافہ کرنے کے لئے حملہ کرتے رہے ہیں، کبھی کبھی قتل بھی کرتے ہیں۔ یہ ناخوشگوار واقعات زیادہ تر بہار، مغربی بنگال، تری پورہ، جھارکھنڈ، اترپردیش اور کچھ دیگر ریاستوں میں ہوتے ہیں ۔نتیجہ کے طور پر رائے دہندگان کے دماغ میں واضح تصویر نہیں ابھرپاتی اور وہ غیرجانبدارانہ، آزادانہ اور بے تکلف طریقے اپنی رائے کا اظہار نہیں کرپاتے۔ حزب اختلاف ہو یا حزب اقتدار اپنے کیڈروںکے ذریعہ عام لوگوں کے دلوں میںخوف پیدا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں اور پارٹی سے منسلک غنڈہ عناصر پارٹی کے لئے مہم چلاتے ہیں۔ غریب رائے دہندگان کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ مخصوص لوگوں کو ووٹ دے بصورت دےگر نتائج کا سامنا کرنے کے لئے آتے رہے۔ کبھی کبھی انتظامیہ ان علاقوں میں حد سے زیادہ حفاظتی دستے تعینات کردےتی ہے تاکہ وہاں غریب اور ان پڑھ لوگ خوف سے ووٹ ڈالنے باہر نہ آسکیں کیوں کہ انہیں اندازہ ہوتا ہے کہ اگر وہ ووٹ دےنے کے لئے باہر نکلے تو ان کے خلاف ووٹ دیں گے۔
ہندوستان میںپھیلتی بدعنوانی کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو اس کا یہ راستہ انتخابی کمیشن سے ہوکر گزرتا ہے۔آج الیکشن میں جس طرح روپے پانی کی طرح بہائے جاتے ہیں یہ سبھی لوگ جانتے ہیں ۔ ذرا سوچئے جو شخص ایک اسمبلی سیٹ حاصل کرنے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کرتاہے ہم ان سے یہ کیسے امید رکھیں کہ وہ جیتنے کے بعد عوامی کام میںکمیشن نہیں کھائے گا۔ گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران اےک امےدوارنے اےک ووٹ پر تقرےباً سترہ سو روپے (۰۰۷۱) روپے خرچ کےا تھا ان کو دولاکھ کے قرےب ووٹ ملے تھے۔ اگر ےہ امےدوار کامےا ب ہوجاتا تو سب سے پہلے اپنا خرچ نکالتا اس کے بعد عوام کا کام کرتا۔اسی طرح کے اخراجات تمام انتخابات میں ہوتے ہیں امیدوار آج ووٹ خریدتا ہے ۔ شراب سے لیکر شباب تک کا انتظام ہوتا ہے ۔ امیدوار ووٹ حاصل کرنے کے لئے ہر طرح کے حربے اپناتے ہےں۔ 2014 کے عام انتخابات میں بھی پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا۔ گالی گلوج، اشتعال انگیزی کا دور دورہ تھا،الیکشن میں عوامی مسائل کے بجائے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے پر زیادہ زور دیاجارہا تھا۔ بہت سے بی جے پی لیڈر نے تو مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے کی دھمکی دی اور اب بھی دے رہے ہیں۔ مسلمانوں کے حقوق پر شب خون مارنا ہندوستانی جمہوریت کا وطیرہ بن چکا ہے۔ یہاں جمہوریت کا مطلب یہ سمجھا گیا ہے کہ وہ جو چاہے ہیں کریں ان کو یہ حق حاصل ہوجاتا ہے۔ ہندوستانی جمہوری آئین کو کبھی کاغذ سے زمین پر اتارنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ جمہوریت کا مکمل اور واضح مطلب اکثریت کی حکمرانی سمجھ لیا گیا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سب کو اپنی آبادی کے حساب سے مناسب نمائندگی۔ انتظامیہ ، عدلیہ میں مناسب نمائندگی دی جائے تاکہ ان کی آواز بھی صحیح طرح اٹھ سکے اور ان کے مسائل حل ہوسکے لےکن آزادی کے بعد سے ہندوستانی جمہوریت میں ساری توجہ اس پر دی گئی کہ اقلیتوں کی تمام شعبوں میں کس طرح نمائندگی کم کی جاسکے۔ اقلیتوں کو ان کے حقوق سے کس طرح محروم کیا جاسکے اور نہ صرف ببانگ دہل اس کا اعلان کیاگیا بلکہ اس صدق دلی سے عمل کیاگیا۔ اس وقت ملک کی جو صورت حال ہے اس میں جمہوریت کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے فارمولے پر سب سے زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ مسلمانوں ، دلتوں اور کمزور طبقوں پر مظالم کا سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا جارہا ہے۔ جمہوریت کے چاروں ستون خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔ ان چاروں ستونوں کے عمل سے کبھی ایسا نہیں لگاکہ وہ اقلیتوں، کمزور طبقوں اور دلتوں کے حقوق کے محافظ ہیں۔ اس ملک میں پدماوت کے سلسلے جو ہنگامہ آرائی، تشدد، توڑ پھوڑ اورقتل جاری ہے وہ ہندوستان کی شہرت، اخوت، محبت، بھائی چارگی اور گنگا جمنی تہذیب کو مٹی میں ملانے کے لئے کافی ہے۔ہندو راشٹر کے خواب دیکھنے والوں کی ایسا لگتا ہے کہ دنیا اندھی اور جاہل اور لاعلم ہے۔ ان کے ظلم و تشدد، حیوانیت اور شیطانت کو نہیں دیکھ رہی ہے۔ آسیان ممالک کے سربراہ نے ان کی غنڈہ گردی، بدتمیزی، حیوانیت، درندگی اور ناانصافی اور جمہوری حقوق کو پامال کرنے کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور پوری دنیادیکھ رہی ہے۔ اس صورت حال میں جب حکومت کی پشت پناہی ان شرپسند عناصر کو حال ہو۔
ایسے حالات میں سیاست میں کس طرح کی قدریں جنم لیں گی اس کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ہندوستان میں حقےقی جمہوریت کا نفاذ اسی وقت ممکن ہوگا جب عوامی نمائندے 51 فےصد سے زائد ووٹ حاصل کرکے منتخب ہوںگے اس کا اشارہ ووٹرس ڈے پر سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری نے بھی کیا تھا۔ افسوس کی بات ہے کہ ملک میں تمام جمہوری نظام کو دیمک لگ گئی ہے۔ الیکشن کمیشن سے لےکر عدلیہ، مقننہ، قانون نافذ کرنے والی ایجنسی اور یہاں تک کہ خفیا ایجنسی بھی سیاست کا شکار ہوگئی ہے۔صورت حال اس قدر بھیانک ہے جمہوریت کی چولیں ہل گئی ہیں۔ جمہوریت کے نام پر تمام طرح کی غنڈہ گردی کرنے کی اجازت حاصل ہوگئی ہے۔ ایسے میں جمہوریت کا حشن منانا کہاں تک صحیح ہے اور کہاں تک غلط۔اگر جمہوریت کے بکھرتےتانے بانے پر غور نہیں کیا گیا اور اس کو ایک تار میں پیرونے کی کوشش نہیں کی گئی تو پھر بہت دیر ہوجائے گی اور سب سے زیادہ نقصان ملک کو ہوگا۔اس کے علاوہ یہ کیسی جمہوریت کی ماں جہاں ایک بیٹے کو تمام طرح کی آسانیاں حاصل ہیں وہیں دوسری طرف دوسرے بیٹے کے تمام حقوق چھینے جارہے ہیں۔یہ کیسی جمہوریت کی ماں ہے جہاں کے عوام کو رشی سوناک تو پسند ہے لیکن سونیا گاندھی سے نفرت ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    مئی 20, 2026
    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    مئی 20, 2026
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist