ملت اسلامیہ ان دنوں جن مسائل سے دوچار ہے اس میں ایک بڑا مسئلہ غربت و افلاس ہے ۔اس کی ایک وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی شرح ہے،ایک وجہ حکومت کے بڑھتے ہوئے ٹیکس ہیں،ایک وجہ بازار میں عصبیت کا ماحول ہے ۔ایک وجہ واقفیت کا فقدان بھی ہے۔مگر ان جملہ وجوہات کا تناسب صرف دس سے بیس فیصد ہے ۔سب سے بڑی وجہ مسلمانوں میں دنیا ،کاروبار ،تجارت ،منافع وغیرہ کے تعلق سے غلط تصوردین کا عام ہونا ہے ۔مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ ”جو لوگ بازار میں جاتے ہیں وہ شیطان کا جھنڈا اٹھاتے ہیں ۔“ اس لیے تیسرا کلمہ پڑھتے ہوئے ،نظریں نیچے رکھ کر کہ مبادا کسی دوکان پر نظر نہ پڑجائے گذرنے کی تلقین کی جاتی ہے ۔کبھی کہا جاتا ہے کہ ” اللہ کی نظر میں اس دنیا کی حیثیت مرے ہوئے مچھر کے پر کے برابربھی نہیں ہے ۔“بہر حال یہ باتیں بعض دینی کتابوں میں لکھی ہیں۔اس لیے مجھے ان سے انکارکی جرات نہیں کرسکتا لیکن یہ باتیں جس تناظر اور جس لب و لہجہ میں پیش کی جاتی ہیں اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ دنیا انتہائی خراب جگہ ہے ۔بازار غلاظت کا ڈھیر ہے ،کاروبار کرنا ،پیسا کمانا وغیرہ گناہ کے کام ہیں ۔برصغیر میں ایک معروف دینی جماعت کی نوے فیصد تقریریں اور تذکیریں ترک دنیا کے ارد گرد گھومتی ہیں ۔
ترک دنیا کو قرآن میں رہبانیت کہا گیا ہے ۔رہبانیت یہ ہے کہ انسان اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے کمانا چھوڑ دے ،یہاں تک کہ کھانا بھی صرف اتنا کھائے جس قدر جینے کے لیے ضروری ہو۔دوسرے مذاہب میں آبادی کو چھوڑ کر جنگل یا پہاڑوں میں چلے جانے کو بڑے ثواب والا عمل سمجھا گیا ہے ۔یہی کچھ تصور مسلمانوں میں عام کیا جارہا ہے ۔بزرگوں کے قصے سنائے جارہے ہیں کہ” ایک بزرگ تھے ،ہر وقت ذکر الٰہی میں مصروف رہتے تھے ،پوچھا گیا کیا کھاتے تھے تو بتایا گیا کہ ستو کھاتے تھے ،اس لیے کہ روٹی کھانے میں زیادہ وقت لگتا ہے ۔“یہ واقعات اس قدر اور اس کثرت سے سنائے جاتے ہیں کہ محنت مزدوری کرنے والے لوگ خود پر شرمندہ ہوتے ہیں اور کام کرنے کو گناہ سمجھنے لگتے ہیں ۔دین سکھانے کے نام پر کئی کئی مہینے گھر سے بے گھر کردیا جاتا ہے اور دین کے نام پر جو کچھ سکھایا جاتا ہے وہ سب کو معلوم ہے ۔کاش اس قیمتی وقت کی منصوبہ بندی کی جاتی اور ایک بار قرآن کا ترجمہ ہی پڑھ کر سنادیا گیا ہوتا تو اس سے زیادہ بہتر نتائج اخذ ہوتے ۔دین کے نام پر سنے سنائے قصے سنانے اور نماز کی چند تسبیحات رٹانے میں ہی سارا وقت ضائع کردیا جاتا ہے ۔اس کا ایک نقصان تو کاروبار کا ہوتا ہے ،دوسرا نقصان یہ ہے کہ اہل خانہ کے حقوق تلف ہوتے ہیںتیسرا نقصان یہ ہوتا ہے کہ واپسی کے بعد انسان بزعم خود اللہ والا ہوجاتا ہے اور کاروبار پرخاطر خواہ توجہ نہیں دیتا ۔یہ عجیب و غریب صورت حال ہے جو میں کم تعلیم یافتہ مسلم معاشرے میں دیکھ رہا ہوں۔مجھے لگتا ہے کہ مسلمانوں کو معاشی سرگرمیوں سے دور کرنے کے لیے ایک بڑی سازش رچی گئی ہے ۔
