عزیراحمدقاسمی
14؍فروری کی آمد ہے، جسے موجودہ دور میں ’یوم محبت‘ کامذموم اورگھنائونا نام رکھا گیا ہے، ابھی چند سال تک یہ تاریخ بھی مختلف تاریخوں اور مہینوں کی طرح گزر جاتی تھی، لیکن ملت اسلامیہ کے چند سرپھرے نوجوان لڑکے اورلڑکیاں دوسرےمذاہب اور فرق کی دیکھا دیکھی ، ان کے ماننے والوں کے طور طریقوں کو اختیار کررہے ہیں ، عیسائیوں کے یہاں یہ دن روز محبت کے نام سے مشہور ہے ، اس کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی ہیں ۔
ہم مسلمان ہونے کے ناطے جائزہ لیں کہ ہمارا اللہ اوراس کے پیارے حبیب ؐ اس مذموم تیوہار کے بارے میں نیز اس جیسے خود ساختہ اور حیاسوز تیوہاروں کے بارےمیں کیا ارشاد فرماتے ہیں ؟
ارشاد ربانی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’جو لوگ مسلمانوںمیں بے حیائی پھیلانے کے آرزومند رہتے ہیں، ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے، اللہ تعالی سب کچھ جانتاہے، اور تم نہیں جانتے‘‘۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ ان ہی میں سے ہے ‘‘۔
ناظرین کرام : اس آیت اور حدیث نبوی ؐ کی روشنی میںاس ناجائز اور غلط تیوہار کاجائزہ لیں جو ۱۴؍ فروری کو ویلنٹائن ڈے کے نام سے منایا جاتاہے، جسے عرف عام میں ا ب لوگ ’محبت کا تیوہار‘ کہتے ہیں ۔
اسلام دین ِ فطرت ہے، محبت انسانی فطرت کا تقاضا ہے ، اسی لیے اسلام نے محبت کرنے سے روکا نہیں ، البتہ اس کی حدود وقیود بتائی ہیں اور اس کے طریقے بتائے ہیں، محبت اﷲ اور اس کے رسول سے ہو، اوراُن کے ارشادات کے تحت والد، والدہ،بھائیوں، بہنوں، بیوی ، اولاد، رشتہ داروں، اور نیک لوگوں سے ہو ، اسلامی تعلیمات کے ہوتے ہوئے غیروں کی نقل کرنا مسلمان کو زیب نہیں دیتا، ویلنٹائن ڈے کا تعلق مشرکانہ اور بت پرستانہ عقیدہ ہونے کے علاوہ فحاشی ، عریانی او رجنس وموسیقی کے ساتھ ہے، جس کے ناجائز ہونے میں کوئی تردد نہیں، لہٰذا ویلنٹائن ڈے منانا اور اس پر تحائف وغیرہ بھجوانا، مخصوص کپڑے پہننا جائزنہیں، ”ویلنٹائن ڈے” منانے والے اﷲ کی ناراضگی کو مول رہے ہیں اور بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
· نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاشرہ قائم فرمایا تھا اس کی بنیاد حیا پر رکھی تھی، جس میں زنا کرنا ھی نہیں بلکہ اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم ہے، مگر اب ايسا لگتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیرتک اٹھانے کے لئے تیار نہیں هين، بلکہ اب وہ حیا کے بجائے وہی کریں گے جو ان کا دل چاہے گا جو یقیناًمذموم اوربرا ہے۔
ایسے حالات میں ہمیں عفت و پاکدامنی کو ہاتھ سے چھوٹنے نہ دینا چاہئے، اور اپنی تہذیب و تمدن، ثقافت و روایات کو اپنانا چاہیے۔ غیروں کی اندھی تقلید سے باز رہنا چاہئے تا کہ دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کرسکیں، اور جان لینا چاہیے کہ ’’یوم تجدید محبت‘‘ منانے کے نام پر کھلم کھلا بے راہ روی کی ترغیب دی جارہی ہے، اور اسلامی معاشرے میں ان غیرمسلموں کے تہواروں کو جان بوجھ کر ہوا دی جارہی ہے، تا کہ مسلمان اپنے مبارک اور پاک تہوار چھوڑ کر غیراسلامی تہوار منا کر اسلام سے دور ہوجائیں۔
اس زمانہ مين ترقی اور روشن خیالی کے نام پر بے حیائی اور اخلاقی برائیوں کو خوب فروغ دیا جارہا ہے۔ محبت کے عالمی دن کے نام پر ہر سال۱۴؍ فروری کو منایا جانے والا ویلنٹائن ڈےValentine Day) بھی اسی سلسلے کی ایک کَڑی ہے، جو دَرحقیقت مَحبت کے نام پر بربادی کا دن ہے ۔ ویلنٹائن نامی غیر مسلم کی یاد میں منائے جانے والے اس دن کو، غیر اَخلاقی حرکات اور اَحکامِ شریعت کی کھلم کھلاخلاف ورزی کا مجموعہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی چند نافرمانیاں اور ان پر ملنے والے عذاب مُلاحظہ کیجئے،اور اس دن کی نحوست سے خود کو دور رکھئے۔
اس دن بے حیائی کا سیلاب امندتا ہے ، بالخصوص مخلوط تعلیمی اداروں میں بے پردگی و بے حیائی کے ساتھ اَجنبی مَردوں اور عورتوں کا میل مِلاپ ہوتا ہے، حالانکہ حدیثِ پاک میں اس کی مَذمّت یوں بیان کی گئی ہے کہ کسی کے سَر میں لوہے کی سُوئی گھونپ دی جائے یہ اجنبی عورت کو چھونے سے بہتر ہے۔(معجم کبیر،ج،۲۰صفحہ ۲۱۱حدیث :۴۸۶)
اس دن بہت سےہاتھ اور پاؤں بَدکاری ك کا ارتکاب کرتے ہے، نوعمر لڑکے لڑکیاں تحائف اور پھول خریدکر نامحرموں کو پیش کرتے ہیں، اور اپنی ناجائز محبت کا اظہار کرتے ہیں،حدیث پاک میں ہے: ہاتھ اور پاؤں بھی بَدکاری کرتے ہیں، اور ان کا بَدکاری (حَرام) پکڑنا اور (حَرام کی طرف) چل کرجانا ہے۔ (مسلم،صفحہ۱۰۹۵، حدیث:۶۷۵۴)
اس دن شَراب نوشی کوخوب فَروغ ملتا هے ، رنگ رَلیاں مَنانےکیلئے شراب اور نَشہ آور چیزوں کا بے تَحاشہ(بہت زیادہ) اِستعمال کیا جاتاہے، جبکہ حدیث پاک میں ہے کہ جو شخص شَراب کا ایک گُھونٹ بھی پئے گا، اُسے اس کی مِثل جہنَّم کا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا۔ (معجم ِکبیر،ج8،ص197، حدیث: 7803)
اس دن گانے باجے کا خوب اِہتمام كياجاتا ہ ، اس دن کو مَنانے کیلئے جہاں چھوٹے پیمانے پر گانے باجے،مُوسیقی بجائی جاتی ہے، وہیں بڑے پیمانے پرمیوزیکل پروگرامز اور فنکشنز (Functions) کا بھی اِہتمام کیا جاتا ہے، جبکہ روایت میں ہے کہ جو شخص کسی گانے والی کے پاس بیٹھ کر گانا سُنتا ہے قیامت کے دن اس کے کانوں میں پِگھلا ہوا سِیسہ اُنڈیلا جائے گا۔ (جمع الجوامع،ج7،ص254، حدیث:22843)
اس دن مُہلِک بیماری يعني بَدکاری کو فَروغ مِلتا ہے، جس کی وجہ سے ایڈز (AIDS) نامی مُہلک مرض پھیلتا جارہا ہے، ڈاکٹرز کے مُطابق’’ایڈز‘‘ جیسی خطرناک بیماری اِسی بَدکاری کا نَتیجہ ہے۔قُراٰنِ پاک میں بَد کاری تو دُور، اس فعلِ بَد کے قریب جانے سے بھی منع فرمایا گیا ہے۔ چُنانچہ اِرشادِ خُداوندی ہے،جس کا ترجمہ یہ ہے’ اور بَد کاری کے پاس نہ جاؤ بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی بُری راہ ہے‘۔(پارہ۱۵، سورہ بنی اسرائیل، آیت نمبر ۳۲)-
وينلينتائن ڈے‘‘کے موقع پر لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے رَسول صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نافرمانی کے کاموں پر خوشی کا اِظہار کرتے ہیں۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں غیرمُسلموں کے ہر انداز و طریقۂ کار کو چھوڑ کر، اِسلامی شِعار (طریقہ ) و عادات کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے منانا اور غیرشرعی محبت اور اس کا اظہار ناجائز ہے۔
اللہ تعالی سے دعاء ہے کہ وہ مسلمانوں کی حالت درست کرے اور ہم سب کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ یقیناًاللہ تعالی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ آمین












