ہمارا پیارا وطن اور مسکن ہندستان ایک عظیم ملک ہے،اور اپنے بعض امتیازات اور اختصاصات کی بنا پر ایک جہان بھی ہے۔اِس کا رقبہ اور آبادی دنیا کے درجنوں ممالک کے مجموعی رَقبے اور آبادی سے زیادہ ہے۔پھر اِس ایک ملک میں زبان، مذہب، ثقافت اور انسانی ساخت و بناوٹ کی ایسی تَکثیریت ہے کہ اِتنی نیرنگی اور تنوع دنیا کے درجنوں مختلف ممالک میں بھی نہیں ہے۔اِس تَکثیریت اور امتیازات کے باوجود،یہاں کے تمام باشندے، کشمیر سے کنیا کماری تک،الگ الگ زبان، مذہب، کَلچر ،رَہن سہن ،رِیت رَواج کے باوجود ہندستانیت کی خوشنما لڑی میں گندھے ہوئے ہیں۔یہی وطنیت اور ہندستانیت ہماری وَحدَت، ایکتا اور قومی یکجہتی کی مضبوط بنیاد ہے۔اِسی بنیاد پر ہم سب، الگ الگ مذہب کے ماننے،طرح طرح کی بولیاں بولنے، اور مختلف تہذیبی و سماجی روایات کے حامل ہونے کے باوجود بھی ایک،اور آپس میں بھائی بھائی ہیں، کیوں کہ ہم سب ایک مادرِ وطن کے سپوت ہیں۔اسی وطنی وحدت کی بنیاد پر ہم سب کی راشٹریتا ، نیشنلٹی nationality ایک ہے۔اس معنی میں ہم ایک قوم اور ایک نیشن Nation ہیں۔
جمعیتہ علماءہند نے متحدہ قومیت کے اس نظریہ theory کو پوری قوت کے ساتھ پیش کیا،اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی ر حمتہ اللہ علیہ نے(1937ءمیں) کہا تھا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں۔ مولانا مدنی علمی و عملی آدمی تھے،مالٹا کے زمانہ اسارت میں دنیا کی مقتدر سیاسی شخصیات کو قریب سے دیکھا اور سمجھا تھا۔وہ وقت کے نبض شناس اور زمانے کی روش سے آگاہ تھے، اس لیے انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اقوام اوطان سے بنتی اور جغرافیائی سرحدوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ وقت نے مولانا مدنی کے نظریہ کو صحیح ثابت کردیا۔آپ دنیا کے ملکوں پر ایک نگاہ ڈالیں، خلیجی ممالک ہوں یا یورپین ممالک، ہر جگہ قوم کا تصور محض مذہبی یکسانیت پر مبنی نہیں ہے۔
در اصل ہندستان جیسے مذہبی، لسانی اور ثقافتی تَکثیریت والے ملک میں وطنیت ہی وحدت، محبت اور یگانگت کا ایک اہم سرچشمہ ہے۔اس سے قومی یکجہتی اور باہمی رواداری کے سوتے پھوٹتے اور ملک کی سالمیت اور سر بلندی کے لیے پاکیزہ جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اسی جذبۂ وطنیت نے تمام محب وطن ہندو اور مسلمانوں کو ملک کی آزادی کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا تھا۔وہ ایک ساتھ جیل میں رہتے اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرتے،ساتھ ہی اپنے اپنے مذہب کے مطابق خدا کی عبادت کرتے، اور ایک ساتھ سرفروشی کی داستانیں رقم کرتے اور مسکراتے ہوئے تختہ دار کی زینت بنتے تھے۔جب کہ وہ ہم سے زیادہ مذہب پرست اور خدا ترس تھے۔در اصل ان کی حب الوطنی اور جذبۂ وطنیت، اسی کے ساتھ ان کی مذہبیت اور روحانیت بہت ہی وقیع، پر کشش اور معیاری تھی۔ان کی وطنیت سے ان کی مذہبیت پر کوئی آنچ نہیں آتی تھی،اور نہ ان کی مذہبیت سے ان کی وطنیت پر کوئی سوالیہ نشان لگتا تھا، بل کہ مذہبیت سے وطنیت کی چمک اور شفافیت میں مزید چار چاند لگ جاتے تھے، اور وطنیت سے مذہبی اقدار کے وقار میں اضافہ ہوجاتا تھا۔
