مرکزی حکومت نے حاملہ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے بہت ساری فلاحی اسکیموں کا آغاز کیا ہے۔جبکہ حاملہ خواتین کی صحت اوردیگر مسائل کو کئی اسکیموں کے تحت دیکھا جا رہا ہے یعنی حاملہ خواتین کو بہتر خدمات مہیا کرنے کیلئے مرکزی سرکار کوشاں ہے لیکن سرکار کی جانب سے شروع کی جانے والی فلاحی اسکیموں کا فائدہ اس وقت ہوگا جب یہ اسکیمیں زمینی سطح پر صد فیصد نافذ ہو جائیں گی۔جبکہ ان اسکیموں میں کچھ اہم اسکیمیں جیسے پردھان منتری مترو وندنا یوجنا، پردھان منتری سرکشت متریتا ابھیان،جننی سرکشا یوجنا، سبلہ یوجنا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ لیکن ان اسکیموں کا فائدہ زمینی سطح پر کس حد تک پہنچ رہا ہے یہ اپنے آپ ایک مدعا ہے۔بہر کیف انہیں اسکیموں میں جننی سرکشا یوجنا (جے ایس وائی) کے تحت خواتین کو بہترین خد مات فراہم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔اس کے تحت والدہ اور نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کو کم کرنے کے لئے حکومتِ ہند کے قومی دیہی صحت مشن (این آر ایچ ایم) کے ذریعے چلائی جا رہی ہے۔ جو ایک محفوظ مادریت مداخلت ہے۔ وہیں قومی دیہی صحت مشن کے تحت ولادت اور بچہ صحت پروگرام کے تحت زچہ و بچہ کی شرح اموات کو گھٹانا اہم مقصد رہا ہے۔ علاوہ ازیں اس مشن کے تحت صحت اور وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے کئی نَئے ا قدم اٹھائے ہیں جن میں جننی سرکشا یوجنا بھی شامل ہے۔جبکہ اسکیم میں بتایا گیا ہے کہ اِس کی وجہ سے ادارہ جاتی ولادت میں کافی اضافہ ہوا ہے اور اِس کے تحت ہرسال ایک کروڑ سے زیادہ خواتین نفع اٹھا رہی ہیں۔
جبکہ جننی سرکشا یوجناکی شروعات ادارہ جاتی ولادت کو بڑھاوا دینے کے لئے کی گئی تھی جس سے بچہ کا جنم تربیت یافتہ دائی، نرس، ڈاکٹروں کے ذریعے کرایا جا سکے اور ماں اور نوزائیدہ بچوں کو حمل سے متعلق پیچیدگیوں اور موت سے بچایا جا سکے۔وہیں اس اسکیم کے تحت زمرہ ایل پی ایس میں دیہی حاملہ خواتین کو 1400روپئے اور زمرہ ایچ پی ایس میں سات سو روپئے دئے جاتے ہیں اور آشا کو چھ سو روپئے جبکہ شہری خواتین کو زمرہ ایچ پی ایس میں ایک ہزار روپئے ملتے ہیں اور آشا کو چار سو روپئے ملتے ہیں۔وہیں زمینی سطح پر اس اسکیم کی کتنی عمل آوری ہے اس سلسلے میں طلعت بخاری (بدلہ ہوا نام)نے بتایا کہ جب وہ حاملہ تھیں تو انہیں متعلقہ آنگن واڑی بلایا گیا اور کاغذات لیے گئے۔ مگر انہیں ابھی تک اسکیم کے تحت کچھ نہ ملا ہے۔لیکن یہ مزید کہتی ہیں کہ آنگن واڑی میڈم مجھے وقتاً فواقتاً فون کرتے رہتی ہیں کہ آپ کے کھاتے میں پیسے آئے کہ نہیں؟انہوں یہ بھی بتا یا کہ محلہ کے آنگن واڑی سینٹر سے ڈیلوری کے بعد ان کی نو زائیدہ بچی کیلئے راشن بھی بھیجا گیا ہے۔جبکہ یہاں آشا کا بھی اہم کردار ہے جس میں اپنے علاقے میں ان حاملہ خواتین کی پہچان کرنا جو اِس اسکیم سے نفع کے لئے اہل ہیں۔حاملہ خواتین کو تنظیم سے متعلق ولادت کے فوائد کے بارے میں بتانا۔حاملہ خواتین کی نامزدگی میں مدد کرنا اور کم از کم 3 ولادت ثابِق جانچ حاصل کرنا،جِس میں ٹِٹنیس کے انجکشن اور آیرنت فولِک تیزاب گولیاں شامل ہیں۔جے ایس وائی کارڈ اور بینک کھاتا سَمیت ضروری شناختی کارڈ حاصل کرنے میں حاملہ خواتین کی مدد کرنا۔حاملہ خواتین کے لئے الگ الگ باریک جنم اسکیم تیار کرنا،جِس میں ان قریبی صحتی اداروں کی پہچان کرنا شامل ہے جہاں ان کو ولادت کے لئے بھیجا جا سکتا ہے۔ حاملہ خواتین کو ثابِق مقررہ صحتی مرکز پر ایسکارٹ کرنا جہاں ان کے بچہ ہونے ہیں اَور ان کو چھٹی مِلنے تک ان کے ساتھ رہنا۔ٹی بی کے خلاف بی سی جی ٹیکہ کاری سمیت،نوازائدہ بچوں کے لئے ٹیکہ کاری کا انتظام کرنا۔دودھ پلانے میں مدد فراہم کرنا۔خاندانی منصوبہ بندی کو بڑھاوا دینا وغیرہ شامل ہے۔
لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ کیا آشا اپنا مکمل کردار ادا کرتی ہیں جیسا کہ اسکیم اغراض و مقاصد میں درج ہے؟ کیا آشا سرکاری اسکیم سے ملنے والے فائدے میں خواتین کی مدد کرتی ہیں؟کیا وہ ہسپتال سے رخصتی تک خواتین کے ساتھ رہتی ہیں؟کیا وہ ٹیکہ کاری میں مدد کرتی ہیں؟اگر نہیں تو کیوں نہیں؟اس سلسلے میں طلعت کہتی ہیں آشا نے میرا صحت کارڈ لیا تھا اور بعد میں میری ڈیلوری کے کچھ مہینوں کے بعد میرے بنک اکونٹ میں چودہ سو روپے آگئے تھے۔ اس سلسلہ میں تسلیم کوثر کہتی ہیں کہ میرے کھاتے میں کل 4,400روپے آئے، جن میں سے 3000روپے ڈیلوری سے پہلے آئے تھے اور 1400ڈیلوری کے بعد میرے بنک اکونٹ میں پڑ گئے تھے۔ وہیں انٹیگریٹڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ سروسز (آئی سی ڈی ایس) اسکیم جو 2 اکتوبر 1975کو 33 تجرباتی بلاکس میں بچوں کے لیے قومی پالیسی کے تحت شروع کی گئی تھی۔ جبکہ اس اسکیم کے نفاذ کی بنیادی ذمہ داری خواتین اور اطفال کی ترقی کے محکمے، مرکز میں انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت اور ریاست کے نوڈل محکموں کی ہے۔اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں 6 سال سے کم عمر کے بچے، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین،15-44 سال کی عمر کی خواتین اور منتخب بلاکس میں نوعمر لڑکیاں ہیں۔وہیں اس اسکیم کے مقاصد میں 0-6 سال کی عمر کے بچوں کی غذائیت اور صحت کی حالت کو بہتر بنانا،بچے کی مناسب نفسیاتی، جسمانی اور سماجی نشوونما کی بنیاد رکھنا، مختلف محکموں کے درمیان موثر ہم آہنگی اور پالیسی پر عمل درآمدبنانا،مناسب تغذیہ اور صحت کی تعلیم کے ذریعے عام صحت اور غذائیت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ماں کی صلاحیت کو بڑھاناشامل ہے۔
اگر زمینی سطح پر اس اسکیم کے فوائد کی بات کی جائے تو لگتا کسی نہ کسی حد تک عوام اس سے فیضیاب ہو رہے ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلہ میں محکمہ صحت کو مزید اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں ایک بات اور قابل غور ہے کہ سب سے پہلے تو خواتین اور مستفیدین کو اسکیم کے متعلق جانکاری ہونی لازمی ہے اور جہاں جانکاری ہے،وہاں اسکییم کے مستفیدین کو فائدہ پہنچانا محکمہ کے لوگوں کا کام ہے۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے طلعت نے کہاکہ ایک دن سپر وائزر آئی سی ڈی ایس نے اچانک ہمارے گاؤں کا دورہ کیا، میرا گھر سڑک کے کنارے ہے وہ اچانک میرے گھر آئی دیکھا کہ میں بھی حاملہ ہوں اس نے مجھے پوچھنا شروع کیا کہ آپ نے فارم بھرا؟ خیر سپر وائزر نے میرے کاغذات بذات خود لیکر فون پر رابطہ کر کے کا غذات آگے بھیجے لیکن تا ہنوز مجھے وہ پیسہ ملا نہیں ہے مگر متعلقہ آنگن واڑی ورکر مجھے سے مکمل رابطہ میں ہے، اور انہوں نے یقین دہانی کروائی کے آجائیں گے۔تاہم اس صاف ظاہر ہے کہ سرکار نے بالخصوص محکمہ صحت نے حاملہ خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے جو اسکیمیں شروع کی ہیں ان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ کے زمینی سطح پر کام کرنے والے ملازمین ان اسکیموں کو مستفیدین تک پہنچانے کیلئے عملی طور پر کام کریں۔
سیّد انیس الحق
پونچھ
(چرخہ فیچرس)












