اروند کجریوال اب ایک شخص سے شخصیت بن چکے ہیں۔نہایت قلیل عرصہ میں انہوں نے ملک نہیں بلکہ دنیا بھر میں جو شہرت حاصل کی ہے وہ محض جملہ بازی سے نہیں بلکہ انتھک جدوجہد سے۔کجریوال نے جب پہلی بار انڈیا اگینسٹ کرپشن کے نعرے کے ساتھ ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کو چیلنج کیا تھا اس وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آنے والے دنوں میں یہ شخص سیاست میں ایک طوفان لانے والا ہے۔لیکن ایسا ہوا اور محض دو سال کی شدید مزاحمت کے بعد کجریوال اور ان کی بالکل نئی عام آدمی پارٹی نے کانگریس اور ان کی تجربہ کار وزیر اعلی شیلا دکشت کو دہلی کی سیاست سے اٹھا کر اتنی دور پھینکا کہ دس برس بعد بھی کانگریس سیدھی کھڑی نہیں ہو پائی ہے۔بالکل عام لوگوں کی کجریوال کی ٹیم نے دہلی کی 70اسمبلی سیٹوں میں سے 67پر اپنی جیت کا پرچم لہرایا اور وزیر اعلی شیلا دکشت سمیت کانگریس کا ایک بھی ایم ایل اے کامیاب نہیں ہو سکا۔وقت گذرتا رہا اور ایک کے بعد دوسری کامیابی حاصل کرتے ہوئے کجریوال نے پنجاب میں بھی سرکار بنا لی اور پھر ’آپ‘ نے قومی پارٹی کا درجہ بھی حاصل کر لیا۔ایسا نہیں ہے کہ یہ سارا وقت ’آپ‘ نے بآسانی گذارا ،اس درمیان اروند کجریوال کے بہت سارے ساتھیوں نے ان کا ساتھ بھی چھوڑا اور باہر نکل کر انہوں نے کجریوال پر بہت سارے الزامات بھی لگائے لیکن پھر بہت سارے لوگوں نے انہیں جوائن بھی کیا اور عوام میں ان کی مقبولیت برقرار رہی۔
لیکن اب 2023 میں جب عاپ کی دو ریاستوں میں حکومت ہے اور دہلی کے کارپوریشن کا مئیر اور ڈپٹی مئیر بھی عاپ کا ہے ،کجریوال سخت امتحان میں ہیں۔انڈیا اگینسٹ کرپشن موومنٹ سے نکلی ’آپ‘ پارٹی کے دو وزیر اور کجریوال کے دوبازو سمجھے جانے والے لیڈر بدعنوانی کے الزام میں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
دہلی سرکار میں سناٹا ہے اور دہلی کے شہری مخمصے میں ہیں کہ یہ سب کیسے ہوا۔دہلی میں یہ سیاسی اتھل پتھل بالکل فلمی انداز میں ہوا ہے۔یہ سوال اب ہر شہری کے سامنے ہے کہ کیا اب ملک میں سیاست کے نئے ایڈیشن کی کوئی گنجائش نہیں ؟کیونکہ ان دس برسوں میں کجریوال اور ان کی ٹیم نے عوامی رابطے کو سیاست سے ہم آہنگ کرنے کی جو کوشش کی ہے اس نے نتائج بھی دئے ہیں اور دہلی کے لوگ اس سیاسی تبدیلی کو قبول کر رہے ہیں۔ان کی زندگی میں تبدیلی آئی ہے۔ان کے بچوں کی تعلیم اور صحت پہلے کے مقابلے بہتر ہوئی ہے۔جدید تعلیم اور ٹکنالوجی سے بھی انہیں ہم آہنگ ہونے کا موقع ملا ہے۔ان کے گھریلو بجٹ پرخاطر خواہ اثر ہوا ہے۔ان کے لئے سہولیات کے نئے نئے در وا ہوئے ہیں۔انہیں بدعنوانی سے بہت حد تک نجات ملی ہے۔نوکرشاہی کے چنگل سے وہ آزاد ہوئے ہیں۔پرائیویٹ اسکولوں کی فیس سے ان کی کمر کو آرام ہے۔ دہلی کے سرکاری اسکولوں کا معیاردیگر ریاستی اسکولوں کے مقابلے بہت بلند ہوا ہے۔محلہ کلینک کی وجہ سے مختلف طرح کی چھوٹی موٹی تکلیفوں کےلئے ان کو ہسپتالوں اور دواخانوں میں لائن نہیں لگانا پڑتا۔تمام طرح کے معالجے اور ٹیسٹ سرکار مفت مہیا کروا رہی ہے۔دہلی ریاست میں چلنے والی تمام بسوں میں خواتین مفت سفر کر رہی ہیں۔
لیکن ان سب کے باوجود کوئی نادیدہ قوت ہے جو اس سرکار کا سایہ دہلی کے شہریوں کے سروں سے چھین لینا چاہتا ہے۔تو کیا کجریوال اس میدان میں شکست کھا جائیںگے؟ کیا کجریوال اپنی شکست کو قبول کر لیںگے؟کیا وہ خواب جو ان کی آنکھوں میں صاف جھلکتا ہے کہ وہ سیاسی کیچڑ میں پھنسے ملک کے شہریوں کو باہر نکالیںگے اب شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا؟
یہ وہ سارے سوالات ہیں جس جواب مستقبل دے گا۔لیکن فی الوقت کجریوال اور ان کی ٹیم پر سخت دباؤہے۔ممکن ہے ایک بار پھر کجریوال کو سڑک پر اترنا پڑے کیونکہ اصل قوت کا منبع تو عوام کا اعتماد ہی ہے۔اور ایسا لگتا نہیں ہے کہ وہ قوت کے اس سرچشمے کو بھول گئے ہیں۔عوامی فلاح کے ان کے پروگرام اور ان کی پالیسیاں تو قدم قدم پر یہی اشارہ دیتی ہیں کہ وہ اتنی آسانی سے شکست کھانے والے شخص نہیں ہیں۔












