دیوبند، سماج نیوزسروس: دیوبند کوتوالی علاقہ میں تین روز قبل نوجوان پر تیزاب پھینکنے کی واردات کا پولیس نے راز فاش کرتے ہوئے مظفرنگر کے پانچ نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔ واردات میں شامل مظفرنگر کے ہی دو نوجوان فرار ہیں ۔ جس نوجوان کے اوپر تیزاب پھینکا گیا تھا اس کے ساتھ ایک ملزم کی محبوبہ کی شادی طے ہوگئی تھی ، پولیس نے پانچوں کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے جیل بھیج دیا ہے۔ پولیس لائن میٹنگ روم میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ایس پی سٹی ابھیمنیو مانگلک نے بتایا کہ ساکن منوہر پور شبھم کے چہرے پر تین روز قبل موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوانوں نے تیزاب پھینک دیا تھا ، اس سلسلہ میں نامعلوم افراد کے خلاف دیوبند تھانہ میں مقدمہ قائم کیا گیا تھا ، پولیس نے سرویلانس کی مدد سے اس معاملہ میں پانچ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں بوبی ولد امرپال، اودے عرف بھولا ولد راکیش ، ثاقب ولد نواب الدین ساکن بھوکا رہیڑی ، ہریندر ولد کوڑا سنگھ ، انوج ولد پنّا ساکن بڈاہیڑی تھانہ بھوپہ ضلع مظفرنگر ہے۔ وہیں بڈا ہیڑی کے ہی دو ملزمان دیپک اور روی فرار ہیں ، گرفتار کئے گئے ملزمان نے پوچھ تاچھ میں بتایا کہ اودے کا اپنے ہی علاقہ کی ایک لڑکی کے ساتھ عشق چل رہا تھا لیکن لڑکی کے والد نے اس کا رشتہ شبھم کے ساتھ طے کردیا تھا ، اسی رنجش میں ملزمان نے شبھم کے چہرے پر تیزاب پھینکا تھا، تاکہ لڑکی کا والد چہرہ خراب ہونے کے بعد شادی سے انکار کردے ۔ اس سلسلہ میں ایس پی نے بتایا کہ فرار چل رہے ملزمان کو بھی جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا ۔ ایس پی سٹی نے یہ بھی بتایا کہ واردات کے روز موٹر سائیکل پر اودے اور ثاقب موجود تھے، باقی ملزمان ایک کار میں تھوڑی دور کھڑے تھے ، کار سے شبھم کی ریکی کی گئی تھی، واردات کے روز سے تین روز پہلے تک ملزمان ریکی کررہے تھے ، وہ مظفرنگر سے دیوبند تین مرتبہ آئے تھے ۔ جب انہیں معلوم ہوگیا کہ روزانہ شبھم دیوبند آتا ہے تو پھر ملزمان نے واردات کو انجام دیا۔ اس حملہ میں شبھم کا چہرہ معمولی طور سے جھلس گیا تھا ، ابتدائی طبی امداد کے بعد سے وہ اپنے گھر پر ہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار کئے گئے سبھی ملزمان کو عدالت میں پیش کیاگیا جہاں سے انہیں جیل بھیج دیا گیا۔












