رضوان سلمانی
دیوبند، تسمیہ جونیئر ہائی اسکول میں 31 ویں سالانہ جلسہ کا انعقاد کیاگیا۔ اس موقع پر اسکول کے صدر ڈاکٹر ایس فاروق (صدر تسمیہ آل انڈیا ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی نئی دہلی ) نے مہمان خصوصی آئی پی پانڈے (سابق پرنسپل انوسٹی گیٹر رانڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ، اسرو) اور مہمان ذی وقار ڈاکٹر محمد فاروق ( سابق ایچ۔ اور ڈی آرتھوپے ڈک ، ایمس ) کا استقبال پھولوں کا گلدستہ اور یادگار نشان پیش کر کے کیا۔
پروگرام کا آغاز درجہ چار بی کے طالب علم اسعد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جس کا اردو اور انگریزی میں ترجمہ، آمنہ اور اقراءنے کیا۔ سارا اور زویا نے اپنی آواز میں نعت نبی پیش کی، اسکول کے پرنسپل جاوید مظہر نے اسکول کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔ جس میں انہوں نے تعلیمی نظام 2022-23 کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا اور اسکول کے مستقبل کے پلان سے بھی والدین اور مہمانوں کو آگاہ کیا۔ اس موقع پر اسکول کی میگزین ” نور“ کے16 ویں ایڈیشن کا بھی افتتاح کیا گیا ۔ جس میں گزرے ہوئے سال کے طلبہ و طالبات کی کارگردگی کو پیش کیا جاتا ہے۔ کلچر پروگرام میں درجہ ایل۔ کے۔ جی کے بچوں نے میرے ہیں دو ہاتھ نظم پیش کر کے سب کا دل جیت لیا۔ درجہ یو۔ کے۔ جی کے بچوں نے لکڑی کی کاٹھی ایکشن کے ساتھ پیش کیا اور بچوں کے گروپ نے ہندوستان حب الوطنی گیت سے سب کو خوش کیا۔ اس دوران طلبہ وطالبات نے خوبصورت گیت "استاذ محترم ، پیش کیا۔ بچوں کے ایک گروپ نے بہت ہی خوبصورت دعاؤں میں میری خدا یا اثر دے پیش کیا۔ جس نے کبھی کو جذباتی کر دیا۔ لڑکیوں نے ” ہم بیٹیاں اسلام کی پیش کیا۔بچوں نے ہندو مسلم سکھ عیسائی اتحاد پر اشاروں کے مدد سے خاموش ڈرامہ پیش کیا۔ بچوں کے ایک گروپ نے انگریزی ڈرامہ ان دا کورٹ آف ہیلتھ ، پیش کیا۔ سبھی بچوں نے اپنی اپنی پیشکش کے ذریعہ کوئی نہ کوئی پیغام دیا، کسی نے اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کیا، کسی نے اپنی پیشکش کے ذریعہ بچپن کی یادوں کو تازہ کیا تو کسی نے وطن کی محبت اور استاذ کا درجہ اور ان کی محبت کو پیش کیا۔ جس نے سب کی حوصلہ افزائی کی۔ اس کے بعد اسکول کے امتیازی نمبر حاصل کرنے والے طالبات ثوبیہ دلشاد، فاطمہ پروین، جمیرا ، زویا، شیرین، اقرائ، اقصیٰ حمیرہ ، اقصیٰ ، صوفیہ، مہوش کوٹرافی اور سرٹیفیکٹ اور ایک ہزار روپیہ کے چیک سے نواز کر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی مکمل حاضری میں محمد امن صدیقی ، نبیہ، علمہ شبینہ، صوفیہ اور عطیہ نے اسکول میں بغیر چھٹی کے سال کو پورا کیا۔ ساتھ ہی اسکول کے پرنسپل جاوید مظہر اور اسکول کے ٹیچر مرسلین خان نے بھی پورے سال مکمل حاضری کی ٹرافی اور سرٹیفیکٹ حاصل کیا۔ اس موقع پر ایک آرٹ اور کرافٹ اور سائنس کی نمائش بھی لگائی گئی۔ آرٹ اور کرافٹ میں جوٹ، ٹائل، پلاسٹک ، بوتل، دیئے ، گلاس پینٹنگ جلینس سے بنے پائے دان، پرس، فوٹو فریم ، وغیرہ بیگار سامان سے بنی چیزوں کو نمایاں کرکے اپنی صلاحیتوں کامظاہرہ کیا۔
سبھی مہمانان نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مہمان خصوصی آئی پی پانڈے نے بچوں سے اپنی تعلیم پر توجہ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہاں کہ بچوں میں خوداعتمادی ضروری ہے اس لیئے اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کیجئے۔ انہوں نے والدین کو بھی بچوں کے لئے گھر میں تعلیم کا عمدہ ماحول پیدا کرنے کو کہا۔ مہمان ذی وقارآئی پی پانڈے نے کہا کہ تعلیم وہ ہے جو انسان کو کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنا سکھاتی ہے جو کھلی آنکھوں سے خواب نہیں دیکھتے میرے خیال میں ان کو تعبیر بھی کبھی نہیں ملے گی ۔انھوں نے کہاتر بیت سکھاتی ہے جتنا د امن ہے اس مین زندہ رہنا ہے۔ اپنے صدارتی خطاب میں کہا اپنی بنیادی تعلیم پر زور دیا، انھوں نے کہا کہ علم کا سیکھنا ہر مرد اور عورت کے لئے فرض ہے ایک اچھے انسان سے ایک اچھے معاشرے کی ابتدا ہوتی ہے اور اس سب کے لئے با اخلاق ہونا ضروری ہے اور تعلیم ہمیں جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے، اپنی تمام ضرورتوں کو کم کر کے اپنے بچوں کو تعلیم دیں تعلیم صرف نوکری کے لئے نہیں بلکہ ادب کے لئے ہونی چاہئے۔ پروگرام کے اختتام پر اسکول کے پرنسپل جاوید مظہر نے سب مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس موقع پر شہر کے اسکولوں کے پرنسپل ، علاقہ کے معزز لوگ اسکول کا اسٹاف زبیر احمد، مولانا محمد شوکت، محمد مرسلین، محمد پرویز، محمد شاہ رخ، لائقہ ، عصمت آرا، ریشما، خوش نصیب، درخشاں پروین، رقیہ بانو، امرین انصاری ، نازیہ،سمن، ثانیہ مریم ، سیدہ عباس، انعم فاطمہ، شمائلہ وغیرہ موجود رہے۔ بچوں کے ذریعہ کھانے کے اسٹال بھی لگائے گئے۔ جس کا سبھی نے لطف اٹھایا۔












