اس وقت جبکہ حکومت دوسرے کچھ پڑوسی ملکوں سے شہریوں کو بھارت آنے پر انہیں شہرےت دےنے کا اعلان کر چکی ہے اور شہرےت ترمیمی قانون 2019میں اس کا التزام بھی ہے ،ایسے میںاب یہ سوال اٹھ رہاہے کہ ایسا کیوں ہے کہ بھارت میں آنے والوں سے کہیں زیادہ لوگ بھارت کی شہریت کو چھوڑنے کو مجبور ہیں ، ا سکی کیا وجوہات ہیں۔ےاد رہے کہ شہریت ترمیمی قانون لا کر حکومت کو مسلمانوں کی سخت مخالفت اور اعتراضات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ملک بھر میں نئے قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے اور یہ سوال کیاجارہا تھا کہ ملک کے باہر سے آنے والے دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ مسلمانوں کو بھی اس سہولت میں شامل کیوں نہیں کیا گےا ان کواس سے الگ کیوں رکھا گےا ۔ وزیر داخلہ نتیانند رائے نے لوک سبھا میں بتایا ہے کہ پچھلے 7 برس کے دوران 8 لاکھ سے زائد افراد نے بھارتی شہریت ترک کر دی ہے۔ ۔حکومت نے ایوان میں سال 2011کے بعد کے اعداد و شمار بھی پیش کئے ہیں جن کو دیکھ کر اندا زہ لگاےا جاسکتا ہے کہ کس سنہ میں کتنے لوگ بھارت سے گئے ۔وزیر خارجہ جے شنکر نے ایوان کو بتایا کہ 2011 میں 1,22,819 ، 2012 میں یہ تعداد 1,20,923، 2013 میں 1,31,405 اور 2014 میں 1,29,328 میں۔ کل ملا کر سال 2011 کے بعد ہندوستانی شہریت چھوڑنے والے ہندوستانیوں کی کل تعداد 16,63,440 ہے۔لیکن یہ تعداد ہرسال کے مقابلے میں 2022میں سب سے زےادہ رہی ۔وہیںایوانِ زیریں میں پیش کیے گئے ڈیٹا کے مطابق زیادہ تر بھارتیوں نے 2019 میں شہریت چھوڑی ہے۔اس کے علاوہ ملک میں 2014کے بعد کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ 2015 میں 131489 افراد جبکہ ، 2016 میں یہ تعداد 141603 رہی۔
الغرض سنہ 2021 میں ستمبر کے اختتام تک ایک لاکھ 11 ہزار 287 افراد بھارتی شہریت سے دستبردار ہو چکے ہیں۔جبکہ 2022 میں 2,25,620 افراد نے شہریت ترک کی ہے،وہیںسنہ 2020میں یہ تعداد سب سے کم رہی ہے۔ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بھارت چھوڑنے پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ گر چہ لوگوں کو اختےار ہے کہ وہ ملک کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میں رہائش اختےار کر سکتے ہیں ،تاہم وہ کن مجبورےوں کے تحت ایسا کررہے ہیں اور گزشتہ سات برسوں میں ان کی تعداد کیوں اتنی زےادہ رہی آخران کا مسئلہ کیا ہے ؟جبکہ حکومت ملکی معیشت کے بہتر ہونے کا دعویٰ کرتی ہے اور لوگوں کے سبھی حقوق کی ادائیگی کےلئے کار بند بھی رہتی ہے !۔اپوزیشن پارٹی کانگریس نے کچھ دن قبل اس معاملے پر حکومت سے سوال کیا تھا کہ وہ اس پر کوئی وضاحتی بےان کیوں جاری نہیں کرتی؟۔کانگریس کے ترجمان گورو ولبھ نے چبھتے سوال کئے تھے اور حقائق سے پردہ اٹھاےا تھا۔ان کا کہنا تھاکہ وزارت خارجہ کے اعداد و شمار سے ایسا پتہ چلتا ہے کہ 2022 کے پہلے 10 مہینوں میں 1,83,741 لوگوں نے اپنی ہندوستانی شہریت ترک کی ہے، جو کہ ہر سال 604 افراد کے ملک چھوڑنے کے برابر ہے!۔
انہوں نے ہندوستانیوں کے اپنی شہریت ترک کرنے کے پیچھے چھ وجوہات جن میں”بے روزگاری کی مسلسل بلند شرح، نوٹ بندی کی وجہ سے ترقی کے کم مواقع اور اشیا اور خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے ناقص نفاذ، بھوک، صنفی فرق سے متعلق تین عالمی انڈیکس میں ملک کی خراب پوزیشن اور پریس کی آزادی،جبکہ دنیا میں غریبوں کی سب سے زیادہ تعداد رکھنے والا ملک ،جےسے مسائل کا ذکر کیاتھا“۔ولبھ نے یہ بھی کہا تھا کہ تعجب کی بات یہ ہے کہ 2022 میں ہندوستانی شہریت ترک کرنے والوں میں سے تقریباً 7000 افرادکی سالانہ آمدنی 8 کروڑ روپے سے زیادہ تھی۔اخیر میںانہوں نے سوال کیا تھا کہ روزانہ 600 سے زائد لوگ اپنی ہندوستانی شہریت کیوں چھوڑ رہے ہیں اور ملک کی شہریت چھوڑنے والے ہندوستانی لوگوں کی تعداد میں 1.7 گنا اضافہ کیوں ہوا ہے؟کانگریس نے حکومت سے کچھ اور سوال بھی کئے تھے ۔وزیر اعظم کو چار سوالات کا ایک سیٹ پیش کرتے ہوئے، کانگریس لیڈر نے پوچھا تھا،”کیا وہ اپنے ’من کی بات‘ پروگرام میں اس مسئلے پر بات کریں گے اور ہندوستان میں’اچھے دن‘ کیوں نہیں آرہے ہیں؟“
بہر کیف،جے شنکر نے دو دن قبل ایک بار پھر شہرےت چھوڑنے والوںکی 2022کی تعداد تو بتائی لیکن ا سکے پیچھے وجوہات کاذکر نہیں تھا!۔ حکومت کو اس کا سبب ڈھونڈنا چاہئے کہ شہرےت چھوڑنے والوں کی تعداد کیوں بڑھی ہے ،جبکہ یہ تعداد گھٹنی چاہئے تھی۔کیا لوگوں کو ’اچھے دنوں‘ کا اعتراف نہیں ہے ۔کیاکیالوگوں کا’ سب کا ساتھ اور سب کا وکاس ‘پر بھروسہ اٹھ رہا ہے ؟نیز یہ کہ کیایہ وہی ’ امرت کال‘ ہے جس کا حکومت آج دعویٰ کررہی ہے تو پھر اب ایسا کیوں ہو رہا ہے؟۔












