دہلی کے ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا نئے شراب قانون میں بدعنوانی کے الزام میں اتوار کے دن گرفتار کر لئے گئے اور اس طرح بی جے پی اور ’آپ‘ کے درمیان چوہے بلی والا کھیل ختم ہوگیا۔منیش سسودیا صرف دہلی کے سی ایم نہیں تھے بلکہ ان کو دیگر اٹھارہ شعبوں کی اضافی ذمہ داری بھی سنبھالنی پڑ رہی تھی۔ستیندر جین کے جیل رسید ہونے کے بعد ان کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔منیش سسودیا روایتی سیاستداں کی طرح قلمدان لے کر بونگ مارنے والے وزیر نہیں ہیں،انہوں نے خود کو دہلی سرکار میں نمبر دو کی پوزیشن کا اہل ہونا ثابت کیا ہے۔خاص طور پر دہلی کے سرکاری اسکولوں کے معیار میں انہوں نے جو تبدیلی کی ہے اسے ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک سنہرا باب کہا جائے گا۔یقینا ان کی گرفتاری سے دہلی کے تعلیمی نظام پر برا اثر پڑے گا اور ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر پٹری سے اتر جائے کیونکہ وزیر اعلیٰ اروند کجریوال کی ذمہ داریاں پہلے سے ہی بہت زیادہ ہیں اور گجرات کی کچھ سیٹیں جیتنے کے بعد جیسے ہی ان کی پارٹی نے قومی پارٹی کی حیثیت حاصل کی ہے اور پارٹی نے پنجاب میں سرکار بنائی ہے ان کی مصروفیات کا دائرہ وسیع ہو چکا ہے۔ایسی حالت میں منیش سسودیا کا جیل رسید ہونا کجریوال کے لئے کوڑھ میں کھاج سے کم نہیں۔اروند کجریوال منیش سسودیا کے بغیر کیسے ان چیلنجز کا مقابلہ کریںگے یہ سوال تو اپنی جگہ ہے ہی کیونکہ منیش سسودیا ان کے غیر سیاسی دور کے ساتھی ہیں اور دونوں ایک دوسرے پر جتنا بھروسہ کرتے ہیں شاید ہی کوئی دوسرا’آپ‘کا لیڈر منیش کی جگہ لے سکے۔اروند کجریوال فی الحال چاروں طرف سے گھرتے نظر آرہے ہیں۔پنجاب میں ان کے لئے مشکلیں بڑھتی جا رہی ہیں ، خاص طور پر وہاں جس شدت پسندی نے سر ابھارا ہے اس پر فوری قابو پانے کی ضرورت ہے اور سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ مرکزی سرکار کا رویہ ’آپ‘ کے تئیں اتنا معاندانہ ہے کہ وہاں سے کسی مدد کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی اور پنجاب کی شدت پسندی کو کنٹرول کرنے کے لئے مرکز کا تعاون از حد ضروری بلکہ ناگزیر ہے۔دہلی کارپوریشن کا معاملہ بھی پوری طرح الجھ گیا ہے۔ کارپوریشن انتخاب میں کامیابی کے باوجود مرکزی سرکار کے نمائندہ لیفٹیننٹ گورنر نے اس سلسلے میں جو اسٹینڈ لیا ہے اس نے کارپوریشن میں اسٹینڈنگ کمیٹی پر’آپ‘کے قبضہ کی امید کو معدوم کر دیا ہے اور ’آپ‘ نے اگر اسٹینڈنگ کمیٹی میں اپنی نمائندگی ثابت نہیں کی تو پھر مئیر اور ڈپٹی مئیر سے بات بننے والی نہیں ہے کیونکہ تمام اہم فیصلوں بشمول معاشی معاملوں میں اسٹینڈنگ کمیٹی کے فیصلے ہی اہم ہوتے ہیںاور بی جے پی یہ کبھی نہیں چاہے گی کہ اروند کجریوال دہلی کے عوام سے کئے گئے اپنے وعدے پورے کریں کیونکہ بی جی پی کا دیرینہ خواب ہے کہ وہ دہلی میں بھی اپنی سرکار بنائے لیکن اروند کجریوال اس کے راستے کی دیوار بن کر کھڑے ہیں۔دہلی اسمبلی انتخاب میں ابھی تک نہ تو مودی کا جادو چل سکا ہے اور نہ امت شاہ کی چانکیہ نیتی ہی کام آ سکی ہے۔