بیجنگ۔ ایم این این۔چین نے عالمی دواسازی کی سپلائی چین میں اپنی مضبوط پوزیشن کے ذریعے ایسا تزویراتی اثر و رسوخ حاصل کر لیا ہے جو مستقبل میں عالمی سیاست اور قومی سلامتی کے لیے ایک اہم عنصر بن سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا میں استعمال ہونے والی کئی اہم ادویات اور ان کے بنیادی اجزاء کی تیاری میں چین کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اینٹی بایوٹکس، درد کم کرنے والی ادویات، بلڈ پریشر کی دوائیں اور دیگر ضروری فارماسیوٹیکل اجزاء بڑی حد تک چینی سپلائی پر منحصر ہیں۔ اگر کسی بڑے سیاسی یا تجارتی تنازعے کے دوران چین برآمدات محدود کر دے تو متعدد ممالک، خصوصاً امریکہ، کو سنگین طبی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔رپورٹ میں خون پتلا کرنے والی اہم دوا ہیپرین کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے، جو دل کے امراض، سرجری اور ڈائلیسس کے مریضوں کے لیے نہایت ضروری سمجھی جاتی ہے۔ چونکہ اس دوا کی عالمی سپلائی چین کا بڑا حصہ چین سے وابستہ ہے، اس لیے کسی بھی رکاوٹ کے فوری اور وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف صحت عامہ تک محدود نہیں بلکہ قومی سلامتی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ عالمی کشیدگی کی صورت میں ادویات کی فراہمی کو سیاسی دباؤ کے ایک مؤثر آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔اسی خطرے کے پیش نظر مختلف ممالک اپنی مقامی دواسازی کی پیداوار بڑھانے اور اہم ادویات کے لیے بیرونی انحصار کم کرنے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں تاکہ سپلائی چین کو زیادہ محفوظ اور متنوع بنایا جا سکے۔تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل میں توانائی، خوراک اور معدنیات کے ساتھ ساتھ ادویات بھی عالمی طاقت کے توازن میں کلیدی کردار ادا کریں گی، اور چین کی موجودہ برتری اسے ایک نمایاں تزویراتی فائدہ فراہم کرتی ہے۔












