نئی دہلی، قومی راجدھانی کے پرگتی میدان میں جاری عالمی کتاب میلہ اپنے شباب پرہے۔میلے میں ہندوستان کے مشہور پبلیشروں کے ساتھ ساتھ غیرملکی پبلیشرزبھی بڑی تعدادمیں کتاب دوست افرادکی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔حکومت ہندکی وزارت تعلیم کے ماتحت نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا (این بی ٹی)کی جانب سے ہندوستان کے مشہور مصنفین، نوبیل انعام یافتہ اوردیگربین الاقوامی مصنفین کی تخلیقات سے روبروہونے کےلئے منعقدکئے گئے ’انٹرنیشنل بک فیئر‘ میں موجود پبلیشراورمصنفین اپنی تصانیف کی تشہیراورزیادہ سے زیادہ شائقین تک پہنچنے مختلف پروگرام منعقدکررہے ہیں۔اس دوران آج انٹرنیشنل پویلین میں’ہند و ایران ادبی نشریات‘ پر ایک نشست کا انعقاد کیا گیا جس میںشہیدبہشتی یونیورسٹی(تہران)کے پروفیسر سید مہدی طباطبائی،ایران بک اینڈ لٹریچر ہاؤس کے منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر علی رمضانی اور تہران انٹرنیشنل بک فیئر کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر مرتضی قاضی شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پرایران کے کلچرل کونسلرڈاکٹرمحمدعلی ربانی نے انٹرنیشنل بک فیئرکے منتظمین کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے پروگراموںسے مختلف ممالک کوہندوستان کو پہچاننے اورسمجھنے میںمددملتی ہے۔انہوںنے کہا کہ ہندوستان اورایران کے روابط میں ترجمہ کا بہت اہم رول رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ ایران میںکلچرل آرگنائزیشن کی جانب سے کچھ برس قبل لانچ کئے گئے پروجیکٹ کے تحت تراجم کے کئی بڑے کام کئے گئے ہیں،اسی پروجیکٹ کے تحت اب تک تقریباًً10کتابیںشائع ہوچکی ہیں۔ڈاکٹرربانی نے کہاکہ ہندوستان وہ سماج ہے جہاںپوئٹری کافی مقبول ہے اورجس سماج میںپوئٹری زندہ رہتی ہے اس سماج کی زبان اورتاریخ ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔فارسی زبان پربات کرتے ہوئے ڈاکٹرربانی نے کہاکہ فارسی وہ زبان ہے جس کوہندوستان کی قومی تعلیمی پالیسی 2020میںغیرملکی زبانوںکے زمرے سے ہٹاکرہندوستان کی کلاسیکل زبانوںکے زمرے میںرکھاگیاہے جس کی وجہ سے مثبت تبدیلیاں آئی ہیںجوہندوستان اورایران کے روابط اور فارسی کے تعلق سے ہمیںبہت زیادہ امیدوارکرتی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہندوستان کی بہت سی یونیورسٹیوں میںآج بھی مکمل شعبہ قائم ہے جس میں تقریباً1000طلباءہیںجوفارسی سیکھ رہے ہیں۔اس طرح ہندوستان میںآج بھی فارسی زبان زندہ ہے اوراس کے چاہنے والے اسے فروغ دے رہے ہیں۔
انہنوںنے کہاکہ قومی تعلیمی پالیسی کے تحت فارسی زبان کواسی طریقے سے زندہ رکھاجاسکتاہے اور ہندوستان کے الگ الگ اداروںمیںدوسری یاتیسری متبادل زبان کے طورپرفارسی کانافذکیاجاسکتاہے کیونکہ اس کے پڑھنے والے لوگ موجودہیں۔ہندوستان کی سرکاری باڈی این سی ای آرٹی اورایران کی منسٹرآف ایجوکیشن کے درمیان یہ طئے ہواہے کہ فارسی کاکوئی ایسانصاب ہوجسے ہندوستان کے اسکول اوراداروںمیںمتعارف کرایاجاسکے اوراس میںکچھ اس طرح کی چیزیںہوںجس سے فارسی زیادہ اجنبی زبان نہیںبلکہ مقامی زبان معلوم ہوجسے ہم فروغ دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر ربانی کے علاوہ پروفیسرعلیم اشرف خان، ڈاکٹر علی رمضانی ،ڈاکٹر مرتضی قاضی نے بھی اپنے خیالات کااظہارکیا۔اس موقع پر ایران کلچرہاؤس کی تازہ تصنیف’طوطی‘ کارسم اجراءبھی عمل میں آیا۔












