• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, مارچ 13, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home قومی خبریں

حاملہ خواتین سے جڑی اسکیمیں خوش آئند، مگر عمل بھی ضروری

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 13, 2023
0 0
A A
حاملہ خواتین سے جڑی اسکیمیں خوش آئند، مگر عمل بھی ضروری
Share on FacebookShare on Twitter
مرکزی حکومت نے حاملہ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے بہت ساری فلاحی اسکیموں کا آغاز کیا ہے۔جبکہ حاملہ خواتین کی صحت اوردیگر مسائل کو کئی اسکیموں کے تحت دیکھا جا رہا ہے یعنی حاملہ خواتین کو بہتر خدمات مہیا کرنے کیلئے مرکزی سرکار کوشاں ہے لیکن سرکار کی جانب سے شروع کی جانے والی فلاحی اسکیموں کا فائدہ اس وقت ہوگا جب یہ اسکیمیں زمینی سطح پر صد فیصد نافذ ہو جائیں گی۔جبکہ ان اسکیموں میں کچھ اہم اسکیمیں جیسے پردھان منتری مترو وندنا یوجنا، پردھان منتری سرکشت متریتا ابھیان،جننی سرکشا یوجنا، سبلہ یوجنا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ لیکن ان اسکیموں کا فائدہ زمینی سطح پر کس حد تک پہنچ رہا ہے یہ اپنے آپ ایک مدعا ہے۔بہر کیف انہیں اسکیموں میں جننی سرکشا یوجنا (جے ایس وائی) کے تحت خواتین کو بہترین خد مات فراہم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔اس کے تحت والدہ اور نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کو کم کرنے کے لئے حکومتِ ہند کے قومی دیہی صحت مشن (این آر ایچ ایم) کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔ جو ایک محفوظ مادریت مداخلت ہے۔ وہیں قومی دیہی صحت مشن کے تحت ولادت اور بچہ صحت پروگرام کے تحت زچہ و بچہ کی شرح اموات کو گھٹانا اہم مقصد رہا ہے۔ علاوہ ازیں اس مشن کے تحت صحت اور وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے کئی نَئے ا قدم اٹھائے ہیں جن میں جننی سرکشا یوجنا بھی شامل ہے۔جبکہ اسکیم میں بتایا گیا ہے کہ اِس کی وجہ سے ادارہ جاتی ولادت میں کافی اضافہ ہوا ہے اور اِس کے تحت ہرسال ایک کروڑ سے زیادہ خواتین نفع اٹھا رہی ہیں۔
جبکہ جننی سرکشا یوجناکی شروعات ادارہ جاتی ولادت کو بڑھاوا دینے کے لئے کی گئی تھی جس سے بچہ کا جنم تربیت یافتہ دائی، نرس، ڈاکٹروں کے ذریعے کرایا جا سکے اور ماں اور نوزائیدہ بچوں کو حمل سے متعلق پیچیدگیوں اور موت سے بچایا جا سکے۔وہیں اس اسکیم کے تحت زمرہ ایل پی ایس میں دیہی حاملہ خواتین کو 1400روپئے اور زمرہ ایچ پی ایس میں سات سو روپئے دئے جاتے ہیں اور آشا کو چھ سو روپئے جبکہ شہری خواتین کو زمرہ ایچ پی ایس میں ایک ہزار روپئے ملتے ہیں اور آشا کو چار سو روپئے ملتے ہیں۔وہیں زمینی سطح پر اس اسکیم کی کتنی عمل آوری ہے اس سلسلے میں طلعت بخاری (بدلہ ہوا نام)نے بتایا کہ جب وہ حاملہ تھیں تو انہیں متعلقہ آنگن واڑی بلایا گیا  اور کاغذات لیے گئے۔ مگر انہیں ابھی تک اسکیم کے تحت کچھ نہ ملا ہے۔لیکن یہ مزید کہتی ہیں کہ آنگن واڑی میڈم مجھے وقتاً فواقتاً فون کرتے رہتی ہیں کہ آپ کے کھاتے میں پیسے آئے کہ نہیں؟انہوں یہ بھی بتا یا کہ محلہ کے آنگن واڑی سینٹر سے ڈیلوری کے بعد ان کی نو زائیدہ بچی کیلئے راشن بھی بھیجا گیا ہے۔جبکہ یہاں آشا کا بھی اہم کردار ہے جس میں اپنے علاقے میں ان حاملہ خواتین کی پہچان کرنا جو اِس اسکیم سے نفع کے لئے اہل ہیں۔حاملہ خواتین کو تنظیم سے متعلق ولادت کے فوائد کے بارے میں بتانا۔حاملہ خواتین کی نامزدگی میں مدد کرنا اور کم از کم 3 ولادت ثابِق جانچ حاصل کرنا،جِس میں ٹِٹنیس کے انجکشن اور آیرنت فولِک تیزاب گولیاں شامل ہیں۔جے ایس وائی کارڈ اور بینک کھاتا سَمیت ضروری شناختی کارڈ حاصل کرنے میں حاملہ خواتین کی مدد کرنا۔حاملہ خواتین کے لئے الگ الگ باریک جنم اسکیم تیار کرنا،جِس میں ان قریبی صحتی اداروں کی پہچان کرنا شامل ہے جہاں ان کو ولادت کے لئے بھیجا جا سکتا ہے۔ حاملہ خواتین کو ثابِق مقررہ صحتی مرکز پر ایسکارٹ کرنا جہاں ان کے بچہ ہونے ہیں اَور ان کو چھٹی مِلنے تک ان کے ساتھ رہنا۔ٹی بی کے خلاف بی سی جی ٹیکہ کاری سمیت،نوازائدہ بچوں کے لئے ٹیکہ کاری کا انتظام کرنا۔دودھ پلانے میں مدد فراہم کرنا۔خاندانی منصوبہ بندی کو بڑھاوا دینا وغیرہ شامل ہے۔
لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ کیا آشا اپنا مکمل کردار ادا کرتی ہیں جیسا کہ اسکیم اغراض و مقاصد میں درج ہے؟ کیا آشا سرکاری اسکیم سے ملنے والے فائدے میں خواتین کی مدد کرتی ہیں؟کیا وہ ہسپتال سے رخصتی تک خواتین کے ساتھ رہتی ہیں؟کیا وہ ٹیکہ کاری میں مدد کرتی ہیں؟اگر نہیں تو کیوں نہیں؟اس سلسلے میں طلعت کہتی ہیں آشا نے میرا صحت کارڈ لیا تھا اور بعد میں میری ڈیلوری کے کچھ مہینوں کے بعد میرے بنک اکونٹ میں چودہ سو روپے آگئے تھے۔ اس سلسلہ میں تسلیم کوثر کہتی ہیں کہ میرے کھاتے میں کل 4,400روپے آئے، جن میں سے 3000روپے ڈیلوری سے پہلے آئے تھے اور 1400ڈیلوری کے بعد میرے بنک اکونٹ میں پڑ گئے تھے۔ وہیں انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز (آئی سی ڈی ایس) اسکیم جو 2 اکتوبر 1975کو 33 تجرباتی بلاکس میں بچوں کے لیے قومی پالیسی کے تحت شروع کی گئی تھی۔ جبکہ اس اسکیم کے نفاذ کی بنیادی ذمہ داری خواتین اور اطفال کی ترقی کے محکمے، مرکز میں انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت اور ریاست کے نوڈل محکموں کی ہے۔اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں 6 سال سے کم عمر کے بچے، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین،15-44 سال کی عمر کی خواتین اور منتخب بلاکس میں نوعمر لڑکیاں ہیں۔وہیں اس اسکیم کے مقاصد میں 0-6 سال کی عمر کے بچوں کی غذائیت اور صحت کی حالت کو بہتر بنانا،بچے کی مناسب نفسیاتی، جسمانی اور سماجی نشوونما کی بنیاد رکھنا، مختلف محکموں کے درمیان موثر ہم آہنگی اور پالیسی پر عمل درآمدبنانا،مناسب تغذیہ اور صحت کی تعلیم کے ذریعے عام صحت اور غذائیت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ماں کی صلاحیت کو بڑھاناشامل ہے۔
اگر زمینی سطح پر اس اسکیم کے فوائد کی بات کی جائے تو لگتا کسی نہ کسی حد تک عوام اس سے فیضیاب ہو رہے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلہ میں محکمہ صحت کو مزید اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں ایک بات اور قابل غور ہے کہ سب سے پہلے تو خواتین اور مستفیدین کو اسکیم کے متعلق جانکاری ہونی لازمی ہے اور جہاں جانکاری ہے،وہاں اسکییم کے مستفیدین کو فائدہ پہنچانا محکمہ کے لوگوں کا کام ہے۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے طلعت نے کہاکہ ایک دن سپر وائزر آئی سی ڈی ایس نے اچانک ہمارے گاؤں کا دورہ کیا، میرا گھر سڑک کے کنارے ہے وہ اچانک میرے گھر آئی دیکھا کہ میں بھی حاملہ ہوں اس نے مجھے پوچھنا شروع کیا کہ آپ نے فارم بھرا؟ خیر سپر وائزر نے میرے کاغذات بذات خود لیکر فون پر رابطہ کر کے کا غذات آگے بھیجے لیکن تا ہنوز مجھے وہ پیسہ ملا نہیں ہے مگر متعلقہ آنگن واڑی ورکر مجھے سے مکمل رابطہ میں ہے، اور انہوں نے یقین دہانی کروائی کے آجائیں گے۔تاہم اس صاف ظاہر ہے کہ سرکار نے بالخصوص محکمہ صحت نے حاملہ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے جو اسکیمیں شروع کی ہیں ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ کے زمینی سطح پر کام کرنے والے ملازمین ان اسکیموں کو مستفیدین تک پہنچانے کیلئے عملی طور پر کام کریں۔
سیّد انیس الحق
 پونچھ
(چرخہ فیچرس)

