ہمارے ملک عزیز ہندوستان میں آج صاف طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ نفرتوں کی آگ چارو طرف پھیل چکی، مہرو وفا کا درس بھلا دیا گیا ہے۔ ان حالات میں صالح تبدیلی کی امید اگرکسی سے کی جاسکتی ہے تو وہ علماءکرام ہی ہیں کیونکہ ان کے پاس جو علم ودانش کا خزانہ ہوتا ہے وہ عام انسان کے پاس نہیں ہوتا، یہ انبیاءکے وراث اسی لیئے تو قرار پائے ہیں کہ ان کی پاس جو دولت انبیاءعلیہ السلام سے منتقل ہوتے ہوئے پہنچی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عطا ہے اور اس کی آخری کڑی حضرت صلی علیہ اللہ وسلم کی ذات اقدس پر ختم ہوگئی ، اس طرح جو علم دین آج ہمارے علماءکرام کے سینوں میںموجود ہے گویا یہ وحی الٰہی کا فیض بذریعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم منتقل ہوتے ہوتے آج موجودہ علماءکرام کے حصہ میں آگیا اور یہ سلسلہ قیامت تک ان شاءاللہ جاری رہے گا۔حقیقت یہ ہے کہ علماءکرام اسلام کے عظیم نمائندہ ہیں اوروہ جس معاشرے میں رہتے بستے ہیں دین کے علمبرار سمجھے جاتے ہیں، کتاب وسنت کے معلم ومربی کی حیثیت سے مانے جاتے ہیں، اور یہ بھی سچ ہے کہ معلم و مربی کی حیثیت سے ان کی کشش معاشرے میں اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو الٰہی و نبوی تعلیمات سے ہمیشہ وابستہ رکھتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو انبیاءکے ورثہ کی قدر نہیںکرتے، مگر آج بھی ایک بڑی تعداد، ان خدا ترس علماءکرام کی جی جان سے محبت و قدر کرنے والی موجود ہے، چنانچہ علم پر عمل ان کی عوامی کشش میں اضافہ ہی اضافہ کردیتا ہے۔ملک کے موجودہ نفرت سے بھرے ماحول میں جبکہ ہر طرف فرقہ پرستی، مذہبی منافرت کی فضاءپائی جارہی ہے، اولاد آدم کی ایک بڑی تعداد کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف روزبروز بھڑکایا جارہا ہے، نفرت کی آگ ہر طرف لگادی گئی ہے۔ ان حالات میں خیر امت کے ایک خاص طبقہ (علماءکرام) کی اہم ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خدائے تعالیٰ کے عطا کردہ علم کے ذریعہ اولا دآدم کے درمیان پنپنے والی عداوتوں کو ختم کرنے میں اپنا رول ادا کریں۔حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ نے علماءکرام کی ذمہ داری کی طرف انہیں متوجہ فرماتے ہوئے یوں تحریر فرمایا: ” حضرات علماءکرام اپنے اپنے حلقے میں دین کے پیشوا اور قوم کے مقتدا ہیں۔ ان کے اس رفیع منصب کے لحاظ سے ان پر بڑی گرانقدر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، اسی لئے ہم سب کا فرض ہے کہ ان عظیم الشان ذمہ داریوں کو پوری طرح محسوس کریں اور ان سے عہدہ برآ ہونے کی تدابیر کریں۔
رسول اللہ صلہ اللہ علیہ وسلم کی جو امانت ہمارے سپرد کی گئی ہے، اس کے لئے ہم فکر مند ہوں اور امت کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے پر لانے کی ہر ممکنہ کوشش کریں۔ (ماہنامہ بینات اپریل 2016)پیش آمدہ حالات و مشکلات اور اسلام دشمنی و عداوت کی جو کیفیت اب عام طور پر محسوس کی جارہی ہے، یہ ہماری کمی اور غفلت کا ایک نتیجہ ہے، جو ہم نے خیرامت کی ذمہ داریوں کو پوراکرنے میں کوتاہی کے مرتکب ہوئے۔ یہاںپر اس بات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ ہمارے اکابر نے اس ملک کے لئے عظیم و بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں، اور اسے انگریزوں کی غلامی سے آزاد کروانے کیلئے تن من دھن سب کچھ اس کام میں لگادیا، اور یہ ہمارے علماءہی تھے جو وقت کی سپر پاور طاقت برطانیہ سے اپنا لوہا منوالیا۔
ہندوستان پر قابض، برٹش حکومت کا دبدبہ ساری دنیا میںتھا، یہ اپنی وسعت کے اعتبار سے تاریخ کی سب سے بڑی سلطنت تھی اور یہ کافی عرصہ تک ایک عالمی طاقت رہی۔ 1921ءمیں اس کی اپنی طاقت اور وسعت کی انتہا کو پہنچ چکی تھی یعنی 33 ملین مربع کیلو میٹر رقبے پر اس کا دبدبہ رہا ہے۔ یہ لوگ1600ءمیں تاجر بن کر ہندوستان آئے اور دھیرے دھیرے یہاں پر اپنا قبضہ جماتے رہے یہاں تک کہ 1857ءآنے تک کامل طور پر یہاں کے لوگوںکو غلامی کی زنجیر میں جکڑ لیا، خصوصی طور پر 1857ءتا1947ءکا عرصہ ہندوستان کے اصلی باشندگان کیلئے بڑے ہی کربناک حالات رہے گویا کہ انگریزی حکومت کی نظر میں یہاں کے لوگ انسان نہیں تھے۔ ان حالات میں سب سے پہلے ملک کی آزادی کیلئے مسلم علماءنے ہی پیش قدمی کی اور لوگوں میں حریت آزادی کا شعور بیدار کیا اور رائے عامہ کو ہموار کرتے ہوئے غلامی کی زنجیر کاٹ پھینکنے کی کامیاب مہم چلائی۔ بالآخر وہ دن بھی آتا ہے کہ ظالم وجابر حکمراں کو اس ملک سے واپس جانا پڑا، اس طرح اس کا سہرا ہمارے علماءکرام کے سر جاتا ہے۔
