• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, مارچ 26, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

شہریت چھوڑنے کا بڑھتا رجحان خطرناک؟

ذکی نور عظیم ندوی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 26, 2023
0 0
A A
شہریت چھوڑنے کا بڑھتا رجحان خطرناک؟
Share on FacebookShare on Twitter

وطن انسان کی مستقل رہائش گاہ، اس کی تعلیم و تربیت کا اولین مرکز، اس کی جائے پیدائش، اس کی نشو نما اور تعمیر و ترقی کاپہلا زینہ اور بیشترحالات میں اس کا مدفن ہونے کی وجہ سے بیحد عزیز ہوتا ہے اور بیشتر انسانوں کو اس سے بیحد لگاؤ اور محبت ہوتی ہے۔ یہ محبت زندگی کے کسی خاص مرحلہ کی محتاج یا اس کا تعلق اسباب و علل سے نہیں ہوتا بلکہ یہ خالص انسانی فطرت اور طبعی رجحان سے تعلق رکھتا ہے، اسی وجہ سےتقریبا ہر شخص کو اپنے وطن سے محبت اور اس کی ہر چیز سے اپنائیت اور لگاؤ ہوتا ہے، وہ اس کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اپنی صلاحیتوں اور خدمات کو بروئےکار لانا اپنے لئے باعث فخر سمجھتا ہے۔ وہاں امن و سلامتی اور پیار ومحبت عام کرنے کے لئے کبھی صبر و ضبط کا مظاہرہ کرتا ہے تو کبھی ایثار و ترجیح کا مزاج اپناتا ہے، آپسی اور باہمی تعلقات کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی کو خاطر میں نہیں لاتا اور اس کو اپنا ملکی اور سماجی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ فطری اور طبعی فریضہ مانتا ہے۔
وطن سے محبت چھوٹے بڑے امیر، غریب ، حکمراں و عوام غرض سماج کے ہر فرد کو ہوتی ہے۔ علوم اسلامی اور مذاہب و ادیان کا طالب علم ہونے کی وجہ سے میری نظر میں کائنات میں انبیاءکرام سے زیادہ برتر کوئی نہیں۔ جب ہم وطن کے نقطۂ نظر سے ان کی سیرت کا جائزہ لیتے ہیں تواندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی وطن سے محبت کوئی ڈھکی چھپی اور معمولی نہیں۔ لہٰذا پہلی وحی کے بعد جب آپ کی بیوی حضرت خدیجہ آپ کو اپنے چچا زاد رشتہ دار ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں اور انہوں نے یہ خوش خبری دی کہ غار حرا میں آپ کے پاس آنے والے فرد سابقہ انبیاءاور حضرت موسی ؑ کے پاس آنے والے فرشتہ حضرت جبرئیل ہیں اور اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش میں اس وقت آپ کے ساتھ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی، یہ سنتے ہی آپ کو گہرا جھٹکا لگا اور وطن کی جدائیگی کے احساس کی وجہ سے ورقہ بن نوفل کے ساتھ رہنے کی خواہش اور پیشکش سے خوشی کے بجائے اس پر حیرت کا اظہار کیا کہ کیا میری قوم مجھے میرے وطن سے نکال دے گی؟۔
ہجرت کا اسلام میں بہت بڑا مقام اور رتبہ ہے اس کی وجہ سے سابقہ سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور دیگر بیشمار اجر و ثواب اور دینی و دنیوی مصالح و مفاد بھی اس سے وابستہ ہیں۔ آپ نے اس وقت تک خود ہجرت کا سفر نہیں کیا جب تک اللہ تعالی کی طرف سے صراحتاً مدینہ ہجرت کی اجازت نہیں مل گئی، لیکن اس سرزمین سے رخصت ہوتے ہوئے آپ کی زبان مبارک سے وطن سے محبت اور اس سے اپنائیت اور لگاؤ کا اظہار ان کلمات کے ذریعہ ہوا کہ” اے مکہ کی سرزمین! تو کتنی مقدس اور مجھے کتنی محبوب ہے اگر میری قوم نے مجھے یہاں سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہیں رہتا “ یعنی اپنے وطن میں ہر طرح کی آزمائش اور پریشانیوں اور اللہ کی جانب سے ہجرت کی اجازت اور حکم، اسی طرح اس پر بے شمار اجر و ثواب اور دینی و دنیوی فوائد و مصالح کے باوجود وطن کی جدائیگی میں آپ کی زبان سے وہ کلمات نکلے جو آپ کے انتہائی رنج و الم اور وطن سے بے حد محبت و اپنائیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
میری نظر میں یہ تو دنیا کے سب سے عظیم شخصیت کا واقعہ تھا لیکن اگر اقوام عالم کا جائزہ لیا جائے تو شاید بیشتر لوگوں کو اپنے ملک اور وطن سے طبعی طور پر ایسا لگاؤ ہوتا ہے کہ وہاں سے جدائی کا تصور ایک بہت بڑا المیہ ہوتا ہے جہاں تک ہمارے وطن عزیز ہندوستان کا تعلق ہے تو یہاں کے باشندوں کو اپنے ملک سے بے انتہا محبت، تعلق اور اپنائیت ہوتی ہے، وہ اس کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی کو معمولی سمجھتے ہیں اور اس کی ترقی و خوشحالی کے لئے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر ہر طرح کی ایثاروترجیح کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔
