ایک دور آئے گا جب لوگ تاریخ کی کتابوں، اور سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی روایتوں کے حوالے سے اپنے عہد کے لوگوں کو بتائیںگے کہ اکیسویں صدی کے پہلے دہے میں اس ملک کے شہریوں پر خدا نے ایک ایسا حکمران مسلط کر دیا تھا جو جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانے پر قادر تھا۔ وہ خود کم پڑھا لکھا تھا لیکن ملک کے تمام عالم اس کی مدح سرائی میں مصروف رہتے تھے۔ وہ تاریخ سے ناواقف تھا اس لئے وہ تاریخی واقعات کو تصور کر لیتا تھا اور مجمع عام میں سنا کر تالیاں وصول کرتا تھا۔ وہ سائنس سے بالکل نابلد تھا لیکن لوگ اسے بحرالعلوم سمجھتے تھے۔ وہ ملک کے تمام اثاثے بیچ بیچ کر اپنے لئے غیر ملکی کمپنیوں سے جدید طرز کا جہاز خریدتا تھا لیکن تقاریر میں سودیشی ٹکنالوجی کو بڑھاوا دینے کی بات کرتا تھا۔ وہ لاکھوں ڈالر کے کپڑوں کا شوقین تھا، دنیا کی سب سے قیمتی گھڑی، جوتے، قلم اور چشمے کا استعمال کرتاتھا۔ لیکن خود کو فقیر کہتا تھا، وہ ملک کے آئین کا دشمن تھا لیکن آئین کی دہائی دیتا رہتا تھا۔ اس کی جماعت کے لوگ اپنے دفتر پر قومی پرچم لگانے والے کے خلاف ایف آئی آر کرواتے تھے لیکن مسلمانوں کے ہاتھوں میں ترنگا نہ دیکھ کر، ان کے گھروں اور محلوں میں ترنگا نہ دیکھ کر اپنے غنڈے بھیج کر ان کے مساجد پر ترنگا لگواتا تھا۔ بے روزگاری، معاشی بدحالی، بیماری اور بھک مری سے مرنے والے عام لوگوں سے اس مرد دانا کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن وہ اپنے ملک کو وشو گرو بنانے کا ہر روز اعلان کرتا تھا۔ الیکٹورل سسٹم سے شکست کھا جانے کے بعد بھی وہ ایم پی اور ایم ایل اے خرید کر اپنی سرکار بنا لیتا تھا لیکن نہ تو الیکشن کمیشن کو اس پر کوئی اعتراض ہوتا تھا اور نہ ہی عدالتوں کو۔اس کی وزیر مالیات ڈالر کے مقابلے روپئے کے گرنے کو روپئے کی کمزوری نہیں بلکہ ڈالر کی مضبوطی گردانتی تھیں۔وہ نہایت مذہبی تھا اس لئے اکثر اس کے بھکت اسے بھگوان کا اوتار قرار دے کر اس کو انسان سے دیوتا بنا دیتے تھے،لہٰذا اس پر سنسار کا کوئی قانون لاگو ہی نہیں ہوتا تھا۔اس نے ایک طویل عرصہ تک ملک کی سیاست اور جملہ سیاسی پارٹیوں کی کار کردگی کا جائزہ لے کر ،ملک کے شہریوں کی نفسیات کامطالعہ کرکے اپنے چند سرمایہ دار دوستوں سے مشورہ کر کے ایک بڑاگیم پلان تیار کیااور سب سے پہلے اس نے ملک میں موجود ٹی وی چینلوں اور اخبارات کے مالکان کو اپنا ہمنوا بنایا اور پھر برسر اقتدار جماعت سمیت جملہ سیاسی پارٹیوں کے خلاف ماحول سازی شروع کر دی اور خود اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کے داغ کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لئے اپنے سرمایہ دار دوستوں کے سرمایہ کا ملک سے لے کر بیرون ملک تک بے دریغ استعمال کیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس کے حق میں ملک کاسیاسی ماحول ایسا سازگار ہوا کہ اقتدار اس کے قدموں تلے بچھ گئی۔ملک کی جمہوریت کا دم نکلتا رہا ،اس کی سسکیاں پورے ملک میں گونجتی رہیں لیکن اس کو سننے والے سارے سرکاری اداروں کے کان بہرے ہو گئے۔نفرت نے محبت پر فتح پا لی اور ہر سال وجئے دشمی پر شر کے نمائندہ راون پر خیر کے نمائندہ رام کی جیت کا جشن منانے والے لوگوں نے جمہوریت اور اس کے آئین کو آگ لگانے والے کو اپنا دیوتا مان لیا۔مستقبل میں تاریخ کے طالب حیرت سے پڑھیںگے کہ ایک وقت ہمارے ملک پر ایسا بھی آیا تھا جب آئینی عہدوں پر بیٹھے ہوئے ذمہ دار سمجھے جانے والے بڑے بڑے جغادریوں نے اپنے ایمان کا سودا اس قیمت پر کر لیا تھا کہ انہیں اس سرکار میں کسی بھی جرم کو کرنے پر کوئی سرزنش کرنے والا نہیں ہوگا۔ عدالت میں انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والے کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو ریٹائر منٹ کے بعد آئینی عہدے دار بنے رہنے کے لئے سرکاری ڈکٹیشن کو ہی فیصلے کی طرح اپنی قلم سے لکھتے رہے۔اس وقت لوگ یہ پڑھ کر اپنا اپنا بال نوچنے لگیںگے کہ ایک وقت ہمارے ملک میں ایسا بھی آیا ہے جب ووٹوں کی چوری کےلئے الکٹرانک ڈیوائس کا استعمال کیا جاتا تھااور ملک کا وزیر اعظم نجی کمپنی کے سی او کی طرح غیر ممالک اسے ٹھیکہ دلاتا تھااور اس کے معاوضہ میں اس کی پارٹی کو الکٹورل بانڈ کی شکل میں چندہ ملتا تھا۔
یقینا ٰیہ سب باتیں مستقبل کی ہیں لیکن اس وقت لوگ ان تاریخی حقائق کو پڑھ کر یہ ضرور سوچیںگے کہ آخر اس دور کے ہندوستانی شہری خود کو زندہ کیسے سمجھتے تھے ؟اور اپنے زندہ ہونے کی ان کے پاس کیا دلیل تھی۔












