وطن عزیز میں غیر انسانی واقعات اسطرح رونما ہورہے ہیں جسکو سن کر دلوں پر سکتہ دماغ سوچ سے عاری ہوجاتا ہے ایسے تو بہت سارے جرائم ملک کے اندر ہوتے ہیں کیونکہ 130 کروڑ کی آبادی سے زائد والے ملک میں اگر ایک فیصد جرائم کے واقعات ہوتے ہوں تو یہ تناسب میں کم لیکن اعداد میں کثیر لگتے ہیں ہر روز دل دہلادینے والے دل تڑپادینے والے واقعات ہونا ایک عام سی بات ہوچکی ہے لیکن اس سے بڑھ کر کسی ایک طبقہ کے افراد کو نشانہ بناکر ظلم و ذیادتی کرنا یااگرایسا ایک بھی واقعہ پیش آتا ہوتو یہ ایک واقعہ روزمرہ میں ہونے والے ان تمام جرائم کا اصل محور و مرکز کہلائے گا کیونکہ جرم اور ظلم میں جو امتیاز ہے وہ اس بات کو ظاہر کردیتا ہے کہ جرم انسان تناؤ دباؤ یا نفسانی خواہشات کیلئے کرتا ہے جبکہ ظلم انسانی فطرت کےعین متضاد ہے جو ایک انسان جانتے بوجھتے قصداً اور عملاً تک پہنچ جاتا ہے تاریخ میں جب کبھی بھی ظلم کیا گیا تو اسکی تعریف یوں ہی نکل کر آتی ہیکہ کسی ایک فرقہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جانا یا جانبداری کا مظاہرہ کرنا اب چاہے وہ فرقہ کوئی بھی ہو فی الحال وطن عزیز بھی ان ہی واقعات اور معاملات سے دوچار ہے جہاں جرم اور ظلم دونوں جارحانہ طور پر سر چڑھ کر بول رہے ہیں۔
بات اگر ظلم کی کی جائے تو ملک کے گوشے گوشے میں ہر روز ہر گھنٹہ کہیں نہ کہیں اقلیتوں پر ظلم و ستم کی ایکا دوکا مثالیں تو مل ہی جائے گی اصل بات یہ ہیکہ مرکب لفظ ہجومی تشدد جو 2014 میں نومولد کے روپ میں اسطرح ظاہر ہوا کہ ان نو سالوں میں اس نے کئی ایک مسلمانوں و دلتوں کو موت کے کنویں میں دھکیل دیا جن میں اکثریت مسلمانوں کی ہے آج بھی بڑے فخر سے یہ بات کہی جاتی ہیکہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں کی جمہوریت پوری دنیا کی سب سے عظیم جمہوریت ہے لیکن اگر اس حقیقت کے پس پردہ کی سچائی کی نقاب کشائی کریں گے تو ایک ایسا ملک نظر آئے گا جسمیں ایک طرف بلڈوزری طاقت دوسری طرف لنچنگ کے واقعات تیسری طرف خواتین پر ظلم چوتھی طرف مساجد مدارس اسلامیہ پر نشانے غرض یہ کہ ایک ایسی تصویر نکل کر آئے گی کہ جس میں درجنوں معاملات ملیں گے جو صرف اور صرف مسلمانوں کے تیئں نظر آئیں گے کہ مسلمانوں پر کسطرح سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ کیا ہم حقیقی جمہوری ملک میں زندگی گذار رہے ہیں ؟بالکل نہیں بلکہ ہم اس ملک میں زندگی گذار رہے ہیں جہاں جمہوریت اور آئین صرف کتابوں کے اوراق تک محدود ہوچکے ہیں باقی جو ملک میں ہورہا ہے وہ جمہوریت اور سیکولرزم کے نام پر بھدا مذاق ہے جب اپنے ہی شہریوں کو دشمن تصور کرتے ہوئے انکا قتل کردیا جاتا ہے تو ہم اندازہ لگاسکتے کہ ملک میں کی گئی زہن سازی اور نفرتی ایجنڈہ کس انتہا تک پہنچ چکا ہے راجستھان کے جنید اور ناصر کا بھیوانی میں گاؤ رکھشکوں کے نام لیوا نے جس طرح سے دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں تڑپا تڑپا کر مارا گیا بلکہ بولیرو گاڑی میں ڈال کر نذر آتش کیا گیا ان نوجوانوں کے لہو کا ایک ایک قطرہ ملک کے حکمرانوں عدلیہ اور عوام سے سوالات کررہا ہے کہ انکے خون کا قصاص کیا ہے؟سوال یہ بھی ہے کہ ان بے قصور معصوم نوجوانوں کا قصور کیا تھا؟ قصور بس یہ تھا کہ وہ مسلمان تھے سوال تو یہ بھی ہیکہ آخر اتنی کھلی آزادی کہاں سے مل رہی ہے؟معلوم یہ ہوتا ہیکہ جنھوں نے جنید اور ناصر کا قتل کیا وہ دراصل پولیس کے مخبر تھے وہ گؤ رکھکشوں کے نام پر پولیس کو اطلاعات فراہم کرتے تھے لازمی بات ہیکہ ایسے میں انکے اور پولیس کے مابین تعلقات بہت گہرے تھے تب ہی انھوں نے اتنے بڑے کام کو انجام دیا جب قانون کے رکھوالے ہی ایسے مجرمین کو کھلی آزادی فراہم کرتے ہوں تو ایسے سنگین واردات ہونا ایک معمول بن جاتا ہے ملک کے وزیر اعظم ہو کہ وزیر داخلہ آج تک بھی مسلمانوں کی لنچنگ پر کوئی تبصرہ تک کرنا گوارا نہیں سمجھا قیادت اور قانون جب ظلم پر تشویش اور کاروائی کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کرتے ہیں تو انکی خاموشی بھی بڑی معنی خیز بن جاتی ہے۔
