راجگیر (ایم ایم عالم) نالندہ یونیورسٹی کا تیسرا کانووکیشن منگل کو یونیورسٹی کیمپس میں نو تعمیر شدہ 2,000 نشستوں والے "وشامترالیہ” آڈیٹوریم میں ایک پروقار ماحول میں منعقد ہوا۔تقریب نے عالمی تعلیمی تعاون،اختراع اور ذمہ دار علم” کے تصور پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے یونیورسٹی کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی کردار پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر پی کے مشرا،وزیر اعظم ہند کے پرنسپل سکریٹری،مہمان خصوصی تھے۔بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین کی خصوصی موجودگی نے تقریب کی رونق میں اضافہ کیا۔رودریندر ٹنڈن، سکریٹری (مشرق)، وزارت خارجہ،حکومت ہند نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ ارچنا نائر،جوائنٹ سکریٹری،نالندہ ڈویژن،وزارت خارجہ، کے ساتھ مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز،ماہرین تعلیم اور دیگر معززین موجود تھے۔کانووکیشن میں 14 ممالک کے 219 طلباء کو ڈگریاں دی گئیں۔ویتنام،بنگلہ دیش،بھوٹان اور میانمار سمیت مختلف ممالک کے طلباء کی شرکت نے یونیورسٹی کی عالمی پہچان کو مزید مضبوط کیا۔آٹھ طالب علموں کو تعلیمی بہترین کارکردگی پر گولڈ میڈل سے نوازا گیا،جن میں سات طالبات بھی شامل ہیں۔تقریب کے بعد مہمان خصوصی ڈاکٹر پی کے مشرا نے یونیورسٹی کیمپس میں کوٹیلیہ سنٹر برائے صلاحیت سازی کا افتتاح کیا۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر پی۔کے مشرا نے 21ویں صدی میں "ذمہ دار علم” کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نالندہ کو "صرف ایک یونیورسٹی نہیں، بلکہ ایک تہذیبی علامت” قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ آج انسانیت کے پاس بے مثال تکنیکی صلاحیتیں موجود ہیں لیکن سب سے بڑا چیلنج اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ علم کی جڑیں ضمیر،اخلاق،ہمدردی اور انسانی ذمہ داری پر قائم رہیں۔ انہوں نے کہا’’نالندہ کی کہانی صرف ماضی کی کہانی نہیں ہے،بلکہ مستقبل کی بھی ہے۔‘‘ گورنر لیفٹیننٹ جنرل سید عطا حسنین نے اپنے خطاب میں نالندہ کو "ایک تہذیبی ماحولیاتی نظام” قرار دیا اور کہاکہ اس کا احیاء ہندوستان کے ثقافتی اور فکری ورثے کی بحالی ہے۔”نالندہ راہداری” کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نالندہ،بودھ گیا،راجگیر،ویشالی اور وکرم شیلا کو جوڑنے والا ثقافتی سلسلہ علم،اخلاقیات اور روحانی ورثے کی علامت ہے۔اس موقع پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سچن چترویدی نے یونیورسٹی کے احیاء کے سفر اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ سائنس اور ٹیکنالوجی پالیسی اسٹڈیز،ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت جیسے نئے کورسز آئندہ تعلیمی سیشن سے متعارف کرائے جائیں گے۔اگست 2026 سے "نالندہ اسپرٹ” کے نام سے ایک نیا کورس بھی متعارف کرایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ نالندہ یونیورسٹی غیر مغربی علمی روایات،تقابلی تہذیبی مطالعات،ماحولیاتی عکاسی اور ایشیائی علمی نظاموں پر مبنی عالمی مکالمے کا ایک اہم مرکز بننے کی سمت مسلسل کام کر رہی ہے۔تقریب کا اختتام نالندہ یونیورسٹی کو 21ویں صدی میں علم،مکالمے،پائیدار ترقی اور ذمہ دار فکری قیادت کے عالمی مرکز کے طور پر قائم کرنے کے عہد کے ساتھ ہوا۔












