جسمانی یوگ اور مخصوص انداز میں سانس اندر لینے اور باہر نکالنے کے عمل میں ماہر بابا رام دیو اپنے ایک بےان سے پھر لوگوں کی پھٹکار اور عتاب کا نشانہ بن گئے ہیں ۔اس بار انہوںنے خواتین کے لباس پر نہیںبلکہ مسلمانوں کے مذہب ،قران ،اور ان کی نماز اور کردار پر کیچڑ اچھالی ہے،جس سے مسلمانوں میں سخت ناراضگی ہے ۔لوگ ان کی گرفتاری کا مطالبہ کررہے ہیں اور حکومت سے درخواست کررہے ہیں کہ وہ ایسے شخص کر جیل کیوں نہیں بھیج دیتی ہے۔لیکن حکومت اس سوال پر خاموشی سادھے ہوئے ہے ۔ بابار ارام دیو نے دو دن پہلے ایک سبھا میں اپنے بےان میں کہا ہے کہ ”مسلمان پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں اور پھر وہ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں،جبکہ ہندو مذہب ایسا نہیں ہے‘ ‘انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلمانوں کے ان عقائد کا کوئی دوسرا ایجنڈا نہیں ہے۔ مسلمانوں پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے، اس نے کہا کہ وہ دہشت گرد یا مجرم بن جاتے ہیں اور پھر بھی نماز پڑھتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوںنے مسلمانوں کے ساتھ عیسائی مذہب پر بھی نشانہ لگاےااور عیسائی سماج پر بھی جم کر تنقیدیں کیں۔انہیں لگتا ہے کہ اپنے بےان پر انہیں بہت زےادہ فخر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے انکی عصبےت اور فرقہ پرست سوچ اجاگر ہوگئی ہے ۔ در اصل ایسا لگتا ہے کہ بابا رام دیو چاہتے ہیں بے تکے بےان دے کر اور دیگر مذاہب پر انگلی اٹھا کر وہ سماج میں مزید مقبول ہو جائیں گے ،ان کو کوئی بڑا عہدہ مل جائے گا اور اپنے آقاؤں کی نظروں میں سرخرو ہونگے ،لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ اس سستی شہر ت اور ان کی غلیظ ذہنیت نے انہیں مزید نیچے گرا دےا ہے۔ان کا پتنجلی برانڈ کا لوگ بائیکاٹ کرنے لگے ہیں اور ان پر پہلے سے زےادہ تنقید اور لعنت ملامت کا سلسلہ زور پکڑ گےا ہے۔مانگ اٹھ رہی ہے کہ رام دیو کو جیل بھیجا جائے ان پر مقدمہ چلاےا جائے۔اندازہ نہیں ہوتا کہ بابا رام دیو ادوےات کی کمپنی چلانے کے ساتھ اتنی زہریلی،خطرناک اور ناپاک سوچ کے مالک ہونگے کہ جو ملک کو بانٹنے والی ہے اور سماج کو تقسیم کرنے والی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اب یہ چلن عام ہوگےا ہے کہ جو بھی اور جس کا جو دل چاہتاہے اقلیتوں کے خلاف زہر اگل دیتا ہے اور حکومت اس کا کچھ نہیں بگاڑ پاتی! ۔بلکہ آفت ان کی آتی ہے جو انصاف کے لئے آواز اٹھائیں ،غداری کا لیبل ان پر لگتا ہے جو ملک کے مفاد کی بات کریں ،تعلیم کی بات کریں اور ملک کو جوڑنے کی بات کریں۔ جیل میں وہ لوگ ڈالے جاتے ہیں جو جمہوری طریقہ سے آواز بلند کریں ،حکومت کو قلم کے ذریعہ آئینہ دکھائیں ،سچ کو سامنے لانے کے لئے ااور انصاف کی بات کرنے کے لئے آگے قدم بڑھائیں، گلا انکا گھونٹا جاتاہے جو اپنے حق کے لئے آواز اٹھائیں اور اپنے مذہب کو بچانے کےلئے آواز بلند کریں۔یہ سراسر ناانصافی ہی ہے ۔ بابار ام دیو کے جرم کے خلاف آوازیں یوں ہی نہیں اٹھ رہیں ہیںبلکہ اس میں انصاف اور حق کی دہائی بھی چھپی ہوئی ہے ۔اس لئے حکومت ان کے خلاف سخت ایکشن لے ۔جس طرح سے صدیق کپن،صفورہ زرگر،شرجیل امام جیسے لوگوںکے خلاف بے چوں و چرا کارروائی کی گئی۔بابارام دیو کا بےان سماج میں نفرت پھیلانے اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے والا ہے ۔انہیں یہ حق کیسے پہنچتا ہے کہ وہ مذہب اسلام پر انگلی اٹھائیںاور اس پر فضول کی تنقید کریں۔اسلام مذہب نا تو دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے نا ہی دوسرے مذہب کو برا بھلا کھنے کی تعلیم دیتا ہے ۔بیمار ذہن والوں کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے اور یہ سوچنا چاہئے کہ کیا وہ سبھاؤں کو دوسرے مذہب پر کیچڑ اچھالنے کےلئے استعمال تو نہیں کرر ہے۔جبکہ ایسی سبھاؤں میں ہندو مذہب کی تبلیغ کرنے کی بات ہوتی ہے اور اسی کی تعلیمات کو عام کیا جاتا ہے۔لیکن بابا رام دیو نے اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور سماج کے فرقوں میں زہر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔حکومت اس طرح کے جلسوں پر روک لگانے سے کیوںکترارہی ہے، یہ سوال اب اٹھنے لگا ہے۔