ظلم و ستم کا دوسرا واقعہ ریاست تلنگانہ میں پیش آیا ضلع میدک کے رہنے والے محمد قدیر خان پر تلنگانہ پولیس نے چوری کا الزام لگاتے ہوئے اس معصوم کو شہر حیدرآباد سے گھسیٹ کر میدک لایا جاتا ہے اور اسکے ساتھ تھرڈ ڈگری کا استعمال کرتے ہوئے اسکے جسم کی ہڈیوں کو توڑ دیا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ معصوم دواخانہ میں زیر علاج فوت ہوجاتا ہے مظلوم قدیر خان نے علاج کے دوران خود اپنی زبانی میں بتایا کہ اسکو الٹا لٹکا کر ظلم و بربریت کی لاٹھیاں برسائی گئی تلنگانہ حکومت جو فرینڈلی پولیس ہونے کا دعوی تو کرتی ہے لیکن اس دعوی کا کھوکھلا ثبوت قدیر خان کو موت کے گھاٹ اتار کر دے دیا گیا کیا قانون کے رکھوالوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایک ملزم کو موت کے کنویں میں ڈھکیل دے؟حقیقت تو یہ ہے کہ ملک کا قانون اور آئین ایک مجرم کے ساتھ بھی اسطرح کا برتاؤکرنے سے روکتا ہے تو پھر یہ کونسے رکھوالے تھے جو اتنی بے دردی سے ایک انسان کا ناحق قتل کرنے کا ارتکاب کیا پولیس عوام کی محافظ ہوتی ہے ملزم کو قانون کے زریعہ عدالت تک پہنچاتی ہے اور عدالت شواہد کی بناءپرفیصلہ کرتی ہے لیکن تلنگانہ پولیس کا یہ معاملہ قانون کے بالکل عین متضاد دیکھنے کو ملا اس واقعہ کے بعد سماج میں پولیس کے تیئں عوام کا غصہ بھڑک رہا ہے اگر پولیس ہی قانون کی دھجیاں اڑاتی رہے گی تو عام مجرم کو کھلی آزادی کیسے نہیں مل سکے۔
ان دونوں دلسوز واقعات نے انسانیت کا سر شرم سے جھکادیا آئین اور قانون سے بے وفائی کا ثبوت پیش کیا اس سے بڑھ کر ملک اور ملک کے مسلمانوں پر گہری ضرب کاری کی ہے جو ظلم اور ظالم کی بدترین مثالیں ہے جنھیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ان واقعات سے یہ نتیجہ اخد کیا جاسکتا ہے کہ ظالم حد سے تجاوز جب ہی کرتا ہے جب اسکو کسی سے حد درجہ کی نفرت ہوتی ہے ٹھیک اسی طرح جنید اور ناصر کے قاتل ہو کہ یا تلنگانہ پولیس جنھوں نے یہ ثابت کر دکھایا کہ انھیں ایک مسلمان سے کتنی نفرت تھی جو خود ہی ظالم بنکر منصف کا کردار ادا کرتے ہوئے قاتل بھی بن بیٹھے در حقیقت جو ایک منصف کا بھی کردار ایسا نہیں ہوتا ظالموں کی یہ سنگین وارداتیں جو بھارتی قوانین کی نوعیت سے بہت بڑا جرم ہے لہذاان ظالموں کو قانون کی رو سے کیفردار تک پہنچانا یہی انصاف کا تقاضہ ہے یہی نہیں بلکہ انھیں ایسی سزا بھی دلوائی جائے تاکہ دوبارہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہوسکے بلکہ حکومتیں بھی مداخلت کرتے ہوئے ایسے مجرمین کی پشت پناہی کرنے کے بجائے جنید ناصر اور قدیر خان کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ظالموں کو مستحق سزا دلوانے کے اقدامات کرے دیکھنا ہے اس معاملہ میں حکومتیں کیا کیا اقدامات کرتی ہے اگر صورتحال اسکے برعکس ہوگی تو یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہوگی کہ انصاف سے بڑا قاتل ہی ہے اس پس منظر کے نتیجہ میں شاعرہ پروین شاکر کا یہ شعر صادق آتا ہے۔
لہوجمنے سے پہلے خوں بہادے
یہاں انصاف سے قاتل بڑاہے
کسی بستی میں ہوگی سچ کی حرمت
ہمارے شہرمیں باطل بڑاہے۔












