نئی ہلی کے ڈپٹی سی ایم منیش سسودیا کی گرفتاری کے بعد مسلسل احتجاج جاری ہے۔ گذشتہ روز ’آپ‘کارکنان نے ملک کے مختلف حصوں میں مظاہرہ کیا وہیں اپوزیشن کے لیڈر بھی سسودیا کی حمایت میں ایک ساتھ کھڑے نظر آئے۔ سیاسی گلیاروں کے ساتھ ساتھ اب سسودیا کو دہلی کے تاجروں کی حمایت بھی مل رہی ہے۔ آج سی ٹی آئی نے بھی سسودیا کی گرفتاری پر ناراضگی ظاہر کی۔دہلی کے تاجروں کی اعلیٰ تنظیم چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) کے صدر برجیش گوئل اور صدر سبھاش کھنڈیلوال نے کہا کہ منیش سسودیا کی گرفتاری سے دہلی کے تاجروں میں کافی ناراضگی ہے۔ کشمیری گیٹ، چاندنی چوک، چاوڑی بازار، کھاری باؤ لی، نیا بازار، صدر بازار، قرول باغ، راجوری گارڈن، کملا نگر، کیرتی نگر، نہرو پلیس، لاجپت نگر، ساؤتھ ایکس، لکشمی نگر، روہنی، پتم پورہ ٹریڈرس جیسے تقریباً 100 بازار۔ سی ٹی آئی سے رابطہ کرکے سسودیا کی گرفتاری پر ناراضگی ظاہر کی ہے۔برجیش گوئل نے کہا کہ دہلی حکومت کا بجٹ مارچ میں آنے والا ہے، وزیر خزانہ منیش سسودیا بجٹ کی تیاری میں مصروف تھے۔ وہ دہلی کے تاجروں سے ملاقات کر کے اس تجویز کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، ماضی میں انہوں نے کئی مارکیٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ بھی کی تھی۔ ان کی آئندہ چند روز میں کئی مارکیٹ ایسوسی ایشنوںکے ساتھ میٹنگ ہونی تھی، اب ان کی گرفتاری سے بجٹ کا کام متاثر ہو سکتا ہے۔خاص کر تاجر طبقہ کی نمائندگی سمیت ان کی مفاد پر اثر پڑے گا۔بہت سے تاجروں نے اپنے بازار کے مسائل اور مانگ کو نوٹ کیا تھا، انہیں منیش سسودیا کے ساتھ شیئر کرنا تھاا۔ دہلی کے تاجروں اور منیش سسودیا کے درمیان باہمی بات چیت جاری تھی۔ ہر سال بجٹ سے پہلے نائب وزیر اعلیٰ تاجروں سے مشاورت کرتے تھے۔ مارکیٹوں کی ترقی اور تاجروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اہم فیصلے کرتے تھے۔ مالی سال اپریل سے شروع ہوگا، اس لیے بجٹ مارچ میں ہی پیش کیا جائے گا۔تاجر طبقہ کا کہنا ہے کہ ،نئے وزیر کے بجٹ پیش کرنے سے پریشانی بڑھے گی۔چیمبر آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (سی ٹی آئی) کا کہنا ہے کہ اب اگر کوئی نیا وزیر بجٹ پیش کرتا ہے تو اس کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ کارپوریشن میں حکومت بننے کے بعد دہلی حکومت کو امید تھی کہ اب بازاروں میں ترقیاتی کام تیزی سے ہوں گے۔ لیکن سسودیا کی گرفتاری کے بعد تاجروں کو خدشہ ہے کہ روزگار کا بجٹ، اسٹارٹ اپ پالیسی، فوڈ ٹرک پالیسی، بازاروں کی دوبارہ ترقی، فوڈ ہب، کلاؤ ڈ کچن پالیسی، الیکٹرانک سٹی، دہلی مارکیٹ پورٹل، غیر موافق صنعتی ترقی۔ سیکٹر وغیرہ کے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں۔