کمال تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے انتخاب میں سات کی سات سیٹ جیتنے والی بی جے پی جب اسمبلی انتخاب میں اپنا دعویٰ پیش کرتی ہے تب وہی ووٹر ’آپ‘کے حق میں پول کر دیتے ہیں۔یہ اروند کجریوال کے پروگرام اور پالیسی کا کمال ہے۔لیکن نریندر مودی کےلئے ہتک کا باعث بھی ہے۔اور نریندر مودی انتخاب درانتخاب اس زہر کے گھونٹ کو پینے کے لئے مجبور ہیں۔وہ ایسے سیاستدان بھی نہیں ہیں جو عوام کے فیصلے کو سر جھکا کر قبول کر لیں۔انتقام ان کی رگوں میں خون بن کر دوڑتا ہے اور اس کاشکار تو اروند کجریوال کو ہونا ہی ہے۔کجریوال کو بیک وقت ملک کی دونوں قومی پارٹیوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔منیش سسودیا کی گرفتاری کے بعد بھی کانگریس کا پہلا بیان یہی آیا کہ منیش سسودیا کی گرفتاری میں تاخیر ہوئی انہیں پہلے گرفتار ہو جانا چاہئی تھا ،غالباً گجرات انتخاب سے قبل جہاں کانگریس کے ووٹرس کو ’آپ‘ نے خوب ورغلایا ہے۔کانگریس اور ’آپ‘ کا رشتہ سانپ اور نیولے والا ہے۔کیونکہ وہ تحریک اروند کجریوال نے ہی کھڑی کی تھی جس کی شکار 2014 میں کانگریس ہوئی اور مرکزی اقتدار پر بی جے پی کا قبضہ ہو گیا۔’آپ‘ اور کانگریس کی اس جنگ کا شاخسانہ ہی نریندر مودی ہیں جسے کانگریس بھولنا چاہ کر بھی نہیں بھول سکتی سونے پر سہاگہ یہ کہ ’آپ‘ نے نہ صرف کانگریس کی ریاست دہلی پر قبضہ کر لیا بلکہ پنجاب میں بھی اس کو کراری شکست دی۔یعنی یہ بات کانگریس کی پوری طرح سمجھ میں آ چکی ہے کہ ’آپ‘ کی پوری سیاست اسی کے میدان پر ہو رہی ہے اور اس کے اس ووٹ بینک پر ’آپ‘ ڈاکے ڈال رہی ہے جو نظریاتی بنیاد پر بی جے پی کی طرف نہیں جا سکتی اور کانگریس کا یہ سیاسی تجزیہ غلط بھی نہیں ہے۔لیکن سیاسی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ’آپ‘ کی یہ حکمت عملی بطور ایک سیاسی پارٹی ناجائز قطعی نہیں۔بی جے پی کو بھی اب یہ لگنے لگا ہے کہ ’آپ‘ کو نظر انداز کرنا بی جے پی کے مستقبل کی راہ کو مخدوش بنانا ہے کیونکہ ’آپ‘ نے نہایت سوچ سمجھ کر ابھی تک پارٹی کو بی جے پی کی مذہبی سیاست کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔کیونکہ ’آپ‘ جانتی ہے کہ اس راہ میں بی جے پی اتنی دور نکل چکی ہے کہ اس کاتعاقب فضول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پنجاب کے تازہ ریڈیکل سچویشن کو دم سادھے دیکھ رہی ہے۔اس کی پولیس بھی خاموش ہے اور سیکورٹی ایجنسی بھی۔لیکن اب ایسا لگنے لگا ہے کہ بی جے پی اسے گھیر گھار کر اپنے مذہبی میدان سیاست میں لانے کے لئے پوری طرح مجبور کر دے گی ،خاص طور پر پنجاب میں۔یہ سب وہ موجودہ حقائق ہیں جس کا شکار اروند کجریوال ہو رہے ہیں۔اب دیکھنا ہے کہ ان اوچھے وار کے بعد بی جے پی کب سیدھا وار اروند کجریوال پر کرتی ہے۔کیونکہ ذرائع سے ملنے والی خبروں کے مطابق سی بی آئی اور ای ڈی نے منیش سسودیا کے کیس پر مکمل ہوم ورک کیا ہے اور اندیشہ ہے کہ شراب مافیاؤں کے تعاون سے اس کیس کے آگ کی آنچ اروند کجریوال کے دامن تک بھی پہنچ سکتی ہے۔کھیل بہت گہرا ہے اور اروند کجریوال کو اس کھیل میں بازی بھی مارنی ہے ،لیکن کیسے ؟اس پر بھی بات ہوگی لیکن پہلے منیش سسودیا پر چارج شیٹ داخل ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔












