بلاشبہ آر۔ ایس ۔ ایس اس وقت نہ صرف بھارت بلکہ دنیا کی سب سے بڑی اور منظم تنظیم ہے، آر ۔ ایس ۔ ایس اگرچہ اپنے کو ایک سماجی اور غیر سیاسی تنظیم کے طور پر متعارف کراتی ہے۔ لیکن دنیا جانتی ہے کہ وہ کس قدر سماجی اور غیر سیاسی ہے ، اور ہاتھی کی طرح کیسے اندرونی و بیرونی دونوں طرح کے دانتوں کا مالک ہے، خصوصی طور پر اس وقت تو اقتدار اسی کے بطن سے پیدا ایک سیاسی جماعت کے ہاتھوں میں ہے، جو سنگھ کی مرضی کے خلاف کوئی حرکت بھی نہیں کرسکتی ہے۔ کون نہیں جانتا کہ دلّی کے اسٹیج پر رقص کرنے والے اداکاروں کی ڈور کہاں اور کس کے ہاتھوں میں ہے۔ بہر حال سنگھ پریوار کیا ہے؟ اس کے نظریات (Ideology) کیا ہیں؟ اس کے سماجی خدمات کی نوعیت کیا ہے اور اسے وہ کس طرح انجام دیتا رہا ہے؟ اس سے قطع نظر اس وقت میرا موضوع کچھ بدلتے ہوئے منظر نامے پر روشنی ڈالنا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ سنگھ پریوار کاستارۂ اقبال اس وقت کافی بلندی پر پہنچ چکا ہے، وہ اس قدر طاقت ور بھی ہو چکا ہے کہ چاہے کر اور کرواسکتا ہے۔ اس کے متعدد ایجنڈے نافذ بھی ہو چکے ہیں، کچھ قانونی رکاوٹ، اور حالات کی ناساز گاری کی وجہ سے ہندو راشٹر کاباقاعدہ اعلان نہیں ہوا ہے ۔ تاہم عملاً وہ سب کچھ ہورہا ہے جو ایک ہندو راشٹر میں ہوتا ہے۔
کامیابی کے اس بلند مقام پر پہنچ کر بھی سنگھ پریوار کبھی کبھی مسلمانوں کے تعلق سے پردے کے پیچھے سے جھانک کر اپنا روش چہرہ دکھاجاتا ہے۔ یا ایک خوبصورت سا مذاق کر جاتا ہے، پھر اچانک کوئی ایسی بات بھی کرجاتا ہے جس سے روشن چہرے کے پیچھے کی حقیقت آشکار ہوجاتی ہے، کبھی سر سنچالک خود کسی مدرسے کا دورہ کرنے نکل جاتے ہیں اور بائیس کروڑ مسلمانوں کو یہ پیغام بھی دے جاتے ہیں کہ انہیں بھارت میں کس طرح کا مسلمان چاہیے؟ تو اس کے لیے انہوں نے قربانی کی جگہ کیک کاٹنے کا فتویٰ دینے والے مسلمانوں کا ایک منچ پہلے ہی سے بنارکھا ہے ، کبھی کبھی اس منچ سے بھی اس کے سربراہ اندریش کمار بڑے اچھے، اچھے پیغام دے جاتے ہیں۔
سنگھ پریوار کے اس انداز دلربایانہ کے مریدتو منچ والے ہیں ہی اب ’’محمڈن ہندو‘‘ کی اس جماعت سے باہر بھی بہت سی معزز ہستیاں اور قائدین ملت بھی متاثر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں، یا پھر مایوسی کے عالم میں، طنزیہ مسکراہٹ کو ہی پیغام محبت کے اشارے سمجھنے لگے ہیں۔ حال ہی میں کچھ معزز علمائے کرام کا سنگھ سرسنچالک اور ہندو پیشوان مذاہب ملنے کے تعلق سے مولانا آفتاب عالم ندوی ڈائرکٹر جامعہ ام سلمہ کی بہت مثبت اور فکر انگیز تحریر نظر سے گزری جو دراصل میری اس تحریر کا محرک بھی بنی۔
جہاں تک ہندو پیشوان مذاہب، اور عوام و خواص سے ملنے کی بات ہے ۔ ہندوستانی سماج میں ہمیشہ اس کی ضرورت و اہمیت مسلم رہی ہے۔ البتہ ایک بڑے ملّی و مذہبی رہنما کے ذریعہ دیر سے اٹھایاگیا ایک بڑا قدم ہے جس کی تعریف تو ہونی ہی چاہیے ۔ لوگوں کو یاد ہوگا کہ صحیح وقت پر صحیح قدم اٹھاتے ہوئے وقت کے بہت بڑے مفکر اور حالات پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت حضرت مولانا سید ابو الحسن ندوی ؒ نے برادران وطن سے تعلقات استوار کرنے اور ان کی غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے ’’پیغام انسانیت ‘‘کے نام سے ایک تحریک کا آغاز بھی کیا تھا۔یہ تحریک اپنے روشن ضمیر بانی کی وفات کے بعد بھی بغیر کسی پروپیگنڈہ کے زندہ ہے۔ اس کے متعدد اجلاس بھی ہوئے جس کے بڑے اچھے نتائج بھی آنے شروع ہو گئے تھے۔ کاش ملت کے رہنما اس تحریک کی اہمیت سمجھتے ہوئے اس سلسلے کو جاری رکھتے تو آج نفرت کا ایسا ماحول نہیں ہوتا۔
اس سلسلے میں جماعت اسلامی ہند بھی کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہے۔ حال ہی میں ’’مسجد پریچئے‘‘ کے نام سے جماعت نے ایک سلسلہ شروع کیا تھا جس کے بہتر نتائج کی خبریں بھی مل رہی تھیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک وقتی پروگرام کا حصہ تھا۔
جہاں تک دانشوار ان ملت اور علمائے کرام کا آر۔ ایس ۔ایس۔ کے سرسنچالک سے ملاقاتیں کرنا خصوصاً مولانا ارشد مدنی ، مولانا محمود مدنی، جناب ایس، وائی قریشی (سابق الیکشن کمشنر) ،جناب شاہد صدیقی جیسے مخلصین ملت کا آر۔ ایس ۔ایس چیف سے ملنا یقینا ملت کے مفاد میں ہی رہا ہوگا۔ کیوں کہ ہمارے مذکورہ رہنما سنگھ کے نیچر سے مکمل واقفیت بھی رکھتے ہیں۔ لیکن سنگھ کی طرف سے کبھی کبھی خوش کن بیانات سے مسلم اکثریت خوش ہوجاتی ہے اور یہ سمجھنے لگتی ہے کہ شاید وہ اپنے اندر کوئی بڑا بدلائو لاناچاہتا ہے۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔ لیکن سنگھ کے نیچر کو دیکھتے ہوئے اس کی کسی بھی بات پر یقین کرنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا نہایت ہی اختصار کے ساتھ سنگھ کے نیچر اور اس کے مقصد وجود پر بھی کچھ عرض کردینا ضروری سمجھتا ہوں۔
واضح ہو کہ آر۔ ایس۔ ایس ۔ 1920کے عشرے کے پُر آشوب ماحول میں ہندو فرقہ پرستی کی خمیر سے پیدا ایک انتہا پسند تنظیم ہے جو اپنے قیام 1925کے اول روز سے جارحانہ ہندو قوم پرستی کا علمبردار رہی ہے۔ وہ لالہ لاجپت رائے کے دو قومی نظریہ پر یقین رکھتی۔ اور ساور کرکے اٹلی اور جرمنی کے نسلی پرستانہ فکر پر مبنی’’ہندوتو‘‘ اور ہندو راشٹر کے تصور کو روبہ عمل لانے کے لیے تقریباً سو سال سے کوشاں ، اور سرگرم عمل رہی ہے، اس نے جرمن کے Smarts Trupsاور اٹلی کے Black Shortsکی طرح ہی تنظیمیں بنا رکھی ہیں۔ جن کے فرائض منصبی میں ماب لنچنگ ، مسجدوں کے سامنے ننگا ناچ، اشتعال انگیزنعرے بازی، اور مسجدوں کے مناروں پر بھگوا جھنڈا لہرانا اور مسلمانوں اور عیسائیوں کی مکمل نسل کشی کا ہ بانگ دہل اعلان کرنا جیسے اہم کام شامل ہیں۔ Bunch of Thoughtاس کی روحانی کتاب ہے۔یہ وہ کتاب ہے جو ’’ہندوتوا‘‘اور ہندوتوا کے لیے Crileriasبھی طے کرتا ہے۔ جس کے مطابق بھارت کا شہری ہونے کے لیے بھارت کا ’’ماتربھومی ‘‘ پتر بھومی اور ’’پنیہ‘‘ بھومی ہونا لازمی شرط ہے۔ ماتر بھومی اور پتر بھومی ہونے کے باوجود عیسائی اور مسلم بھارت کے شہری قطعاً نہیں ہو سکتے خواہ وہ اس کے لیے جان بھی گنوادیں کیوں کہ ان کا پنیہ بھومی (عقیدت کی سرزمین مکہ، مدینہ اور فلسطین) ہے۔سنگھ پریوار اپنے اسی ایجنڈے کو لے کر سوسال سے گرتے ، پڑتے اور ٹھوکریں کھاتے بڑے صبر و تحمل کے ساتھ آج اس مقام پر پہنچ چکا ہے کہ وہ اس کے ایجنڈے کو لاگو کرنے کے لیے اچھے دن آچکے ہیں ۔ عین اسی وقت ذہ برابر بھی اپنے ایجنڈے سے انحراف یا سمجھوتا کرلے، ایں خیال است و محال است و جنوں۔
پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ نگاہ محبوبانہ کیا ہے جس کی طرف کچھ لوگ دوڑتے نظر آرہے ہیں۔ میرے طالب علمانہ خیال میں سنگھ پریوار کا پردے کے پیچھے سے کبھی کبھی لبرل چہرہ دکھاجانا مسلمانوں سے ہمدردی یاان کی اہمیت کا اقرار کی وجہ سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کی کچھ مجبوریاں ہیں وہ مجبوریاں کیا ہو سکتی ہیں ایک نظر اس پر بھی ڈال لیتے ہیں۔ اس کے لیے کم از کم پانچ چھ نکات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
۱۔ 2024کا جنرل الیکشن قریب آچکا ہے ۔ آر ۔ ایس ۔ ایس ۔ اور اس کی سیاسی جماعت Anti Incombencyسے کافی پریشان ہیں۔ اس سے بچنے کے لیے وہ ہر اس امکان پر غور کررہے ہیںجو انہیں اس خطرے سے بچا سکے، مسٹر لال کرشن اڈوانی نے اپنے سیاسی دور عروج میں کہاتھا کہ اگر ہمیں محض آٹھ، دس فیصد مسلمانوں کا ووٹ حاصل ہوجائے تو ہم پچاسوں سال تک برسراقتدار رہ سکتے ہیں۔ یو۔ پی۔ کے گذشتہ انتخاب میں مسلمانوں کے پڑے ووٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی ۔ جے ۔ پی ۔ بہت جلد مسلمانوںکے دس فیصد ووٹ حاصل ہوجانے کے ہدف کو پالے گی۔
۲۔ ملک کے تقریباً 22کروڑ مسلمانوں کو نہ تو ملک بدر کیاجاسکتا ہے نہ ہی مکمل طور پر انہیں غلام بنایاجاسکتا ہے۔ ہاں ! انہیں پانچویں ورن تک ضرور پہنچایاجاسکتا ہے ۔ سچر کمیٹی اور دیگر آزاد ایجنسیوں کی سروے رپورٹ کے مطابق مسلمان اب اس مقام تک پہنچ بھی چکا ہے ۔ لہٰذا کبھی کبھی مروت کے اظہار میں کوئی ہرج نہیں۔
۳۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں مسلم ممالک سے دوستی بھارت کے حق میں ہے۔ آج بھی بھارت کی لڑکھڑاتی معیشت کو سہارا دینے میں خلیجی ممالک کا کردار کافی اہم ہوتا ہے۔ ملک کی موجودہ جی۔ ڈی ۔ پی ۔ 6.8فی صدمیں ملک کے مسلم سرمایہ داروں کے لیے خلیجی ممالک خصوصاً یو ۔ اے۔ای۔ سعودی عربیہ، قطر وغیرہ کی سرمایہ کاری کا بڑا اہم کردار ہے۔ ظاہر ہے مسلم دشمنی کے کریہہ چہرے کے ساتھ اسے زیادہ دنوں تک باقی نہیں رکھاجاسکتا۔
۴۔ منڈل کمیشن 1980کے وقت دلت ، پسماندہ طبقات میں جوابیداری پیدا ہوئی تھی، اور سورن ہندوئوں کے خلاف جو طوفان اٹھ کھڑا ہوا تھا اسے رام جنم بھومی آندولن کے ذریعہ نہ صرف ختم کردیاگیا تھا بلکہ اس کا رخ مسلمانوں کی طرف موڑ دیاگیا تھا۔ آج پھر ایک بار دلت و پسماندہ طبقات کے پڑھے لکھے دانشور طبقے نے ہندو راشٹر اور سورنوں کے خلاف مورچہ کھول دیا ہے۔ بڑی تعداد میں لوگ بودھ دھرم میں شامل ہورہے ہیں۔ رامائن کی بے حرمتی کی جارہی ہے۔ ہندو دیوی، دیوتائوں کی مورتیاں نالوں میں پھینکی جارہی ہے۔ اس صورت حال میں دلت، پسماندہ ووٹ کے کھسکنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اس کی تلافی کے لیے مسلم ووٹوں کو منتشر کرنا یا منفی ووٹنگ سے روکنا سنگھ پریوار کی مجبوری ہے جس کے لیے لبرل چہرہ دکھانا عین حکمت عملی ہے۔
