دنیا میں سب سے زیادہ غریب بھارت میں رہتے ہیں ۔بھکمری میں ہماراملک دنیا میں 101ویں نمبر پر ہے ۔بھوکوں کی تعداد 2018میں 190ملین تھی جو 2022میں دوگنی ہوگئی ہے ۔بے روزگاری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ،2022کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 5کروڑ سے زیادہ تعلیم یافتہ لوگ بے روزگار ہیں۔جہالت بھی کمال کی ہے تقریبا ً35فیصد لوگ ایسے ہیں جو ایک حرف بھی نہیں پڑھ سکتے اور جہاں تک اہل علم لوگوں کے فیصد کا سوال ہے تو اس کا جواب شاید کوئی نہ دے سکے ۔ملک میں شرح خواندگی کا فیصد صرف ان لوگوں کی نشاندہی کرتا ہے جو بقول سرکار ” ساکشر“ ہیں ۔امریکہ کے دانشوروں نے ان ملکوں کی فہرست مرتب کی ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں ،انھوں نے اس فہرست میں اکسٹھ ملکوں کو شامل کیا ہے ،لیکن وشو گرو کانام اس فہرست میں کہیں نہیں ہے ۔ہم تعلیم کے ضمن میں 163ملکوں کی فہرست میں135ویں مقام پر ہیں۔صحت کے معاملے میں بھارت کا مقام 195ممالک میں اوپر سے 145ویں مقام ہے ،یعنی صرف نو ممالک ہی ہم سے نیچے ہیں ۔اس فہرست میں بنگلہ دیش جیسا ملک بھی ہم سے اوپر ہے ۔میں نے یہ اعداد و شمار اپنے قارئین کے سامنے اس لیے رکھے ہیں تاکہ وہ ان کی روشنی میں مرکزی حکومت کے بجٹ کا جائزہ لے سکیں اور دیکھیں کہ موجودہ بجٹ مندرجہ بالا مسائل کا تدارک کرتا ہے کہ نہیں۔
سرکار نے جو عام بجٹ پیش کیا ہے وہ ملک کی ترقی و خوش حالی کا ضامن کم انتخابی منشور زیادہ ہے ۔اس میں بہت کچھ ایسا ہے جس سے حکومت کے امیر دوستوں کو فائدہ پہنچے گا اور وہ خوش ہوکر انتخابات کے وقت فنڈنگ کریں گے ۔سرکار نے عام انسان کے ٹیکس کی حد سات لاکھ کرکے یہ اشارہ دیا ہے کہ اس سے کروڑوں دیش واسیوں کا بھلا ہوگا ۔ماضی میں یہ حد پانچ لاکھ روپے تھی ،دوسری طرف امیروں کے ٹیکس میں کمی کرکے سرکار نے ارب پتیوں کولاکھوں کا فائدہ پہنچایا ہے ۔ماضی میں پانچ کروڑ سے زیادہ کی سالانہ آمدنی پر 37فیصد ٹیکس دینا پڑتا تھا ،سرکار نے 12فیصد گھٹا کر اسے 25فیصد کردیا ہے ۔یعنی ایک طرف کسی معمولی آمدنی والے شخص کو محض دس، بیس ہزار روپے کا فائدہ اور دوسری طرف ایک کروڑ پر 12لاکھ کا فائدہ ۔اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عام بجٹ سرمایہ داروں کے مفادات کو سامنے رکھ کر تیار کیا گیا ہے ۔جس کا بحر حال انتخابات میں سرکار کو فائدہ ہوگا۔
بجٹ میں ایک تشویش کی بات یہ ہے کہ سبسڈیز کم کردی گئی ہیں ۔غذائی سبسڈی میں 90ہزاررکروڑ روپے ،زراعت میں کام آنے والے کیمکلس اور کھاد میں دی جانے والی سبسڈی میں 50ہزار کروڑ اور پیٹرولیم سبسڈی میں 6900کروڑ روپے کم کیے گئے ہیں ،اس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا ۔ بجٹ کے دن ہی امول دودھ میں فی کلو تین روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اکثریت کو خوش کرنے کے لیے خاص بات یہ ہے کہ اقلیتوں کے بجٹ میں38فیصد کی کمی کی گئی ہے ۔اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ گزشتہ سال کا بجٹ 520.50 کروڑ روپے کا تھا۔لیکن پورے سال میں صرف 2612کروڑ خرچ ہوپایا ،اس لیے اسے گھٹا کر 3097.30کروڑ روپے کردیا گیا ہے ۔ہونا تو یہ چاہئے کہ سرکار وزارت اقلیتی امور سے یہ سوال کرتی کہ بجٹ کی رقم کیوں خرچ نہیں کی گئی ہے ،کیا سرکار نے وقت پر پیسہ نہیں دیا ؟