
نئی دہلی 19 فروری :حج 2023 میں جانے والے ملک کے عازمین حج کو بڑی پریشانیوں سے بچانے کےلیے انھیں ایئرپورٹ پہ حج کمیٹی کے ذریعہ 2100 ریال دی جانے والی رقم کو کسی بھی طرح سے بند نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ بہت قدیمی روایت ہے اسے قائم رکھنا چاہیے آج یہ مطالبہ مرکزی حج کمیٹی کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی نے مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی سے ایک مکتوب بھیج کر کیاہے۔مسٹراعظمی نے آج ایک پریس بیان میں یہاں کہاکہ حج کمیٹی آف انڈیا سے جانے والے عازمین حج کی اکثریتی تعداد گاؤں سے ہوتی ہے اور اس میں تقریباً سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پہلی بار ہوائی جہاز کا سفر کرتے ہیں اور مذہبی امور کےفرض کی ادائے گی کےلیے سعودی عرب کا سفر مجبوری میں کرتے ہیں برسہا برس سے ان کی آسانی کےلیے حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ یہ نظام قائم ہے کہ انھیں امبارگیشن پوائنٹ پہ چیکنگ کے بعد آخری وقت میں 2100 ریال کا لفافہ سبھی عورت مرد عازمین حج کو دیا جاتا رہاہے جس سے وہ وہاں پہنچ کر اپنے کھانے پینے کی ضروریات پوری کرتے ہیں حرم شریف میں ٹیکسی وغیرہ کرکے عمرہ جو کہ ضروری امر ہے پورا کرتے ہیں واضح رہے کہ حج 2023 کی گائڈ لائن میں 2100 ریال دینے کا عازمین حج کو کوئی بھی ذکر نہیں ہے جبکہ سابقہ گائڈ لائن میں صاف صاف لکھا جاتا رہاہے انھوں نے خط میں لکھا ہے کہ یہ نظام کسی بھی قیمت پہ ختم نہیں کیا جانا چاہیے اس لیے کہ یہ عازمین حج اگر انڈین روپیے یاڈالر اپنے پاس لےکر جائیں گے تو انھیں چینج کرانے میں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا ہوگا اور ان کے ذہن میں ایک بڑی فکر رہے گی جبکہ حاجی کو احرام باندھنے کے بعد صرف عبادت کے بارے میں سوچنا ہوتاہے یہ فکر خوامخواہ ہوگی اور ناتجربہ کار گاؤں کے بھولے بھالے حاجی مرد اور عورت سبھی بڑی پریشانیوں میں مبتلا رہیں گے اور ان کے عبادت اورفرائض انجام دینے میں بڑا خلل پیدا ہوگااس لیے یہ نظام وزارت کو کسی قیمت پہ ختم نہیں کرنا چاہیے۔ خط کی کاپی انھوں نے وزارت کے سکریٹری امبیسڈر سعودیہ عربیہ کاؤنسل جنرل آف انڈیا جدہ اور چیف ایکزٹیوٹی آفیسر حج کمیٹی آف انڈیا ممبئی اور ملک کے سبھی اسٹیٹ حج کمیٹیوں کے چیئرمین کو بھی بھیجی ہے ۔مسٹر اعظمی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ گزشتہ دنوں محترمہ اسمرتی ایرانی صاحبہ نے حج کو پچاس ہزار روپیہ سستا اور آسان بنانے کی بات صحافیوں سے کہی تھی انھوں نے اس کے جواب میں یہی کہاکہ ماضی میں بھی موجودہ حکومت کے ذمہ داروں نے ملک کے عازمین حج کےساتھ بہت اچھا سلوک نہیں کیاہے اورحج کافی مہنگا اورپریشان کن ہوا ہے اور موجودہ وزیر موصوفہ کا بھی عملی اقدام ہمیں کچھ بہت اچھا نہیں لگتا ویسے ہم امید کرتے ہیں کہ وہ پرانی سہولتوں کو برقرار رکھیں سستا اور مہنگا کرنے کےلیے سعودی حکومت کےساتھ ساتھ دوسری وزارت کابھی محتاج رہنا پڑتا ہے اس لیے کسی بھی بات کا دعوی کرنا حقیقت سے پرے لگتا ہے انھوں نے امید ظاہر کی محترمہ اور متعلقہ محکمہ 2100 ریال عازمین کو دینے کی روایت ہرقیمت پر قائم رکھیں گے ۔












