ایک بہت پرانی کہانی ہے، مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ یہ کہانی کس زبان سے ماخوذ ہے لیکن ہے بڑی زور دار،آپ بھی سنیں۔ایک دانا شخص کا کسی گاؤں سے گذر ہوا۔ اس نے وہاں دیکھا کہ ایک بزرگ شخص چارپائی پر بیٹھا مرغی کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا دانا ڈال رہا ہے۔چوں چوں کرتے وہ چھوٹے چھوٹے مرغی کے بچے مزے میں دانا چگ رہے ہیں۔ یکایک اس دانا شخص کی نظر مرغی کے بچوں کے درمیان ایک باز کے بچے پر پڑی جو مرغی کے بچوں کے ساتھ ان ہی کی طرح دانہ چگ رہا ہے۔ دانا شخص کو بہت حیرت ہوئی اس نے اس بزرگ شخص سے پوچھا کہ آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ تو ایک باز کے بچے کو مرغی کے چوزوں کی طرح پال رہا ہے۔ بزرگ نے کہا کہ میں نے کچھ کمال نہیں کیا، بلکہ باز کے بچے کو میں نے پہاڑی کی اونچائی پر گرا ہوا پایا، ہمدردی کے تحت میں اسے اٹھا لایا اور مرغی کے بچوں کے ساتھ ہی اسے بھی پالنے لگا، چند ہی دنوں میں یہ ہشاش بشاش ہو کر ان چوزوں کے ساتھ گھل مل گیا اور مزے میں ہے۔
اس دانا شخص کو باز کے بچے کو اس بزرگ سے قیمت دے کر خرید لایا اور پھر اسے دانے کی جگہ گوشت کھلانا شروع کر دیا۔ ہر روز وہ اسے زور زور سے یہ کہتا کہ تو مرغی کا نہیں بلکہ باز کا بچہ ہے۔ وہ اسے اڑنے کی ترغیب دیتا اور اکثر کسی اونچی جگہ سے نیچے پھینکتا لیکن وہ بچہ خوف سے کانپتا رہتا اور خوف کی زیادتی میں اپنے پر سکیڑ کر اپنا منہ اس میں چھپا لیتا اور بھد سے زمین پر آ گرتا۔ دانا شخص نے یہ عمل جاری رکھا اور جب اس باز کے بچے کے تمام پر توانا ہو گئے اور وہ ایک جوان باز نظر آنے لگا تو اسے لے کر وہ ایک بلند پہاڑ پر جا کھڑا ہوا اور اس کے دونوں پروں کو پھیلا کر اسے اس بلند چوٹی سے نیچے وادی میں اچھال دیا، باز کا وہ بچہ پہلے تو خوفزدہ ہوا اور اپنے پروں کو سمیٹ کر پتھر کی طرح نیچے گرنے لگا اور اس خوف سے کہ زمین پر جاکر اسے سخت چوٹ آئے گی فطری طور پر اس نے اپنے پروں کو پھیلایا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ فضا میں معلق ہو گیا ہے۔ اب اس نے اپنے پروں کو دوچار جھٹکے دیئے اور یہ دیکھ کر اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا کہ وہ اب اپنے آپ کو فضا میں نہ صرف بیلنس کر رہا ہے بلکہ غوطے بھی لگا رہا ہے اور مزید بلندی تک بھی جا رہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ دانا شخص اور اپنے محسن کے سر پر منڈلانے لگا اور اسے خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ اس کا محسن اسے اڑتا دیکھ کر بے حد خوش ہے اور کہہ رہا ہے کہ تم باز تھے لیکن چوزوں کی صحبت نے تجھے چوزہ بنا دیا تھا اور تم بھول گئے تھے کہ تم چوزے نہیں کہ خوف تم پر غالب آئے۔ تمہارے اندر اللہ نے بلند پروازی کی خوبی رکھی ہے، میں نے تمہیں صرف یہ یاد دلایا ہے کہ تم چوزے نہیں بلکہ باز ہو، اور اللہ کا شکر ہے آج تم نے اپنے اندر موجود اپنی فطری صلاحیت کی شناخت کر لی ہے۔