کیا اقلیتوں کی ضرورتیں پوری ہوگئیں کہ باقی پیسہ بچ گیا ؟یا وزارت نے اقلیتی پروجیکٹوں پر پیسہ خرچ ہی نہیں کیا ؟یا اقلیتوں کو سرکار کی اسکیموں سے واقف ہی نہیں کرایا گیا۔ اس احتساب و تجزیہ کے بجائے سرکار نے بجٹ ہی کم کردیا ۔ظاہر ہے اس عمل سے اقلیتوں کو نقصان ہوگا ۔ اقلیتوں کو مفت کوچنگ کے نام پر 2022کے بجٹ میں 79کروڑ روپے دیے گئے تھے ،اس بار صرف 30کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ،اقلیتی مدارس کو دی جانے والی رقم 160کروڑ سے محض 10کروڑ رہ گئی ہے ۔اقلیتی خواتین کی حمایت کا دم بھرنے والی سرکار نے خواتین لیڈر شپ ڈیولپمنٹ کے نام پر دئے جانے والے ڈھائی کروڑ روپے کو گھٹا کر دس لاکھ کردیا ہے۔اقلیتوں کو تکلیف دے کر سرکار اکثریت کو خوش کرنا چاہتی ہے ۔کیوں کہ اس کا ووٹ بینک ہی اکثریتی طبقہ ہے ۔2014سے پوری حکومت اقلیت دشمنی کے ارد گرد ہی گھوم رہی ہے۔
بجٹ میں چونکانے والی ایک بات یہ ہے کہ تعلیم کے بجٹ کو بھی گھٹادیا گیا ہے۔2022میں سرکار نے2021کے مقابلے گیارہ فیصد اضافہ کیا تھا ۔لیکن 2023-24کے بجٹ میں پھر ڈنڈی ماردی گئی ہے ۔2022میںایک لاکھ چار ہزار دوسو ستتر کروڑ روپے کا بجٹ تھاجو اس بار بظاہر معمولی اضافہ کے ساتھ ۱یک لاکھ بارہ ہزارآٹھ سو نناوے کروڑکا رکھا گیا ہے۔گزشتہ سال بجٹ کے کل اخراجات کا 2.64تعلیم کا بجٹ تھا ،جو اس بار گھٹ کر 2.51رہ گیا ہے ۔بجٹ میں پری میٹرک دی جانے والی اسکالر شپ میں62فیصد کی کمی کردی گئی ہے گزشتہ سال یہ بجٹ 1425کروڑ روپے کا تھا ،لیکن اس سال محض 433کروڑ روپے کا رہ گیا ہے ۔ٹیکنکل کورسیز کے لیے دی جانی والی انڈر گریجویٹ اسکالر شپ جو سال گزشتہ میں365کروڑ تھی اس سال محض 44کروڑ رہ گئی ہے ۔ یوپی ایس سی ،ایس ایس سی میں پاس ہونے کے لیے جو امداد دی جاتی تھی وہ اس بار ختم کردی گئی ہے۔اسکل ڈیولپمنٹ کے نام پر گذرے ہوئے سال میں235.41کروڑ روپے تھے ،وہ اس بار صرف د س لاکھ روپے رہ گئے ہیں۔نئی منزل کا بجٹ بھی 46کروڑ سے گھٹ کر دس لاکھ رہ گیا ہے۔ اپ گریڈنگ ا سکل (USTTAD)کے نام پر دی جانے والی رقم 47کروڑ سے دس لاکھ رہ گئی ہے۔یہ امداد اور وظائف اقلیتوں ،اوبی سی اور ایس سی ایس ٹی کے طلبہ کو دیے جاتے تھے ۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت تعلیم کے تئیں کتنی سنجیدہ ہے۔ملک کی تعلیمی صورت حال دیکھیے ،ملک کی ضرورت کا اندازہ کیجیے اور بجٹ میں کٹوتی ملاحظہ کیجیے تو آپ اپنا سر پیٹ کر رہ جائیں گے ۔دراصل سرکار یہ جانتی ہے کہ تعلیمی بجٹ کا زیادہ حصہ ملک کے ان لوگوں پر خرچ ہوتا ہے جو رزرویشن کے زمرے میں آتے ہیں ۔اس میں دلت ،اقلیتیں اور دیگر پسماندہ ذاتیں ہیں ،ان کی تعلیم سے برہمنی نظام کو خطرہ ہے ،اس لیے پرائمری اور ثانوی نظام تعلیم کو چوپٹ کرکے رکھ دیا گیا ہے ۔اعلیٰ ذات کے افراد پرائیویٹ اسکولوں کا رخ کرتے ہیں ،حکومت کے رویہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ جلد ہی ملک کے تعلیمی نظام کو نجی سیکٹر میں دے دیا جائے گا۔
