نئی دہلی، گزشتہ 10 ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے سبب دہلی وقف بورڈ کی مساجد کے ائمہ کی معاشی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، ذرائع کے مطابق ایک امام کی بیٹی نے جہاں اسلئے خود سوزی کرلی کہ اس کے والد ٹیوشن اور اسکول کی فیس ادا نہیں کر سکے تو وہیں درجن بھر ائمہ کے گھروں میں دو وقت کی روٹی کا انتظام نہیں ہے۔ یہ امام دہلی وقف بورڈ اور کجریوال سرکار سے لگاتار اپنی تنخواہوں کی ادائیگی کی استدعا کر رہے ہیں مگر سرکار دھیان دینے کو تیار نہیں ہے۔ ہر طرف سے مایوس ہوکر مولانا محفوظ الرحمن کی قیادت میں دہلی وقف بورڈ کی مساجد کے ائمہ کا ایک وفد آج شاستری پارک میں واقع جمعیتہ علماءصوبہ دہلی کے دفتر پہنچا اور انہوں نے صدر دہلی مولانا عابد قاسمی سے دہلی وقف بورڈ اور کجریوال سرکار کی نا انصافی کےخلاف آواز بلند کرنے کی درخواست کی ۔ وفد میں مولانا ایوب، مولانا سعید احمد قاسمی، مولانا ابصار، مولانا عرفان، مولانا مشرف علی، مولانا شبیر احمد، مولانا ارشاد، مولانا نزاکت حسین قاسمی اور مولانا عبد اللہ حمید وغیرہ شامل تھے۔ ائمہ نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ امانت اللہ خان کے زمانے میں تنخواہیں کبھی وقت پر نہیں ملی، مدرسہ عالیہ فتحپوری کے عملے کی تنخواہیں اور بیواؤں کے وظیفے بھی روک دیئے، قبر کھودنے والے تک اجرت سے محروم ہیں ہمنے ایک ایک دروازے پر دستک دے دی ہے مگر کوئی بات سننے والا نہیں آخر ہم جائیں تو جائیں کہاں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی وقف بورڈ ائمہ کی تنخواہیں دینے کو تیار نہیں ہے جبکہ امانت اللہ خان سیاسی تشہیر کےلئے لنچنگ متاثرین وغیرہ کو دور دراز کی ریاستوں میں جاکر لاکھوں روپیہ بانٹ آتے ہیں۔ انہوں نے کہا امانت اللہ کی سر براہی میں دہلی وقف بورڈ گھوٹالے کا اڈہ بن کر رہ گیا ہے، بورڈ کے ایک سابق بڑے افسر نے صاف طور پر کہا کہ امانت کی چیئرمین شپ میں موٹے طور پر وقف بورڈ میں 100 کروڑ کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیئرمین امانت اللہ خان ائمہ پر دباؤ بناکر رکھتے ہیں اسی دباؤ کا نتیجہ ہے کہ تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ قبل انہوں نے کئی اماموں سے کورے کاغذ پر دستخط کروا لئے اللہ جانے اس کے پیچھے ان کا کیا مقصد تھا۔ ائمہ نے کہا کہ کجریوال حکومت بی جے پی کے ساتھ ملکر وقف املاک کو ہڑپنے کا کا کام کر رہی ہے حالیہ 127 پرا پارٹی پر دہلی وقف بورڈ اور کجریوال سرکار کی سرد مہری اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ مسلمانوں کو غفلت کی چادر اتار کر وقف املاک اور مساجد و مدارس کے تحفظ کےلئے غاصبوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر جمعیتہ کے صوبائی صدر مولانا عابد قاسمی نے ائمہ وقف بورڈ کی ایک کمیٹی تشکیل دی جو تنخواہوں کی ادائیگی کی بابت ہر سطح پر مضبوطی سے آواز بلند کریگی۔ بعد ازاں انہوں نے10ماہ سے وقف ائمہ کی تنخواہوں کی عدم دستیابی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے دہلی وقف بورڈ اور کجریوال سرکار کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا جلد از جلد وقف بورڈ سے منسلک ائمہ کی تنخواہیں جاری کی جائیں۔ انہوں کہا کہ مزید تاخیر کی صورت میں دہلی جمعیتہ خاص اقدام کے بارے میں غور کر سکتی ہے۔