 

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    تائیوان کے گرد چھ چینی جنگی جہازوں کی موجودگی کا انکشاف

    تائیوان کے گرد چھ چینی جنگی جہازوں کی موجودگی کا انکشاف

    مارچ 12, 2026
    ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے کراچی میں ایمبولینس  اور جنازے کی نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کیا

    ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے کراچی میں ایمبولینس اور جنازے کی نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کیا

    مارچ 12, 2026
    ایران بحران میں چین اور مغرب کی طاقت کی کشمکش نمایاں

    ایران بحران میں چین اور مغرب کی طاقت کی کشمکش نمایاں

    مارچ 12, 2026
    کبڈی کے چانکیہ رندھیر سنگھ سہراوت گجرات جائنٹس کے ہیڈ کوچ مقرر

    کبڈی کے چانکیہ رندھیر سنگھ سہراوت گجرات جائنٹس کے ہیڈ کوچ مقرر

    مارچ 12, 2026
    تائیوان کے گرد چھ چینی جنگی جہازوں کی موجودگی کا انکشاف

    تائیوان کے گرد چھ چینی جنگی جہازوں کی موجودگی کا انکشاف

    مارچ 12, 2026
    ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے کراچی میں ایمبولینس  اور جنازے کی نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کیا

    ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے کراچی میں ایمبولینس اور جنازے کی نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ کیا

    مارچ 12, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist