شعیب رضا فاطمی
نئی دہلی24جنوری ، سماج نیوزسروس: مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے پیر کو کہا کہ سرکاری اسکولوں میں طلباءکو ہندو مذہبی صحیفے پڑھائے جائیں گے اور ان لوگوں کو تنبیہ کرتے ہوئے جو ان مقدس صحیفوں کی توہین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کہا کہ ان کی حرکتوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔بی جے پی کے سینئر لیڈر کا یہ انتباہ پچھلے کچھ دنوں میں کچھ سیاسی لیڈروں کے ذریعہ رامائن پر مبنی ہندو مذہبی کتاب رام چرتر مانس پر دیئے گئے متنازعہ بیانات کے پس منظر میں آیا ہے۔ یہاں ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے چوہان نے کہا کہ قدیم ہندو مہاکاویہ انمول مقدس کتابیں ہیں اور یہ انسانوں کے اخلاقی کردار کی تعمیر میں مدد کرتی ہیں۔رامائن، مہابھارت، وید، اپنشد، بھگود گیتا۔ہمارے انمول صحیفے ہیں۔
یہ نصوص انسان کو اخلاقی طور پر کامیاب اور مکمل بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہم (دیگر مضامین کے ساتھ) یہ مذہبی کتابیں بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھائیں گے۔ چیف منسٹر نے 16ویں صدی کے بھکتی شاعر تلسی داس کی رام چرتر مانس جیسا مہاکاویہ لکھنے پر ستائش کی۔چوہان نے کہا، ”میں تلسی داس جی کو نمن کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں رامائن جیسی کتاب دی۔
اس عظیم انسان کی توہین کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ مدھیہ پردیش میں ہم اپنے بچوں کو با اخلاق بنائیں گے اور ان مقدس کتابوں کو پڑھا کر ان کی ہمہ گیر ترقی کو یقینی بنائیں گے۔ یہ پروگرام ’سگھوش درشن‘ کا اہتمام ودیا بھارتی نے کیا تھا، جو آر ایس ایس کی تعلیمی تنظیم ہے اور ایک طویل عرصے سے اپنی خود ساختہ تاریخ کی تعلیم دینے کے لئے بدنام بھی ہے۔اس تنظیم کے ذریعہ ملک میں اسکولوں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے جس کا انتظام و انصرام آر ایس کرتی ہے۔واضح ہو کہ اتر پردیش کی سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رہنما سوامی پرساد موریہ نے بھی اتوار کے روز الزام لگایا تھا کہ رام چرتر مانس کے کچھ حصے ذات کی بنیاد پر سماج کے ایک بڑے طبقے کی "توہین” کرتے ہیں اور ان پر "پابندی” لگنی چاہیے۔
رام چرتر مانس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے سب سے پہلے اس ماہ کے شروع میں، بہار کے وزیر تعلیم اور آر جے ڈی لیڈر چندر شیکھر نے الزام لگایا تھا کہ ہندو مہاکاویہ کی بعض چوپائیاں سماجی امتیاز کو فروغ دیتی ہیں۔لیکن مہاکاویہ کی چند چوپائیوں پر جیسے ہی کچھ دلت لیڈروں کا اعتراض درج ہوا مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان کا بیان آگیا کہ اب سرکاری اسکولوں میں ہندو مذہب کی کتابیں رامائن،مہابھارت،وید ،اپنشد اور گیتا کو بھی داخل نصاب کیا جائے گا۔اور اس بیان کے بعد یہ سوال کیا کیا جارہا ہے کہ کیا ایک ایسے ملک میں جہاں آئین کے preamble میں یہ درج ہے کہ یہ ایک سیکولر ملک ہے اور یہاں کسی بھی مذہب و مسلک سے سرکار کا کوئی تعلق نہیں ہے۔اور آئین کی شق 28 (1) میں صاف صاف درج ہے کہ کسی بھی سرکاری اسکول میں جہاں ہر مذہب و مسلک کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں وہاں کسی مخصوص مذہب کی مذہبی کتاب کو نصاب کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا۔ایسے میں شیوراج سنگھ چوہان کا یہ بیان چہ معنی دارد۔