نبی اکرم ﷺ جب مدینہ تشریف لے گئے اور بعثت نبوی کے بعد جب پہلی بار اسلامی ریاست وجود میں آئی تو آپ نے من جملہ دیگر کاموں کے اپنے صحابہ کو کاروبار اور تجارت کے اصول بتائے ۔اس زمانے میں بھی یہودی تجارت میں پیش پیش تھے ۔لیکن وہ دن چڑھے بازار لگاتے تھے ،پیارے نبی نے بعد نماز فجر ہی بازار لگادیا،جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چھ مہینے کی قلیل مدت میں ہی پوری مارکیٹ مسلمانوں کے قبضے میں آگئی ،یہقدی بازار سے باہر ہوگئے ۔تجارت میں سب سے پہلا اصول حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :۔”رزق کے حاصل کرنے میں دن کے شروع کاوقت اختیار کرو،کیونکہ دن کے شروع وقت میں برکت اورکامیابی ہے۔(مجمع الزوائد: 77)جولوگ سورج نکلنے تک سوتے ہیں وہ رزق کی برکت سے محروم رہتے ہیں۔“ ۔یہودی ڈنڈی مارتے تھے ،آپ نے ایمانداری کو تجارت کو لازمی جز بتایا ۔آپ خود بھی بازار جاتے اور نظر رکھتے تھے۔ بعثت سے پہلے بھی آپ تجارت کرتے تھے ،کفار مکہ نے آپ کے نبی ہونے پر جو اعتراضات کیے تھے ان میں ایک یہ تھا کہ” یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور تلاش رزق میں بازار جاتا ہے ۔سورہ فرقان آیت 7“۔اسی سورہ کی آیت 20 میںاللہ تعالیٰ نے بھی اپنے نبی کی ان دونوں صفات کا ذکر کیا کہ ” ہم نے جو رسول بھیجے وہ کھاتے بھی تھے اور بازار میں بھی جاتے تھے “آپ نے امانت دار تاجر کو عرش کے سائے کی خوش خبری سنائی،نیز فرمایا کہ” امانت دار تاجر کا حشر انبیاءاور صدیقین کے ساتھ ہوگا ۔“سورہ قصص(آیت 77) میں تلاش رزق کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ” جو مال تونے کمایا ہے اس سے آخرت کا گھر بنا اور دنیا میں اپنا حصہ مت بھول “۔ فقہائے اسلام نے شرکت و مضاربت کے اصول بیان کیے ،اسلام نے زکاۃ کا ایک پورا سسٹم عطا فرمایا ،تقسیم وراثت پر قرآن میں واضح احکامات دیے گیے ۔سیرت کی کتابوں میںصحابہ کرام کی تجارتی سرگرمیاں بیان کی گئیں ،حضرت عثمان ؓ کے ساتھ ” غنی “ کالقب یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے وقت کے سب سے مالدار شخص تھے ۔سورہ جمعہ میں اذان جمعہ پر تجارتی سرگرمیوں کو روک دینے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد تلاش رزق میں نکل جانے کی ہدایت فرمائی گئی ۔حضور اکرم کے سامنے کسی نے دست سوال دراز کیا تو آپ نے اسے کلہاڑی دے کر فرمایا کہ:۔” جاؤ جنگل سے لکڑیاں لاؤ اور فروخت کرو،“آپ سے پوچھا گیا کہ کو ن سی کمائی افضل ہے تو آپ نے فرمایا۔” انسان کے ہاتھ کی مزدوری اور ہر سچی بیع و شراء(جس میں جھوٹ فریب نہ ہو۔)“مسند أحمد۔تعجب اس بات پر ہے کہ قرآن و احادیث کی واضح تعلیمات اور اسوہ رسول و سیرت صحابہ ؓ کی موجودگی کے باوجود جس میں کمانے ،تجارت کرنے ،نفع حاصل کرنے ،کھیتی باڑی کرنے ،اموال تجارت کو ایکسپورٹ و امپورٹ کرنے کی مثالیں کثرت سے موجود ہیں ،امت مسلمہ میں ترک دنیا کی تعلیم خدا جانے کہاں سے آگئی ۔جہاں سوال کرنے کو ذلت کہا گیا ہو،جہاں نیچے والے ہاتھ کو کم تر بتایا گیا ہو،وہاں ہاتھ پھیلانے کی فضیلت کیسے بیان کی جانے لگی؟ اور ایک برادری ” فقیروں “ کی کیوں کر وجود میں آگئی ؟،فقیروں کو ”اللہ والا“ کہا جانے لگا ،انھیں خدا کے نیک بندوں میں شمار کیا جانے لگا ۔