2023-24 کے بجٹ میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 8 ہزار کروڑ زیادہ تعلیم کے لئے مختص کی گئی ہے ۔ تاہم، مجموعی تعلیم کے بجٹ میں صرف 0.19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سال کے بجٹ میں سب سے خاص بات قومی ڈیجیٹل لائبریری کے قیام کا اعلان ہے۔ ہر ایک کو اس لائبریری سے یکساں طور پر جوڑنے کے لئے زور دیا جائے گا۔ دیہی علاقوں تک پہنچنے کے لئے ضلع پنچایت کی مدد بھی لی جائے گی۔ حکومت کا یہ اقدام خوش آئند ہے۔ اگر سنجیدگی سے کوششیں ہر سطح پر کی جاتی ہیں، تو پھر یہ ڈیجیٹل لائبریری بچوں میں تعلیم کی طرف رجحان میں اضافہ کرے گی، جبکہ یہ ڈراپ آؤٹ کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ملک کے دور دراز دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوعمرلڑکیوںکے لئے ہوگا جو مختلف وجوہات کی بناءپر وسط میں اسکول کی تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہیں۔مرکز اور ریاستی حکومتوں کی متواتر کوششوں کی وجہ سے، ملک میں اسکول ڈراپ آؤٹ کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ یونیسف کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں ’آوٹ آف اسکول چلڈرن‘ (او یو ایس سی) کی تعداد میں مستقل کمی واقع ہوئی ہے۔ 2006 کے 13.46میلین کے مقابلے 2014 میں اسکول سے باہر ہونے والے بچوں کی تعداد صرف 6 لاکھ رہ گئی ہے اور یہ تعداد بھی تیزی سے گررہی ہے۔ لیکن کورونا کی وبا نے اس میں ایک بریک لگایا ہے۔ لڑکی کی تعلیم پر اس کا سب سے زیادہ نقصان دیکھا گیا ہے۔ بہت ساری اطلاعات سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کورونا کے دوران دیہی علاقوں میں تعلیم کا سب سے خراب اثر رہا ہے۔ تقریبا 29 کروڑ بچے اسکول کی تعلیم سے دور تھے، جن میں سے 13 کروڑ لڑکیاں تھیں۔ یہ تشویش کی بات ہے کہ وبا کے بعد، تعلیم کا نظام آہستہ آہستہ ٹریک پر واپس توآگیا، لیکن ڈراپ آؤٹ کی نصف لڑکیاں کبھی بھی اسکول کی دہلیز کو دوبارہ عبور نہیں کرسکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اگرچہ کورونا کا المیہ کم ہوا ہے، لیکن معاشرے میں اس کا ڈنک اب بھی موجود ہے۔ کورونا کے دوران، ان گنت بچوں نے اپنے والدین کو کھو دیا، نہ جانے کتنے بے روزگار ہو گئے وہیں لا تعداد میںوسائل کی کمی کی وجہ سے بچوں کے ہاتھوں سے کتابیں چھین گئیں۔ اس سانحے کا تباہی اتنا تھا کہ بہت سی لڑکیاں اسکول سے دور ہو گئیں۔ دیہی علاقوں کی لڑکیوں کا کورونا کے دوران اپنی تعلیم چھوڑنے کی بہت سی وجوہات تھے۔ مثال کے طور پر، آن لائن تعلیم کے دوران، گھر میں اسمارٹ فونز کی عدم موجودگی، یہاں تک کہ اگر دستیاب ہو تو بھی گھر کے لڑکوں کو ترجیح دی گئی، گھر میں رہنے کی وجہ سے لڑکیاں گھریلو کاموں میں الجھا دی گئیں اور ان کی جلدشادی کر دی گئی۔ تاہم ملک کے دیہی علاقوں میں، والدین شروع سے ہی لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں زیادہ حساس نہیں رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی ڈراپ آؤٹ فیصد ہمیشہ زیادہ رہی ہے۔ یہ تعداددرجہ فہرست ذاتوں،درجہ فہرست قبائل اور اقلیتی برادری میں نسبتازیادہ رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں، کورونا نے آگ میں گھی کا کام کیا ہے۔ درحقیقت بیداری اور تعلیم کی کمی کی وجہ سے دیہی ہندوستان میں لڑکیوں کو شروع سے ہی لڑکوں سے کمتر سمجھا جاتا ہے۔ انہیں ہر قدم پر کئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دیہی معاشرہ لڑکیوں کو کسی اور کی ملکیت سمجھتا ہے اور ان کے ساتھ غیر کی طرح برتاؤ کرتا ہے۔ اس لیے والدین کو بچی کی تعلیم پر خرچ سے زیادہ اس کے جہیز کی فکر ہوتی ہے۔ ایسے میں جب حالات نے خود ہی کورونا کی وبا میں لڑکیوں کے ہاتھوں سے تعلیم حاصل کرنے کا موقع چھین لیا ہے تو پھر معاشرہ کیسے ساتھ دے گا؟
تاہم ان دیہی علاقوں میں بہت سے والدین ایسے ہیں جو محدود وسائل کے باوجود تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے لڑکیوں کو لڑکوں کے برابر تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ بہار کے مظفر پور ضلع کے سرایا تھانے کے تحت گووند پور گاؤں میں رہنے والی لڑکیوں کی حالت بھی کم و بیش ایسی ہی ہے۔ جن کے والدین بھی بچیوں کی تعلیم کو اہمیت دیتے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے اپنے شوہر کی موت کے بعد بھی وینا دیوی نے اپنے بیٹوں کی طرح بیٹی کی تعلیم جاری رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی 19 سالہ بیٹی سیما نے 12ویں کے بعد بھی اپنی تعلیم جاری رکھنے کا فیصلہ کیا اور اب وہ اپنی پڑھائی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے مزدوری کر رہی ہے۔لیکن اس کے برعکس اسی گاؤں میں رہنے والی آشا کی تعلیم میں کورونا کے وقت خلل پڑا اور پھر ہمیشہ کے لیے رک گیا۔ گھر پر محدود وسائل کی وجہ سے وہ کبھی آن لائن کلاس میں شریک نہیں ہوسکی اور اب کورونا کا سانحہ ختم ہونے کے باوجود آشا اپنی مزید پڑھائی جاری نہیں رکھ سکی۔ اس کی وجہ ایک طرف جہاں اس کا خود تعلیم سے لاتعلق رہا ہے وہیں شعور کی کمی کے باعث والدین بھی اسے سکول جانے کی ترغیب نہیں دے سکے۔ کم و بیش، کورونا کے بعد، گووند پور گاؤں کی زیادہ تر نوعمر لڑکیاں اپنی تعلیم سے لاتعلق ہوگئی ہیں کیونکہ کچھ میں قوت ارادی کی کمی تھی اور کچھ کے خاندانوں میں تعلیمی بیداری کی کمی نے انہیں اسکول کی دہلیز سے دور رکھا ہے۔کورونا کے وقت لڑکیاںنہ صرف تعلیم بلکہ دیگر حوالوں سے صحت، کھیل، شخصی آزادی وغیرہ جیسی بنیادی سہولیات سے محروم تھیں۔ یوں تو کورونا کی رفتار تھم گئی ہے لیکن اس دوران جن علاقوں اور جغرافیائی حالات کی وجہ سے لڑکیوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا اور ڈراپ آؤٹ ہوا، وہ مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔ ایسے میں ڈیجیٹل لائبریری کو گاؤں گاؤں تک پہنچانے کا منصوبہ مستقبل میں تعلیم کے شعور کو بڑھانے کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، وہیں ڈراپ آؤٹ کے مسئلے پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس منصوبے کو زمینی سطح پر سنجیدگی سے نافذ کرنے کی ہے۔