مجھے یاد نہیں کہ یہ حکایت میں نے کب سنی یا پڑھی، اور مجھے یہ بھی اندازہ نہیں کہ کیسے یہ حکایت میرے تحت الشعور سے نکل کر شعور میں در آئی اور ایک ایسے وقت میں جب میں دیکھ رہا ہوں کہ ملک میں مسلمانوں کی حالت ان چوزوں سے زیادہ نہیں جنہوں نے اپنے اعصاب پر خوف طاری کر رکھا ہے۔انہیں ہر وقت یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ راہ چلتے کب انہیں دہشت گردوں کا کوئی ٹولہ لنچ کر دے۔ کب ٹرین میں سفر کرتے وقت انہیں کسی پلیٹ فارم پر زبردستی اتار لیا جائے اور کب ان کی داڑھی ٹوپی نقاب اورحجاب پر پابندی لگا دی جائے۔یہ سب حقائق تو ہیں لیکن کیا اس قوم پر اس سے پہلے اس طرح کے آفات نازل نہیں ہوئے ہیں…؟ 1857 تو دہلی کےلئے ایک ایسا سانحہ تھا جسے تاریخ بھی کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اور جب انگریزوں نے چن چن کر مسلمانوں کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا، گھروں کو گرا دیا تھا، مساجد مسمار کر دئے گئے تھے، جامع مسجد میں برسوں گھوڑے باندھے جاتے رہے، لیکن ان تمام خونچکاں سانحات سے بھی مسلمان نہ صرف نبرد آزما ہوئے بلکہ اپنے آپ کو تیار کیا اور انگریزوں سے مسلسل بر سر پیکار رہنے کے ساتھ ساتھ علی گڈھ میں بھی یونیورسٹی بنائی اور دیو بند میں بھی ایک ایسا ادارہ بنا ڈالا جس سے علم و ہدایت کی روشنی آج تک ساری دنیا کو منور کر رہی ہے۔ ملک کی آزادی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔یعنی اب ان حالات میں ضرورت ہے کہ اپنے پروں کی قوت اور اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے کا کیونکہ ماضی کے تجربات نے ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ ہمیں متحد بھی ہونا ہے اور اپنی فراموش کردہ تاریخ کو یاد کر کے ایک بار پھر اپنی سرزمین بھارت کو سازشی قوتوں سے نجات دلانے کی سعی کرنی ہے۔
ہمیں اپنے عمل اور کردار سے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم آئین ہند کی روشنی میں اس ملک کی از سر نو تزئین کر سکتے ہیں اور بہر حال کریںگے کیونکہ اب ہمیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ اقتدار پرستوں کی یہ جماعت مادر ہند کی وفا دار نہیں بلکہ بوالہوسی ان کے خون میں شامل ہے اور یہ ایک ایک کر کے ملک کے ہر ادارے اور آئینی ایوان کو تباہ و برباد کر دیںگے۔
اب تو براہ راست عدالت عالیہ پر حملے شروع ہو چکے ہیں۔اور آئینی عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ہی آئین کے بنیادی ڈھانچے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔الیکٹورل سسٹم کو غلط مقصد کےلئے استعمال کرنے کا انجام یہ ہوا ہے کہ ملک کا جمہوری نظام پوری طرح بکھر گیا ہے اور اب اس کو درست کرنا بے حد ضروری ہے۔بجٹ 2023جسے برسر اقتدار جماعت تاریخ کا سب سے مؤثر بجٹ کہہ رہی ہے سے مسلمانوں کو جس طرح حذف کیا گیا ہے،وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس سرکار کی نظر میں بطور شہری مسلمان ہیں ہی نہیں۔ ایک سے دسویں کلاس تک کے مسلم بچوں کومولانا آزاد فاؤنڈیشن سے ملنے والا وظیفہ بند کیا جانا اور یہ بتانا کہ وہ بچے سرکاری اسکولوں سے ملنے والے وظیفہ میں شامل ہیں سراسر بددیانتی ہے کیونکہ مسلم علاقوں میں اسکولوں کی تعداد ہی کتنی ہے ؟جبکہ دوسرے پسماندہ کمیونٹی کے بچوں کو ملنے والے وظیفہ کو بدستور جاری رکھا گیا ہے۔نرملا سیتا رمن جی کا وہ بجٹ خطاب بھی آپ سن لیں جو بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے دیا ہے۔آپ کو سوائے مسلمانوں کے ہر پچھڑی کمیونٹی کا نام ان کی زبان سے سننے کو ملے گا۔یہ اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کو جتایا گیا ہے کہ تم نہ ہمارے حالیہ پروگرام اور پالیسی کے حصہ ہو اور نہ مستقبل میں رہوگے۔
لیکن کیا اس سازش کی وجہ سے اور ایک ہزار کی رقم نہ ملنے سے مسلمان بچوں کی تعلیم رک جائیگی ؟ہرگز بھی نہیں ا ب تو ہمیں اپنے تعلیمی مشن کو مزید پھیلانا ہے کیونکہ علم حاصل کرنا تو ہمارے فرائض میں داخل ہے۔