جس دین میں مالدار ہونے کی ترغیب دی گی اور فقر و فاقہ کو کفر و شرک سے قریب کرنے والا بتایا گیا ،جہاں چار پیسے کماکر دوسروں کی مدد کرنے کی تحریک دی گئی ،جہاں انفاق کی ترغیب دی گئی ،جس دین کے پیغمبر بازاروں میں جاتے تھے ،وہاں بازار میں جانا کیسے گناہ قرار پاگیا ۔مزے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ عام مسلمانوں کو ترک دنیا کی تعلیم دیتے ہیں ،جو انھیں مارکیٹ میں جانے سے روکتے ہیں ،جو ان سے کہتے ہیں تم اللہ کے راستے (چلہ )میں نکلو تمہارے بیوی بچوں کا مالک اللہ ہے ،حالانکہ اس غریب کے چلے جانے کے بعد اس کے بچوں پر کیا گزرتی ہوگی اس کے تصور سے ہی دل کانپ اٹھتا ہے۔انھیں میں سے بیشترلوگ مصافحوں میں بڑی بڑی رقمیں لیتے ہیں ،وہی خطابت کی اجرت طے کرتے ہیں اور ہزاروں روپے نذرانے میں وصول کرتے ہیں ،ان کے گھر عالی شان بنے ہوئے ہیں ،قیمتی کاریں ان کے دروازوں پر ہیں۔زیادہ تر مشہورعلماءکرام کے شاندار بنگلے ہیں،بعض دینی جماعتوں کے امراءکے پاس کروڑوں کی ملکیت ہے،آستانوں پر بیٹھے ہوئے سجادہ نشین اور مجاور وں کی دولت کو آپ شمار بھی نہیں کرسکتے ۔،اولیاءاللہ کے مزارات کے ٹھیکے اربوں میں ہوتے ہیں ۔اگر دنیا اتنی ہی بری ہے تو ہر مذہبی مقام پر پیسے کیوں لیے جاتے ہیں ؟ آخرکب تک سادہ لوح انسانوں کا بے وقوف بنایا جاتا رہے گا ۔؟
دنیا دھوکے کی ٹٹی ہے ،مال فتنہ ہے ،سب کچھ فنا ہونے والا ہے ،دنیا لہو لعب ہے ،وغیرہ قرآنی ارشادات کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن آسائش حیات کے حصول میں مقصد حیات کو فراموش نہ کردے ۔دنیا اور انسان کا تعلق کھیت اور کسان کا ہے ۔دنیا آخرت کی کھیتی ہے ،اگر کسان کھیت میں کام نہیں کرے گا فصل کہاں سے اُگائے گا ۔
ایک مومن کو اللہ نے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ہے تاکہ وہ عرش کی طرح فرش پر بھی اللہ کا اقتدار قائم کرے اور انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے آزاد کرے ،ایک مسلمان دنیا کو خدائی ہدایات کے مطابق استعمال کرتا ہے ،وہ مال کی محبت میں انسانوں کے حقوق نہیں بھول جاتا ،وہ دنیا کمانے کے چکر میں معصوموں کی زندگیوں سے کھلواڑ نہیں کرتا ،وہ اپنی دنیا بنانے کے لیے عوام کی دنیا برباد نہیں کرتا ،وہ کسی کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر مال کے دام نہیں بڑھاتا ،وہ اشیاءکو مہنگا کرنے کے لیے ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا،وہ ملاٹ نہیں کرتا ۔بلکہ وہ اپنے مال میں سے سائل اور محروم کا حق نکالتا ہے ،وہ حسب ضرورت لوگوں کی مدد کرتا ہے۔اسلامی مملکت غیر ضروری ٹیکس کے نام پر لوگوں کا خون چوسنے کے بجائے معاشرے کو خوش حال بنانے کے اقدامات کرتی ہے ،جس کے نتیجے میں محض دس سال میں ساری مملکت خوش حال ہوجاتی ہے۔
میں گزارش کرتا ہوں اپنے واعظین و خطیبوں سے کہ وہ قوم کو غریبی کی طرف نہ دھکیلیں،اسلام کی صحیح تعلیم دیں ،نوجوانوں کو کسب حلال کی جانب راغب کریں اور ان کے لیے مواقع پیدا کریں ،مسلمان تاجر اپنی تجارت کو صاف و شفاف بنائیں،قابل ذکر ہاتھوں میں کاسہ گدائی آچکا ہے ،باقی کے ہاتھوں میں بھی آنے والا ہے ،ایک تو ملک میںمہنگائی کی مار ،حکومت کی پابندیاں اور دوسری طرف ترک دنیا کی تعلیم ،آخر اس کا نتیجہ فقرو افلاس کے سوا کیا ہے ،جس کا انجام ارتداد ہے ۔












