ملک میں سوال، کشمکش، مدے، گھوٹالے اور بے اطمینانی موجود ہے۔ لیکن حکومت بے فکر اور اپوزیشن غائب ہے۔ جبکہ پہلے جس اقتدار کے خلاف کرپشن یا بد انتظامی کے مدے کھڑے ہوئے۔ اسے عوام نے کرسی سے ہٹا دیا۔ کیوں کہ اپوزیشن نے احتجاج کر سماج کو جوڑا اور عوام نے اقتدار کو بدل دیا۔ راہل گاندھی کی بوفورس تو اٹل بہاری واجپائی کی تابوت گھوٹالے اور تہلکہ کانڈ کی وجہ سے کرسی گئی۔ کانگریس نے صرف پیاز کے مسئلہ پر بی جے پی کو دہلی کی ریاستی حکومت سے بے دخل کر دیا تھا۔ وہیں 2 – جی گھوٹالے اور مہنگائی کے ایشو پر بی جے پی نے کانگریس کو کرسی سے ہٹا دیا۔ اس وقت گیس سلنڈر 417 سے 450 اور پیٹرول 72 روپے ہو گیا تھا۔ اس وقت پیٹرول 100 اور گیس سلنڈر دہلی میں 1053 روپے ہے۔ نوٹ بندی میں 125 سے زیادہ لوگوں کی جان گئی۔ جی ایس ٹی نے کاروبار برباد کر دیا۔ نجی کاری نے کرپشن کو چھپا دیا۔ آر ٹی آئی قانون کے تحت معلومات فراہم کرنا ضروری نہیں رہا۔ رافیل ایئر کرافٹ سے جڑا معاملہ دب گیا۔ سی اے جی کی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔ پی ایم کیئر فنڈ کے بارے میں کوئی سوال معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ لاک ڈاؤن کے دوران لاکھوں لوگ بھوکے پیاسے پیدل گھروں کے لئے نکل پڑے۔ حکومت کی جانب سے جگہ جگہ ان کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ ہوا۔ کتنے ہی راستہ میں مر کھپ گئے۔ لیکن حکومت کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں آئی۔
حال ہی میں اڈانی کا کئی لاکھ کروڑ کا شیئر گھوٹالہ اور بی بی سی پر چھاپے کا معاملہ سامنے آیا۔ بی بی سی نے 2002 کے گجرات فسادات پر بنائی گئی ڈاکومنٹری میں وزیر اعظم نریندر مودی کو کٹگھرے میں کھڑا کیا تھا۔ ڈاکومنٹری پر پابندی کے بعد انکم ٹیکس افسران نے بی بی سی کے دفاتر پر ریڈ کی۔ جسے دنیا نے میڈیا پر حملہ تصور کیا۔ کانگریس ان چھاپوں کے لئے غیر اعلانیہ ایمرجنسی کے الفاظ استعمال کئے۔ یہ کونسی سیاست ہے کہ موجودہ حکومت کے خلاف ملکی و بین الاقوامی مدے ابھرے لیکن اس سے نہ اقتدار کی چولیں ہلیں اور نہ ہی اپوزیشن کہیں دکھائی دی۔ پارلیمنٹ میں شور مچا، پارلیمنٹ ختم شور ختم۔ اس سے قبل کبھی یہ صورتحال نہیں تھی۔ حزب اختلاف مدوں لے کر سڑک پر ہوتا تھا۔ یہ دور کچھ مختلف ہے، ایک طرف بی جے پی ہے جسے الیکشن جیتنے کا ہنر آتا ہے۔ وہ چناؤ لڑنے، جیتنے یا جیتے ہوئے ممبران کو ساتھ لے کر حکومت بنانے کو جمہوریت سمجھتی ہے۔ تمام مدوں کے باوجود اس کے وزیراعظم چھوٹے سے چھوٹے الیکشن میں کود جاتے ہیں اور سیاسی طور پر عوام کو یہ سمجھا دیتے ہیں کہ ان سے بہتر کوئی نہیں ہے۔
اگر کوئی بی جے پی کے علاوہ کسی اور کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے تو اسے روکنے کیلئے بہت ہتھیار ہیں۔ اس فہرست میں ملک کی تمام ایجنسیوں سے لے کر لوک لبھاون نعرے اور فلاحی اسکیموں کے سہارے بینکوں میں سیدھے پہنچنے والی رقم شامل ہے۔ دوسری طرف ٹوٹا بکھرا ہوا حزب اختلاف یا ریاستی لیڈران ہیں۔ جو اپنی کمزوری چھپانے کیلئے خود کو مضبوط دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ہر کوئی اکیلا ہے، ان کا دائرہ سمٹ رہا ہے۔ کئی کی تو سیاسی حیثیت خاتمے کے قریب ہے۔ اس کے باوجود ان کے درمیان اتحاد کے بجائے اختلاف دکھائی دے رہا ہے۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے سی آر تیسرا مورچہ بنانے کی قواعد میں لگے ہیں۔ ان کی ریلی میں اروند کجریوال، پنرائی وجین، ڈی راجا اور اکھلیش یادو پہنچے تھے۔ وہ اس مقصد کے لئے ممتا بنرجی اور شردپوار سے بھی مل چکے ہیں۔ اڑیسہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک 2024 میں بی جے پی کے بڑھتے اثر سے اپنے قلعہ کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اس کا کانگریس کو نقصان ہوگا، تمل ناڈو کی کہانی بھی اسی طرح کی ہو سکتی ہے۔ اکھلیش یادو قومی سطح پر کانگریس کی حمایت کرتے ہیں لیکن یوپی میں اس کے پر کتر دینا چاہتے ہیں۔