(شعیب رضا فاطمی)
ایک بہت پرانی کہانی ہے، مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ یہ کہانی کس زبان سے ماخوذ ہے لیکن ہے بڑی زور دار،آپ بھی سنیں۔ایک دانا شخص کا کسی گاؤں سے گذر ہوا۔ اس نے وہاں دیکھا کہ ایک بزرگ شخص چارپائی پر بیٹھا مرغی کے چھوٹے چھوٹے بچوں کا دانا ڈال رہا ہے۔چوں چوں کرتے وہ چھوٹے چھوٹے مرغی کے بچے مزے میں دانا چگ رہے ہیں۔ یکایک اس دانا شخص کی نظر مرغی کے بچوں کے درمیان ایک باز کے بچے پر پڑی جو مرغی کے بچوں کے ساتھ ان ہی کی طرح دانہ چگ رہا ہے۔ دانا شخص کو بہت حیرت ہوئی اس نے اس بزرگ شخص سے پوچھا کہ آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ تو ایک باز کے بچے کو مرغی کے چوزوں کی طرح پال رہا ہے۔ بزرگ نے کہا کہ میں نے کچھ کمال نہیں کیا، بلکہ باز کے بچے کو میں نے پہاڑی کی اونچائی پر گرا ہوا پایا، ہمدردی کے تحت میں اسے اٹھا لایا اور مرغی کے بچوں کے ساتھ ہی اسے بھی پالنے لگا، چند ہی دنوں میں یہ ہشاش بشاش ہو کر ان چوزوں کے ساتھ گھل مل گیا اور مزے میں ہے۔
اس دانا شخص کو باز کے بچے کو اس بزرگ سے قیمت دے کر خرید لایا اور پھر اسے دانے کی جگہ گوشت کھلانا شروع کر دیا۔ ہر روز وہ اسے زور زور سے یہ کہتا کہ تو مرغی کا نہیں بلکہ باز کا بچہ ہے۔ وہ اسے اڑنے کی ترغیب دیتا اور اکثر کسی اونچی جگہ سے نیچے پھینکتا لیکن وہ بچہ خوف سے کانپتا رہتا اور خوف کی زیادتی میں اپنے پر سکیڑ کر اپنا منہ اس میں چھپا لیتا اور بھد سے زمین پر آ گرتا۔ دانا شخص نے یہ عمل جاری رکھا اور جب اس باز کے بچے کے تمام پر توانا ہو گئے اور وہ ایک جوان باز نظر آنے لگا تو اسے لے کر وہ ایک بلند پہاڑ پر جا کھڑا ہوا اور اس کے دونوں پروں کو پھیلا کر اسے اس بلند چوٹی سے نیچے وادی میں اچھال دیا، باز کا وہ بچہ پہلے تو خوفزدہ ہوا اور اپنے پروں کو سمیٹ کر پتھر کی طرح نیچے گرنے لگا اور اس خوف سے کہ زمین پر جاکر اسے سخت چوٹ آئے گی فطری طور پر اس نے اپنے پروں کو پھیلایا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ فضا میں معلق ہو گیا ہے۔ اب اس نے اپنے پروں کو دوچار جھٹکے دیئے اور یہ دیکھ کر اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا کہ وہ اب اپنے آپ کو فضا میں نہ صرف بیلنس کر رہا ہے بلکہ غوطے بھی لگا رہا ہے اور مزید بلندی تک بھی جا رہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ دانا شخص اور اپنے محسن کے سر پر منڈلانے لگا اور اسے خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ اس کا محسن اسے اڑتا دیکھ کر بے حد خوش ہے اور کہہ رہا ہے کہ تم باز تھے لیکن چوزوں کی صحبت نے تجھے چوزہ بنا دیا تھا اور تم بھول گئے تھے کہ تم چوزے نہیں کہ خوف تم پر غالب آئے۔ تمہارے اندر اللہ نے بلند پروازی کی خوبی رکھی ہے، میں نے تمہیں صرف یہ یاد دلایا ہے کہ تم چوزے نہیں بلکہ باز ہو، اور اللہ کا شکر ہے آج تم نے اپنے اندر موجود اپنی فطری صلاحیت کی شناخت کر لی ہے۔
مجھے یاد نہیں کہ یہ حکایت میں نے کب سنی یا پڑھی، اور مجھے یہ بھی اندازہ نہیں کہ کیسے یہ حکایت میرے تحت الشعور سے نکل کر شعور میں در آئی اور ایک ایسے وقت میں جب میں دیکھ رہا ہوں کہ ملک میں مسلمانوں کی حالت ان چوزوں سے زیادہ نہیں جنہوں نے اپنے اعصاب پر خوف طاری کر رکھا ہے۔انہیں ہر وقت یہ خدشہ لگا رہتا ہے کہ راہ چلتے کب انہیں دہشت گردوں کا کوئی ٹولہ لنچ کر دے۔ کب ٹرین میں سفر کرتے وقت انہیں کسی پلیٹ فارم پر زبردستی اتار لیا جائے اور کب ان کی داڑھی ٹوپی نقاب اورحجاب پر پابندی لگا دی جائے۔یہ سب حقائق تو ہیں لیکن کیا اس قوم پر اس سے پہلے اس طرح کے آفات نازل نہیں ہوئے ہیں…؟ 1857 تو دہلی کےلئے ایک ایسا سانحہ تھا جسے تاریخ بھی کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اور جب انگریزوں نے چن چن کر مسلمانوں کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا، گھروں کو گرا دیا تھا، مساجد مسمار کر دئے گئے تھے، جامع مسجد میں برسوں گھوڑے باندھے جاتے رہے، لیکن ان تمام خونچکاں سانحات سے بھی مسلمان نہ صرف نبرد آزما ہوئے بلکہ اپنے آپ کو تیار کیا اور انگریزوں سے مسلسل بر سر پیکار رہنے کے ساتھ ساتھ علی گڈھ میں بھی یونیورسٹی بنائی اور دیو بند میں بھی ایک ایسا ادارہ بنا ڈالا جس سے علم و ہدایت کی روشنی آج تک ساری دنیا کو منور کر رہی ہے۔ ملک کی آزادی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔یعنی اب ان حالات میں ضرورت ہے کہ اپنے پروں کی قوت اور اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے کا کیونکہ ماضی کے تجربات نے ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ ہمیں متحد بھی ہونا ہے اور اپنی فراموش کردہ تاریخ کو یاد کر کے ایک بار پھر اپنی سرزمین بھارت کو سازشی قوتوں سے نجات دلانے کی سعی کرنی ہے۔
ہمیں اپنے عمل اور کردار سے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم آئین ہند کی روشنی میں اس ملک کی از سر نو تزئین کر سکتے ہیں اور بہر حال کریںگے کیونکہ اب ہمیں یہ احساس ہو رہا ہے کہ اقتدار پرستوں کی یہ جماعت مادر ہند کی وفا دار نہیں بلکہ بوالہوسی ان کے خون میں شامل ہے اور یہ ایک ایک کر کے ملک کے ہر ادارے اور آئینی ایوان کو تباہ و برباد کر دیںگے۔
اب تو براہ راست عدالت عالیہ پر حملے شروع ہو چکے ہیں۔اور آئینی عہدوں پر بیٹھے ہوئے لوگ ہی آئین کے بنیادی ڈھانچے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔الیکٹورل سسٹم کو غلط مقصد کےلئے استعمال کرنے کا انجام یہ ہوا ہے کہ ملک کا جمہوری نظام پوری طرح بکھر گیا ہے اور اب اس کو درست کرنا بے حد ضروری ہے۔بجٹ 2023جسے برسر اقتدار جماعت تاریخ کا سب سے مؤثر بجٹ کہہ رہی ہے سے مسلمانوں کو جس طرح حذف کیا گیا ہے،وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس سرکار کی نظر میں بطور شہری مسلمان ہیں ہی نہیں۔ ایک سے دسویں کلاس تک کے مسلم بچوں کومولانا آزاد فاؤنڈیشن سے ملنے والا وظیفہ بند کیا جانا اور یہ بتانا کہ وہ بچے سرکاری اسکولوں سے ملنے والے وظیفہ میں شامل ہیں سراسر بددیانتی ہے کیونکہ مسلم علاقوں میں اسکولوں کی تعداد ہی کتنی ہے ؟جبکہ دوسرے پسماندہ کمیونٹی کے بچوں کو ملنے والے وظیفہ کو بدستور جاری رکھا گیا ہے۔نرملا سیتا رمن جی کا وہ بجٹ خطاب بھی آپ سن لیں جو بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے دیا ہے۔آپ کو سوائے مسلمانوں کے ہر پچھڑی کمیونٹی کا نام ان کی زبان سے سننے کو ملے گا۔یہ اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کو جتایا گیا ہے کہ تم نہ ہمارے حالیہ پروگرام اور پالیسی کے حصہ ہو اور نہ مستقبل میں رہوگے۔
لیکن کیا اس سازش کی وجہ سے اور ایک ہزار کی رقم نہ ملنے سے مسلمان بچوں کی تعلیم رک جائیگی ؟ہرگز بھی نہیں ا ب تو ہمیں اپنے تعلیمی مشن کو مزید پھیلانا ہے کیونکہ علم حاصل کرنا تو ہمارے فرائض میں داخل ہے۔