لیکن گذشتہ دنوں پارلیمنٹ میں پیش کردہ اس رپورٹ نے ملک سے محبت کے دعووں کو چیلنج کردیا جس میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ پچھلے ۱۱ برسوں میں ہندوستان کی شہریت کو خیرباد کہہ کر دوسرے ممالک میں جا بسنے والے افراد کی تعداد 16لاکھ سے تجاوز کرگئی۔اور صرف 2022ءمیں(2,25,620لاکھ) شہریوں نے دوسرے ممالک کی شہریت اختیارکی یعنی اوسطاً روزانہ 618اور ہر گھنٹہ 26 لوگوں نے ہمیشہ کے لیے وطن عزیز کو خیرباد کہہ دیا، اور یہ کہ 2014 کے بعد اس میں نمایاں طور پر اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب کوئی بھی شخص خوشی سے اپنا وطن چھوڑنا نہیں چاہتا توآخرہندوستانی شہری اپنے وطن کی شہریت کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ اس کے مختلف وجوہ ہوسکتے ہیں جن میں دوسرے ملکوں میں امن و سلامتی کا بہتر ماحول ، نوکری اورملازمت کے زیادہ مواقع ،وہاں بہتر سہولیات کی فراہمی ،زندگی کا معیار بلند ہونا۔ بہتر تعلیم اور اس میں اچھی کارکردگی ،ملازمت کیلئے ماحول اور تنخواہ کا اچھا ہونا، تعلیم کے بعد نوکری کے زیادہ مواقع وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح شہریت چھوڑنے کے پیچھے یہاں امن عامہ کی بگڑتی صورت حال، بڑھتی مہنگائی، تعلیم اور روزگار کے مواقع کی کمی، پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں69ویں مقام پر ہونا اور اس کی وجہ سے مختلف ممالک کے سفر میں کئی قسم کی دشواریاں، سیاسی، سماجی اور اقتصادی ماحول کا اچھا نہ ہونا، جرائم میں تیزی سے اضافہ ہونا وغیرہ وغیرہ بھی ہوسکتا ہے۔
جو بھی وجوہات ہوں حکومت کو وطن سے شہریوں کی دلچسپی کم ہونے پر سنجیدگی سے غور وفکر کرنا چاہیے، خاص طور پرپچھلے 22 سال سے اسرائیل میں مقیم سینئر صحافی ہریندر مشرکی اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ ” میں انڈیا سے جذباتی طور پر اتنا جڑا ہوں کہ وہاں کی شہریت چھوڑنا نہیں چاہتا، لیکن اس کے علاوہ مجھے وہاں کی شہریت سے اور کوئی فائدہ نہیں“، اسی طرح شہریوں کو بھی جلدی بازی میں شہریت چھوڑنے کے بجائے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس پس منظرمیں حکومت کو اپنے ان دعوؤں کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ این ڈی اے حکومت میں بھارت دنیا میں سب سے تیز رفتاری سے ترقی کرنے والا ملک بن گیا ہے، اس نے نہ صرف میکرو اقتصادی بنیادوں کو مضبوط کیا، بلکہ معیشت کو زیادہ تیز ی سے ترقی کر نے والی راہ پر گا مزن کیا ہے، بھارت کی جی۔ ڈی۔ پی کی شرح دنیا کی بڑی معیشتوں میں سب سے تیز تر شرحِ ترقی ہے اور یہ کہ اب بھارت کو برکس کے ترقی کے انجن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، یہاں کے زر مبادلہ کے ذخائر میں اس قدر اضافہ ہوا ہے جو کسی بھی عالمی بحران کی صورت میں یہاں کے تحفظ کیلئے کافی ہے۔مذکورہ بالا دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟کہ اس کے باوجود وطن کی شہریت چھوڑ نے کےلئے اس قدر بھگدڑ مچی ہوئی ہے حالانکہ ہر انسان کو اپنے وطن سے طبعی اور فطری محبت ہوتی ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    مارچ 25, 2026
    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    مارچ 25, 2026
    الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو  یقینی بنانے کے لیے بین ریاستی کوآرڈی نیشن کوتیز کیا

    الیکشن کمیشن آف انڈیا نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے بین ریاستی کوآرڈی نیشن کوتیز کیا

    مارچ 25, 2026
    مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات طویل عرصے تک رہنے  کا خدشہ، ہر صورتحال کے لئے تیار رہنا ہوگا: نریندر مودی

    مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات طویل عرصے تک رہنے کا خدشہ، ہر صورتحال کے لئے تیار رہنا ہوگا: نریندر مودی

    مارچ 25, 2026
    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    امریکہ ایران مذاکرات پاکستان میں

    مارچ 25, 2026
    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    پاکستان کا کردار بھارت کیلئے سفارتی دھچکا: جے رام رمیش

    مارچ 25, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist