تین شمال مشرقی ریاستوں کے انتخابی نتائج بہت حد تک بی جے پی کے حق میں آنے سے اس کا حوصلہ بہت بلند ہے اور حسب روایت اس کاسہرا مودی جی کی جادوئی شخصیت کے سر ہی باندھا جا رہا ہے ۔لیکن اس بات پر کوئی بات نہیں ہو رہی کہ لاکھ کوششوں اور بیانات کے باوجود کہ کانگریس کا وجود ہی نہیں رہا ہر انتخاب میں بی جے پی لڑنا اسی سے پڑتا ہے ۔یقینا ان تینوں ریاستوں میں کانگریس نے توقع کے خلاف ریزلٹ دیا لیکن بی جے پی نے سویپ بھی نہیں کیا ہے ۔شمال مشرقی ریاستوں کی زمینی سچائی یہ ہے کہ ان ریاستوں کے استحکام کا تعلق مرکزی حکومت سے ہی رہتا ہے ۔نارتھ ایسٹ کے لئے مخصوص فنڈ بھی بطور پیکیج مرکز کے ذریعہ ہی وہاں پہنچتا ہے لہذا وہاں کے شہری ریاستی سرکاروں سے زیادہ مرکزی سرکار کو ہی اپنا ان داتا سمجھتے ہیں ،چاہے پارٹی کوئی بھی ہو ۔لیکن ان حقائق کے باوجود گودی میڈیا کو ایک اچھا سا موضوع مل گیا ہے اور وہ اسے ڈھول سمجھ کر پیٹتے رہینگے اور اس شور میں انہیں نہ تو ضمنی انتخاب میں کانگریس کی جیت نظر آئیگی اور نہ ہی الیکشن کمیشن پر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ ۔ایک ایسا تاریخی فیصلہ جس نے مودی حکومت کی نیند حرام کر دی ہے ۔الکشن کمشنر اور چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لئے تین رکنی کمیٹی کا قیام جس کمیٹی میں وزیر اعظم کے ساتھ حزب اختلاف کی سب سے بڑی پارٹی کا لیڈر اور خود چیف جسٹس بھی ہوگا مودی جی کی پیشانی پر بل ڈالنے کے لئے کافی ہے ۔یعنی سپریم کورٹ نے مودی جی کو یہ بھی باور کرادیاہے کہ آپ تسلیم کریں یا نہیں ،آپ کی تمام کوششوں اور سازشوں کے باوجود ملک سے حزب اختلاف کا خاتمہ نہیں ہوا ہے اور کانگریس بھی ابھی موجود ہے ۔عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ مودی سرکار کو کھلا انتباہ ہے کہ اداروں کو قبضہ میں لے کر اپنے حق میں فیصلہ کروانا آپ کی فطرت بن چکا ہے اور سپریم کورٹ یہ سب دیکھ رہی ہے ۔گجرات الکشن کی تاریخ کو لے کر بھی الکشن کمیشن پر انگلیاں اٹھیی تھیں اور پھر ایک وی آر ایس لینے والے آفیسر کو کس طرح آنا فانا الکشن کمشنر بنایا گیا تھا عدالت عالیہ نے ان سب کے مد نظر ہی یہ فیصلہ لیا ہے کہ الکشن کمیشن کی شفاف شبیہ کو برقرار رکھنے کے لئے اس کی تقرری کو صرف سرکار کے بھروسے نہیں چھوڑا جا سکتا ۔
حالانکہ موجودہ سرکار نے تو تمام سرکاری اداروں کے علاوہ خود مختار ایجنسیوں کو بھی اپنی پارٹی کا ٹول بنا دیا ہے اور ان ایجنسیوں کاسب سے اہم کام اب حزب اختلاف کے خلاف ثبوت اکٹھا کر کے انہیں بی جے پی کے حق میں بلیک میل کرنا رہ گیا ہے ۔پورے ملک میں اس کا خوف ہے اور یہی وجہ ہے کہ بی جے پی الکٹورل بانڈ سے وصولا جانے والا پیسہ پانی کی طرح انتخابی مہم میں بہاتی ہے یا پھر انتخاب میں ناکام ہونے کے بعد حزب اختلاف کے کامیاب ممبران کو خرید کر سرکار بنانے میں ۔ عدالت عالیہ کی نظر یقینا اس جانب بھی ہوگی اور عین ممکن ہے کہ مہاراشٹر میں اودھو ٹھاکرے کے کیس کے فیصلہ کرتے وقت عدالت کی نظر اس جانب بھی چلی جائے کہ آخر شندے نے اچھی خاصی چل رہی سرکار کو ڈس بیلینس کیوں کیا ؟کانگریس اور این سی پی سے گٹھ بندھن اگر شندے گروپ نہیں چاہتا تھا تو اسی وقت اس گروپ کو مخالفت کرنی چاہئے تھی ۔وى موقعہ اس لئے بھی مناسب تھا کہ اس وقت گورنر مہاراشٹرا بھی ہر قیمت پر کانگریس اور این سی پی کو اقتدار سے دور رکھنا چاہتے تھے ۔وہ شندے اور ان کے ساتھی ممبران اسمبلی کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ۔لیکن ایسا کچھ نہ کر کے شندے گروپ نے جس طرح اپنے گروہ کو لے کر گجرات اور آسام کے چکر لگارے رہے ۔دعوتیں اڑاتے رہے آخر اس کے پیچھے کروڑوں روپئے خرچ کرنے والا کون تھا ؟اس کاپتہ ہنوز نہیں چل سکا ہے ۔اور وہپ جو ایک آئینی طریقہ کار اور کسی بھی سیاسی پارٹی کے ہاتھوں میں اپنے ممبران کو گورن کرنے کا ایک آئینی ہتھیار بھی ہے، اس کی شنوائی کے دوران عدالت عالیہ نے اگر اس پر بھی غور کر لیا تو سرکار کو مزید زور کا جھٹکا لگ سکتا ہے کیونکہ یہ سب کیوں اور کیسے ہوا ہے ،اس کابلیو پرنٹ کس نے بنایا ہے اس سے مرکزی سرکار بھی پوری طرح وقف پے اور ٹول کی موجد بھی وہ خود ہی ہے ۔
عدالت عالیہ کو اچھ طرح معلوم ہے کہ انتخابی سسٹم میں اداروں اور ایجنسیوں کے استعمال سے جمہوری طرز حکومت کی جڑیں کھودی جا رہی ہیں اور فی الوقت ملل میں الکٹورل سسٹم عالم نزع میں ہے اور اسے آکسیجن صرف سپریم کورٹ ہی فراہم کر سکتی ہے ورنہ اس کا جانبر ہونا ناممکنات میں سے ہے۔












