صاحب گنج، نہایت ہی فرحت و مسرت و شادمانی کے ساتھ آپ قارئین کو اطلاع دی جارہی ہے کہ مشرقی ہند کا شہرہ آفاق و معروف دینی درسگاہ کلیہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گمانی صاحب گنج جھارکھنڈ میں یکم مارچ سے سال رواں کا سالانہ امتحان نہایت ہی منضبط و خوبصورتی کے ساتھ شروع ہوچکا ہے، واضح رہے کہ حسب سابق تعلیمی مراحل کے سارے درجے روضہ اطفال سے لیکر فضلیت سال آخر تک کے طلبہ کا امتحان تحریری ہو رہا ہے جس میں طلبہ کی تعداد تقریباً پانچ سو سے زائد ہے، امسال بھی امتحان گاہ کیلئے کلیہ کی پرشکوہ وعالیشان جامع کبیر کا انتخاب ہوا ہے۔کلیہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ گمانی صاحب گنج جہاں ایک طرف تدریسی و تربیتی امور میں امتیازی حیثیت کا حامل ہے وہیں ممتاز و غیر ممتاز طلبہ کے مابین تفریق پیدا کرنے ، نیز بالعموم سال بھر اساتذہ کرام کی جدوجہد کے عام نتائج کی تقییم کیلئے امتحانات کو نہایت ہی منظم و مہذب انداز میں کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔حسب سابق سال رواں کے سارے علمی و ثقافتی پروگرام سے فراغت کے بعد ہی بالفور کلیہ کے پرنسپل و مؤ قر استاذ ابو نایف شیخ خیر الاسلام بحر الحق مدنی حفظہ اللہ نے جملہ اساتذہ کرام کی ایک میٹنگ طلب کی جس میں امتحانات سے متعلق ضروری امور پر تبادلہ خیال کرنے کے ساتھ ساتھ امتحان کو معیاری بنانے کےلئے اساتذہ کرام کو تعلیمی سال کے آخر میں مزید جانفشانی کی ہدایت کی اور ہر مادہ سے متعلق استاذ کو منتخب مقرر کے ہر گوشے سے سات سات سوالات لجنہ اختبار کو متعین وقت پر حوالہ کرنے کا مکلف کیا۔ لجنہ اختبار کیلئے کلیہ کے سینئر اساتذہ کرام کی ایک ٹیم کی تشکیل عمل میں آیا۔امتحان کو کامیاب و معیاری بنانے کےلئے امتحانات سے تین ہفتے پہلے ہی سے لجنہ اختبار کے زیر اہتمام نہایت ہی تحقیق و تدقیق کے ساتھ سب سے پہلے سوالات کے انتخاب نیز تصحیح و تنقیح کا عمل شروع ہوا۔ واضح رہے کہ حسب سابق امسال بھی متوسطہ ثانیہ تا فضیلت سال آخر کے سارے سوالات عربی میں ہی بنائے گئے۔ امتحان کو کامیاب بنانے کےلئے ہر روز دوران امتحان تمام اساتذہ کرام کی حاضری کو لازمی قرار دیا گیا۔ واضح رہے کہ امتحانات کا سلسلہ یکم مارچ بروز بدھ سے لیکر چودہ مارچ بروز منگل تک جاری رہے گا۔ پندرہ مارچ بروز بدھ بوقت صبح الوداعی پروگرام و نتائج کا اعلان ہوگا ۔امتحان کو نتیجہ خیز و ثمرہ آور بنانے کےلئے تقریباً ہر دن ایک ہی مادہ کا امتحان ہونا طے پایا ہے، نیز سوالات کے معیار کو ملحوظ رکھتے ہوئے امتحان کے لئے تین گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔اخیر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے طلبہ کو دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائے نیز دین کا سچا داعی بنا، آمین۔












