نئی دہلی، سماج نیوزسروس: پچھلے کئی دنوں سے مسلسل شاہین باغ کے ہائی ٹینشن روڈ پر گندہ پانی بہنے کی وجہ سے عوام کو بہت زیادہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس سلسلے میں روزنامہ ہمارا سماج کے نمائندے نے 06 فروری کو شاہین باغ کے کئی مقامی افراد سے گفتگو کر کے ایک اسٹوری لکھی تھی۔ رپورٹ میں یہ بات بڑی شد و مد کے ساتھ اٹھائی گئی تھی کہ "ٹھوکر نمبر سات اور آٹھ سے نیچے اترتے ہی فردوس مسجد کے آس پاس گندے پانی کے بہاؤ کی وجہ سے نمازیوں اور راہ گیروں کو بہت زیادہ پریشانیاں ہو رہی ہیں۔ فردوس مسجد سے تھوڑا سا آگے بڑھنے پر شاہین باغ کا ہائی ٹینشن، مین روڈ آجاتا ہے، آج اس پورے روڈ پر بسم اللہ جنرل اسٹور سے سبزی منڈی تک تقریباً سو میٹر سے زیادہ سڑک پر گندہ پانی بہہ رہا ہے۔ یہاں کے مقامی لوگوں کی حکام سے اپیل ہے کہ وہ جلد از جلد اس جانب توجہ دیں تاکہ ہم لوگوں کو اس پریشانی سے نجات مل سکے۔” خوش آئند بات یہ رہی کہ حکومت کے نمائندوں نے فوراً اس جانب توجہ دی اور گندے پانی کے روک تھام کے ساتھ ساتھ یہاں پر صاف صفائی کا بھی اہتمام کرایا۔یہاں مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ پورے اوکھلا میں آئے دن کسی نہ کسی روڈ پر گندے پانی کا چشمہ ابل پڑتا ہے۔ جا بجا نالیوں کے خراب ہوجانے کی وجہ سے اس کا گندہ پانی سڑکوں پر بہنے لگتا ہے۔ اس بارے میں ایک مقامی شخص نے نام شائع نہ کرنے کی شرط پر یہ بتایا کہ ایم سی ڈی کے ذمہ داران نے ترتیب کے ساتھ ایک گلی کھود کر اس میں پائپ لائن بچھانے کے بجائے شاہین باغ کی سبھی گلیوں کو کھود رکھا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کی تقریباً سبھی نالیاں بلاک ہوگئی ہیں اور نالیوں کے بلاک ہونے کی وجہ سے ان کا پانی گلیوں اور سڑکوں پر بہنے لگتا ہے۔ شاہین باغ ہی کے ایک مقامی شخص سعید الرحمن نے بتایا کہ پچھلے کئی دنوں سے لگاتار یہاں کھدائی کا کام جاری ہے۔مقامی ممبر اسمبلی امانت اللہ خاں نے کچھ جگہوں پر نالیوں میں پائپ بچھوانے کا کام کیا ہے اور کانگریس کی نومنتخب کونسلراریبہ خان نے بھی ابھی حال ہی میں حلف لینے کے بعد شاہین باغ میں کچھ جگہوں پر تعمیری کاموں کی طرف اپنی توجہ مرکوز کی ہے۔