اسی انتشار کی وجہ سے 2019 کے الیکشن میں اپوزیشن جماعتیں آپس میں ٹکراتی ہوئی دکھائی دیں۔ قومی سطح پر صرف کانگریس کی اپوزیشن کے طور پر پہچان ہے۔ اس کے باوجود ہندی پٹی کی 316 سیٹوں میں سے صرف دس سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ یوپی، جھارکھنڈ، مدھیہ پردیش، ہریانہ، دہلی، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش، راجستھان، آسام اور چھتیس گڑھ کی 199 سیٹوں میں سے 169 سیٹیں بی جے پی کے پاس ہیں۔ گجرات، ہریانہ، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور دہلی میں بی جے پی نے کلین سویپ کرتے ہوئے لوک سبھا کی تمام سیٹیں جیت لی تھیں۔ تین ریاستوں بہار، مہاراشٹر اور پنجاب میں اس کے اتحادی ساتھ چھوڑ چکے ہیں۔ یہاں کی 101 سیٹوں میں سے 42 پر بی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی۔ سوال ہے کہ کیا اکیلے رہ کر بی جے پی 42 سیٹیں جیت سکے گی؟ اس کا جواب تلاش کرنے سے پہلے ان تین ریاستوں کی بات جہاں کے لیڈران نے انتخابی جیت کے آسرے اپنی پہچان بنائی ہے۔ ان میں مغربی بنگال، اڑیسہ اور تلنگانہ ہے۔ جہاں کی 80 سیٹوں میں سے 30 سیٹیں ریاستی لیڈران سے لڑتے ہوئے بی جے پی نے جیتی تھیں۔ کیرالہ، تمل ناڈو اور آندھرا میں اسے ایک بھی سیٹ نہیں ملی تھی۔ صرف کرناٹک کی 28 میں سے 25 سیٹیں اس کے پاس ہیں۔
اعداد وشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام مدوں کے باوجود بی جے پی نے اتنی بڑی لکیر کھینچ دی۔ جس میں حزب اختلاف کہیں نظر نہیں آ رہا تو یہ اس کے لئے جاگنے کی گھڑی ہے۔ اگر اب بھی اپوزیشن کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ اسے کرنا کیا ہے تو تشویش کی بات ہے۔ یہ وقت اختلافات کو بھلا کر 2024 کے لئے مشترک پروگرام بنانے کا ہے۔ کانگریس کی سوچ ہندی پٹی کے لیڈران کو ساتھ لانے کی ہونی چاہئے۔ تاکہ موجودہ دور کے ایشوز چاہے روزگار سے جڑے ہوں یا مہنگائی سے، انفراسٹرکچر سے جڑے ہوں یا ملک کی پونجی سے۔ جسے حکومت بے روک ٹوک کارپوریٹ کے حوالے کر رہی ہے۔ اس کے لئے اپوزیشن لیڈروں کو گھروں سے نکل کر سڑک پر آنے کے ساتھ بوتھ، گاؤں، پنچایت تک سرگرم ہونے کی ضرورت ہے۔ اس سے تنظیم بھی مضبوط ہوگی اور عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔ بی جے پی اقتدار میں رہتے ہوئے بھی سرگرم ہے۔ خود وزیراعظم پارلیمنٹ سے نکل کر پرپورا ووٹ مانگنے چلے گئے۔ یہی وہ طاقت ہے جو پارٹی کارکنان کو ہمت دیتی ہے۔ مگر اس دور میں اپوزیشن کی سیاست کند بلکہ ویکیوم میں سمائی ہوئی ہے۔ نتیجہ کے طور پر وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی حالت میں نہیں ہے۔
راہل گاندھی جب تک چل رہے تھے کانگریس نظر آ رہی تھی۔ وہ رکے تو کانگریس کی سرگرمی غائب سی ہو گئی۔ گزشتہ ساڑھے آٹھ سال کا پیغام صاف ہے کہ ملک کے تمام ادارے اور ایجنسیاں سیاسی اقتدار کے حساب سے ہی کام کریں گے۔ اپوزیشن کو انہیں حالات میں ملک کے سوالوں کو اٹھانے کے طور طریقے تلاش کرنے ہوں گے۔ عوام کو ساتھ لینے کے لئے سیاسی ہنر کا استعمال کرنا ہوگا۔ ملک کے جو پروفیشنل، صحافی، وکیل اور سوشل ورکر اپنے طور پر مدوں کو اٹھا رہے ہیں ان کی مدد سے ملک کے ہر شہری کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی حزب اختلاف جماتیں متحدہ محاذ بنائیں تاکہ بی جے پی مخالف ووٹ بٹنے سے بچ جائیں۔ ملک کے مسائل اور حالات ایسے ہیں کہ 2024 میں بی جے پی کو اپنا ریکارڈ دوہرانا مشکل ہوگا۔ مگر اپوزیشن کا انتشار اور ٹکراؤ اس کی جھولی میں تیسری جیت ڈال سکتا ہے۔