۵۔ عالمی میڈیا خصوصاً یورپ و امریکی اخبارات میں ہندوانتہا پسندی ،ان کی دہشت گردی ، اور اقلیتوں پر ان کے مظالم کی خبریں جس قدر چھپ رہی ہیں اس نے اس ملک کی شبیہہ کو بری طرح مجروح کیا ہے اور اب بھارت دنیا کے غیر مامون و محفوظ ملکوںکی فہرست میں دو یا تین نمبر پرآچکا ہے۔ اس ملک کو اس مقام تک پہنچا نے والے کون ہیں ۔ دنیا اب اسے اچھی طرح جان چکی ہے۔ لہٰذا بے حیا کو بھی کبھی کبھی حیا آجاتی ہے۔
یہی وہ امکانی اسباب ہیں جس کی وجہ سے سرسنچالک نے مسلمانوں کے مختلف علمائے کرام سے ملنے کی خواہش کااظہار بھی کیا ہے اور وزیر اعظم مودی نے بھی پارٹی ورکرس کو ہدایت دے دی ہے کہ وہ مسلمانوں کے بیچ جائیں اور پارٹی سے متعلق ان غلط فہمیاں دور کریں۔ اسباب و اندیشے خواہ جو بھی ہوں بات چیت ڈائلاگ اور ملاقاتوں کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلّم ہے ۔ یہ عمل ہر سطح اور ہر طبقے میں ہونا چاہیے ۔ اس کے اچھے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس وقت سنگھ پریوار کے پسندیدہ علماء اور منچ سے تعلق رکھنے والے نام نہاد مسلم رہنمائوں نے ریاستوں کا دورہ شروع کردیا ہے ۔ تا کہ کم از کم دس ، پندرہ فی صد مسلم رائے عامہ کو بی۔ جے ۔ پی ۔ کی جھولی میں ڈال سکیں اور موجودہ وزیر اعظم کو جھولی اٹھاکر جانے سے بچا سکیں۔ حیرت کی بات ہے کہ بائیس کروڑ مسلمان سیاسی طور پر اس قدر بے حیثیت ہوچکا ہے گویا اس کا کوئی معنوی وجود ہی نہیں ہے۔ قیامت کی اس گھڑی میں بھی نہ تو علماء اپنے مسلکی عصبیت کی ڈگڈگی بجانے سے باز آرہے ہیں نہ ہی قومی سطح کی مسلم جماعتیں بیٹھ کر کوئی مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے پر آمادہ ہیں۔ کسی کو اپنا وجود بچانے کی فکر ہے تو کوئی ان حالات میں بھی اپنے لیے کچھ گنجائش پیدا کر لینے کی کوششوں میں سرگرداں ہے۔ ملت کا حساس طبقہ حیران و پریشان ہے۔ جب کہ مزدور طبقہ جس کی اکثریت ہے کسی طرح دو وقت کی روٹی کے جگاڑ میں ہی پریشان ہے۔ پڑھا لکھا نوجوان طبقہ کسی غیبی مددیا مہدی کے انتظار میں بڑے صبرو تحمل کے ساتھ اپنے جذبات کو قابو میں کیے بیٹھا ہے۔ جس کے پھٹ جانے کے امکان سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا۔ گویا پوری ملت نئی غلامی کی دہلیز پر کھڑی ہے لیکن ان کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ بہر حال مصیبت کی اس گھڑی میں فاصلوںکو ختم کرنے کے مقصد سے کی جارہی کوششوں کا استقبال ہونا چاہیے اور جس سے جو ہو سکے دریغ نہیں کرنا چاہیے۔
شریف احسن مظہری
رانچی (جھارکھنڈ)
رابطہ :9608066086