آج جو حالات ہمارے سامنے آرہے ہیں یہ اچانک رونما نہیں ہوئے بلکہ آزادی کی جب جنگ چل رہی تھی اسی زمانے میں اس کے علامات ظاہر ہونے شروع ہوچکے تھے، جیسے شدھی تحریک اور اس قبیل کی دیگر نفرت کو فروغ دینے والی طاقتوں نے اپنا کام کرنا شروع کردیا تھا، آج75 برس گزر گئے لیکن ہمارے ملک عزیز ہندوستان کے ہر گزرے ہوے سال کے مقابلے ؛ہمارے لئے ہر آنے والا نیا سال بد سے بدتر ثابت ہوتا رہا۔ہمیں اس بات کا اقرار کرنا ہی پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے ملک کو جب ایک ظالم باشاہ سے نجات دی تو ہم اللہ کا شکر ادا کرنا بھول گئے، یعنی جس طرح ہم نے اپنے ملک کو ظالم وجابر حکمراں سے آزادی دلانے کیلئے جو محنتیں کرچکے ہیں ٹھیک اسی طرح اچھی محنت کرتے ہوئے پورے ملک کو خدائے واحد کی بندگی کی طرف بلانے میں ہم مجرمانہ غفلت کا شکار ہوچکے ہیں۔
خیر اب بھی ہم اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اس ملک کو نفرتی فضاءسے نکالنے کی جدوجہد شروع کرسکتے ہیں اور یہ کام ہمارے علماءہی سے ممکن ہے، اگر پہل کرتے ہوئے سارے مسلمانوں کو یہ متحد کردیتے ہوں تو ملک کو پیارو محبت کا گہوارہ بنایا جاسکتا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ امت کو ایک لڑی میں پرونے کیلئے ہمارے علماءکرام مفتیان عظام دینی ادارے وتعلیمی مراکز قوم کی رہبری کرنے والی جماعتیں وجمعیتیں آپسی رنجشیں دور کرتے ہوئے اللہ کے رضا وخوشنودی کیلئے دین کی اساس پر ایک جگہ جمع ہونا بے حد ضروری ہے۔اتحاد امت کیلئے اب کوئی نیا فارمولا لانے کی چند اں ضرورت نہیں ہے، اللہ تبارک تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب اطہر پر ڈیڑھ ہزار سال قبل ایک ایسا نسخہ اکسیر اتارا ہے جسے استعمال کرتے ہوئے اہل ایمان جو اپنے عقیدہ کی بناءایک امت ہیں انہیں ہمیشہ متحد رکھنے کیلئے دو بنیادی چیزوں کی طرف رہنمائی فرما دی گئی ہے، وہ یہ کہ اعتصام بحبل اللہ اور افتراق سے مجتنب رہنا۔سورہ آل عمران کی آیت 103 میں اللہ تعالیٰ ہمیں یہ ہدایت فرما رہا ہے کہ (وَاعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّہِ جَمِیعاً وَلاَ تَفَرَّقُوا) سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔آج ہم اپنی سر کی آنکھوں سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان ہر طریقہ سے افتراق بازیاں جاری ہیں، گروہ بندیاں بام عروج پر ہے، اختلافات کا بازار گرم ہے، ان کی آپسی مسلکی نفرت نے انہیں اپنی اپنی مسجد اپنے اپنے فرقہ کے نام سے بنانے پر آمادہ کردیا۔ اب حد تو یہ ہوچکی کہ ایک فرقہ کا آدمی کسی دوسرے فرقہ کی بنائی گئی مسجد میں اللہ کی عبادت کیلئے داخل ہوجائے تو اسے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔
یہ منحوس عادت ورواج ہمارے درمیان میں جو وجود میںآیا ہے اس کی معقول وجہ بھی یہی ہے کہ ہم اللہ کی کتاب اوراس کی تعلیمات سے غفلت برت رہے ہیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کو بھول گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کتاب اللہ ھو حبل اللہ من اتبعہ کان علی الھدی و من ترکہ کان علی الضلالۃ(مسلم) اللہ تعالیٰ کی کتاب اللہ کی وہ رسی (شریعت) ہے جس نے اس کی پیروی کی وہ ہدایت پر ہے اور جس نے اس کو ترک کیا وہ غلط راہ پر پڑگیا۔ اللہ کی رسی کی تشریح فرماتے ہوئے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ یوں تحریر کرتے ہیں:”اللہ کی رسی سے مراد اس کا دین ہے، اور اس کو رسی سے اس لئے تعبیر کیاگیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک طرف اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف تمام ایمان لانے والوںکو باہم ملا کر ایک جماعت بناتا ہے۔ اس رسی کو ”مضبوط پکڑنے“ کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت ”دین“ کی ہو، اسی سے ان کو دلچسپی ہو، اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اسی کی خدمت کیلئے آپس میں تعاون کرتے رہیں۔
جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی توجہات اور دلچسپیاں جزئیات و فروع کی طرف منعطف ہوئیں، پھر ان میں لازماً وہی تفرقہ و اختلاف رونما ہوجائے گا جو اس سے پہلے انبیاء(علیہم السلام) کی امتوں کو ان کے اصل مقصد حیات سے منحرف کرکے دنیا اورآخرت کی رسوائیوں میں مبتلا کرچکا ہے۔ (تفہیم القرآن سورہ آل عمران آیت 103حاشیہ83 جلداول)