آئین ہند نے جذبۂ وطنیت اور مذہبی آزادی کو بڑی خوبصورتی سے یکجا اور ہم آہنگ کیا ہے۔کیوں کہ انصاف، مساوات اور آزادی دستورِ ہند کی روح ہے۔آج بھی قومیت کا یہ پاکیزہ اور محبت آگیں تصور ہماری اساس اور قیمتی اثاثہ ہے، اس اساس اور اثاثہ اور اس کی معنویت کا تحفظ،اور اس کے مفہوم کی آئین ہند کی روشنی میں درست تشریح اور تعین وقت کا اہم تقاضا ہے۔کیوں کہ آج اس قومیت اور وطنیت پر کچھ گہن سا لگا ہوا اور دھند سی چھائی ہوئی ہے،اورانصاف، مساوات اور اخوت کے مناظر و مظاہر سمٹتے جارہے ہیں۔ تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ نفرت کی زبردست سیاسی سونامی کی کوششوں کے باوجود یہاں کے عوام اور سماجی طبقات میں آج بھی وطنی یگانگت اور بھائی چارہ کی خوشبو موجود ہے، جس کے دلکش نمونے سامنے آتے رہتے ہیں۔یہ دلکش مناظر بطورِ خاص اس وقت دیکھنے میں آتے ہیں جب ہم اپنی ملکی سرحد عبور کرکے دوسرے ملک جاتے ہیں تو ہم تمام ہندستانی، بلا تفریق مذہب و فرقہ،نیشنلٹی و شہریت کے حوالے سے ہندستانی، اور انڈین Indian کے ایک زمرے میں ہوتے ہیں۔اسی ضمن میں عرب ممالک میں بھی جنسیتہ کے تحت مسلم و غیر مسلم تمام ہندستانیوں کو الہندی لکھا جاتا ہے۔اس طرح پردیسوں میں ہندستانی قومیت کی آب و تاب پوری توانائی کے ساتھ دیکھنے کو ملتی ہے،اس رشتے کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ بہت سے لوگ مشترکہ طور پر ایک فلیٹ اور ایک روم میں ساتھ ساتھ رہتے سہتے، کھاتے پیتے ہیں۔نہ مذہب آڑے آتا ہے، نہ زبان۔اسی طرح بیرون ممالک میں مقیم ہندستانیوں کو کوئی بھی وقتی و ہنگامی مسئلہ، یا ثقافتی و کلچرل Cultural پروگرام ہو، یہی رشتہ سب کو یکجا کرتا اور سرگرمِ عمل ہونے کا محرک بنتا ہے۔
کاش وطنیت کا یہ پاکیزہ اور مثبت تصور ایک زندہ حقیقت بن کر بلا تفریق مذہب و فرقہ تمام ہندستانیوں کی زندگیوں میں پھر جلوہ نما ہو جائے۔لیکن اس طرح کی کسی بھی خواہش اور خواب کی بامعنی تکمیل اور سچی تعبیر کے لیے ضروری ہے کہ وہ خواب اور خواہش زمینی سچائی اور حقیقت سے ہم آہنگ ہو۔موجودہ وقت میں ملک کی زمینی سچائی یہ ہے کہ ایک ملک اور ایک نیشن Nation کی بنیاد پر وحدت و یگانگت کا مطلب کچھ اس قسم کا باور کرایا جارہا کہ ہے کہ اقلیتیں اپنی مذہبی شناخت، تہذیبی تشخص اور الگ عائلی قانون پر اصرار نہ کریں۔اور اگر اس سلسلے میں ملکی باشندوں کے کسی گروہ اور سماج کی طرف سے مذہبی تشخص اور تہذیبی انفرادیت کے آئینی و دستوری تحفظ اورعمل آوری کے حق کی دہائی دی جاتی اور اقدامات جاری رکھے جاتے ہیں تو اسے ملک دشمنی اور وطن سے غداری کے مترادف قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ در اصل عدم برداشت کا یہ رویہ، مذہب کا جارحانہ سیاسی استعمال اور اس کی برتری قائم کرنے کی بے جاکوشش کا منطقی نتیجہ ہے۔ اس میں مذہب کا کوئی قصور نہیں ہے، مذہب تو جوڑنے کی تعلیم دیتا ہے بانٹنے، کاٹنے کی نہیں۔
مذہب کے بہانے ماضی میں بھی سیاسی اغراض و مقاصد حاصل کئے گئے اور حکومتیں بنائی گئی ہیں اور موجودہ وقت میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔لیکن دنیا کے جن ملکوں میں مذہبی، لسانی اور تہذیبی تَکثیریت ہے اور وہاں مذہبی شناخت، تہذیبی انفرادیت، سماجی تشخص کوئی مسئلہ نہیں ہے، وہاں مذہبی و تہذیبی اختلاف اور تصورِ تاریخ الگ الگ ہونے کے باوجود قومی شعور اور احساسِ یگانگت زندہ و تابندہ اور زندگی کے ساتھ رواں دواں ہے۔
در اصل تکثیری ملک میں وطنی وحدت و یگانگت اور قومی شعور تیزی سے اس صورت میں پھلتا اور پھولتا ہے جب تمام مذہبی، لسانی، تہذیبی اکائیاں اپنی تہذیبی انفرادیت اور مذہبی تشخص کی طرف سے مطمئن ہوں۔اس لیے مذہبی،تہذیبی، ثقافتی تشخص اور شناخت حاصل کرنے کی مہمات کو ملکی مفادات کے خلاف باور کرنا اور اس راہ میں اَڑچنیں پیدا کرنا نہایت نادرست رویہ ہے۔اسے تو وسیع تر وطنی و قومی وحدت میں ڈھلنے اور قومی شعور و یگانگت سے سرشار ہونے کا ذریعہ سمجھتے ہوئے خوش دلی سے قبول کرنا اور اس کے مواقع بہم پہنچانے میں مثبت کردار اداکیا جانا چاہیے۔یہی وطن، وطنیت اور اہل وطن کے وسیع تر مفاد میں ہے۔