عام بجٹ میں 157نرسنگ ہوم کھولنے کا وعدہ کیا گیا ہے ۔دوسری طرف صحت کے بجٹ میں بھی کمی کی گئی ہے ۔ایمس کا بجٹ گھٹا دیا گیا ہے ۔صحت کے معاملے میں بھی ہم جانتے ہیں کہ سب سے زیادہ بیمار ہمارے یہاں ہیں ۔میڈیکل کی سہولیات کا فقدان ہے ۔کرونا مہاماری کے دوران ہماری تصویر سب کے سامنے تھی ۔ابھی جب کہ مہاماری سے کلی طور پر پیچھا نہیں چھٹا ہے ۔ایسے وقت میں صحت کے بجٹ میں کمی کرنا ملک کے عوام کی صحت خراب کرنے جیسا ہے ۔سرکاری اسپتالوں کی خراب صورت حال کا فائدہ پرائیویٹ اسپتال اٹھاتے ہیں ۔بیماریاں بڑھ رہی ہیں،علاج مہنگا ہورہا ہے اور بجٹ گھٹ رہا ہے ۔
بے روزگار وں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور سرکار منریگا کے بجٹ میں18فیصد کمی کررہی ہے ۔منریگا کے تحت دیہی علاقوں میں بے روزگاروں کو 100 دن کام دیا جاتا ہے ۔اس اسکیم سے گاؤں کے رہنے والے غیر ہنر مند افراد کے گھروں میں کم سے کم دو وقت کی روٹی کا انتظام ہوجاتا ہے ۔لیکن حکومت نے بجٹ میں روزگار فراہمی کی کوئی پختہ یقین دہانی نہیں کرائی ہے بلکہ منریگا کے بجٹ میں کمی کرکے یہ یقین دہانی ضرور کرادی ہے کہ اسے غریبوں سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور غربت کا ازالہ حکومت کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے ۔ہماری دھروہر اور پردھان منتری جن وکاس یوجنا کے بجٹ پر بھی بڑی رحمی سے قینچی چلائی گئی ہے،NMDFCکا بجٹ 159کروڑ سے 61کروڑ رہ گیا ہے ۔ہر اس اسکیم کا بجٹ گھٹا دیا گیا ہے جس کا فائدہ سماج کے ان طبقات کو پہنچتا تھا جو رزرویشن کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ حکومت ملک کی عوام کو دو وقت کی روٹی کے انتظام میں ایسا الجھا کر رکھنا چاہتی ہے کہ عوام کو کسی دوسری طرف دیکھنے کو موقع نہ ملے ۔اس وقت ملک میں ہم دیکھ رہے کہ ایک عام انسان یا تو روٹی کے انتظام میں لگا ہوا ہے ،یا اسے مندر مسجد میں الجھا کر رکھ دیا گیا ہے ۔
بجٹ پیش کرتے وقت ایک رفاہی و فلاحی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں غریبوں اور امیروں کے درمیان کی خلیج کم کرے تاکہ ایک خوش حال معاشرہ پروان چڑھ سکے ۔لیکن بھارت میں یہ خلیج ہر روز بڑھ رہی ہے۔چند ارب پتی ہیں جن کی دولت میں بے تحاشا اضافہ ہورہا ہے ،کورونا مہاماری کے دوران ساری دنیا کی عوام پریشان تھی ،اس کی جیب خالی ہوگئی تھی ،مڈل کلاس کے افراد بھی کشکول گدائی لیے پھرتے تھے ،تب کے ڈوبے ابھی تک نہیں ابرے ہیں۔لیکن اسی مہاماری کے دوران ہمارے ملک کے ارب پتی کھرب پتی ہوگئے ۔اکیلے امبانی کی دولت میں دس گنا اضافہ ہوگیا ۔اس کا مطلب ہے کہ اس دوران ان کے پروڈکٹس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ملک کے دوچار افراد یا خاندان کا نام امیروں کی فہرست میں اوپر نیچے ہوجانے سے ملک خوش حال نہیں ہوسکتا ۔حکومت کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ بجٹ میں مختص رقم کو سو فیصد خرچ کرائے بجٹ کا جائزہ ہر سہ ماہی پر لیا جانا چاہئے ،جو وزارتیں اور شعبہ جات اس معاملے میں کوتاہی کرتے ہیں ان کو توجہ دلائے ،ہمیں اپنے ہمسایہ ملکوں سری لنکا اور پاکستان سے عبرت حاصل کرنا چاہئے ۔ایک کی معیشت دفن ہوچکی ہے اور دوسرے کا جنازہ تیار ہے ۔ہم بھی وینٹی لیٹر پر ہیں ،اگر وقت رہتے حکومت نے اپنی نیت نہیں بدلی اور ایک سو چالیس کروڑ عوام کے مفادات کو نظر انداز کرکے چند پونجی پتیوں کو فائدہ پہنچانے کے طریقے پر لگام نہیں لگائی تو سانس کی ڈور کبھی بھی ٹوٹ سکتی ہے ۔
غریبوں کا لہو تو آپ کی کاروں کا ڈیژل ہے
غریبی مٹ گئی تو آپ کیا رکشہ چلائیں گے
ہلال سیوہاروی












