بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سپریمو ممتا بنرجی نے جمعرات کو 2024 کے انتخابات کے لیے بی جے پی کے خلاف اپوزیشن اتحاد کی مشق کو بڑا دھچکا دیا۔ممتا بنرجی نے اپنے بیان میں کہا کہ 2024 کے عام انتخاب میں ترنمول کانگریس اکیلے لڑے گی۔اس طرح انہوں نے بھی مایا وتی کی طرح خود کو کسی بھی اتحاد سے الگ کر لیا۔ حالانکہ بی ایس پی سپریمو نے ابھی تک ایسا کوئی اعلان تو نہیں کیا ہے لیکن سمجھا یہی جا رہا ہے کہ وہ بی جے پی کے خلاف کسی محاذ میں شامل نہیں ہونگی۔ممتا بنرجی نے اپنے بیان میں یہ ضرور کہا ہے کہ جو بھی بی جے پی کو شکست دینا چاہے گا وہ ٹی ایم سی کو ووٹ دے گا۔ لیکن ان کا یہ فارمولا کس حد تک کامیاب ہوگا اس پر باتیں شروع ہو چکی ہیں۔اگر ممتا بنرجی یہ سمجھتی ہیں کہ اسمبلی انتخاب کی طرح انہیں بی جے پی مخالف ووٹ کا پورا لاٹ مل جائیگا تو یہ ان کی خوش فہمی ہوگی۔انہیں یہ اندازہ ہی نہیں کہ مغربی بنگال میں اب مسلمانوں کا ووٹ صرف انہیں نہیں ملنے والا ساگردیگھی اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں بائیں بازو کے حمایت یافتہ کانگریس امیدوار کے ہاتھوں ترنمول امیدوار کی کراری شکست اس کی ایک مثال ہے۔جہاں مسلمانوں نے متحد ہو کر بی جے پی کے خلاف کانگریس کو ووٹ دیا ہے۔حالانکہ انہوں نے اس کا جواز یہ ڈھونڈا ہے کہ ساگر دیگھی میں بی جے پی کا ووٹ بھی کانگریس کی طرف ٹرانسفر کرایا گیا ہے تاکہ ترنمول کو شکست دیا جاسکے۔لیکن یہ تھوتھی دلیل ہے اور بعید از قیاس بھی یہ جواز کسی بھی شخص کے حلق سے اترنے والی نہیں ہے۔ملک کا ہر شہری جانتا ہے کہ لیفٹ فرنٹ ہو یا کانگریس یہ کسی بھی قیمت پر بی جے پی سے ہاتھ ملانے والی پارٹی نہیں ہے۔حالانکہ ممتا بنرجی زمینی جنگ جیت کر سیاست کی بلندی پر پہنچی ہیں لیکن ان کے اندر خود احتسابی کی صفت مفقود ہے۔وہ یہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ بنگال میں مسلمان ووٹر چالیس فیصد کے قریب ہے۔اور گذشتہ اسمبلی انتخاب میں ان سب نے متحد ہو کر ترنمول کے حق میں ووٹ دیا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایسا نہ کرنے سے بنگال میں بی جے پی کی حکومت کا بننا طے ہے۔لیکن عام انتخاب میں ایسا ہونا ناممکن ہے۔ اس انتخاب میں ممتا بنرجی کے مقابلے لیفٹ اور کانگریس کا اتحاد ہوگا۔ صرف بی جے پی نہیں۔بنگال کے سیکولر ووٹر جو بی جے پی مخالف ہیں ان کے سامنے یہ اتحاد زیادہ کارگر ثابت ہوگا کیونکہ قومی سطح پر وہی اتحاد بی جے پی کو چیلنج دے رہا ہوگا۔ممتا بنرجی اگر اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ بنگال کے مسلم ووٹر آج بھی ممتا بنرجی کے ساتھ منسلک ہیں تو یہ ان کی بھول ہے اور عام انتخاب کے نتائج سے ان کو اس کا اندازہ ہو جائیگا لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوگی۔ممتا بنرجی ایک تجربہ کار سیاستداں ہونے کے باوجود ملک کے موجودہ سیاسی ماحول کو سمجھ نہیں پا رہی ہیں۔انہیں اندازہ ہونا چاہئے کہ مودی اینڈ کمپنی کی کامیابی کا رتھ کٹر ہندو وادی سڑک پر فراٹے بھر رہا ہے اور اسے مہنگائی اور بیروزگاری کے اسپیڈ بریکر سے نہیں روکا جا سکتا۔مودی کے ووٹر اسے اپنا بھگوان سمجھ بیٹھے ہیں،وہ اسے دیوتا سمجھتے ہیں جو ان کے گھروں میں راشن پہنچا رہا ہے۔نارتھ ایسٹ میں بھی وہی جادو چلا ہے۔مودی حکومت نے وہاں بھی بنیادی سہولیات کی جگہ خیرات بانٹنے کا کام کیا ہے۔وہ غریبوں کو مزید غریب کر کے انہیں مراعات دینے کی سیاست کر رہے ہیں اور یہ سیاست چل پڑی ہے۔بات صرف ہندو ازم کی نہیں ہے ورنہ ان دنوم امبیڈکر وادی جس سرگرمی سے ایس سی ایس ٹی اور او بی سی سمیت قبائلی طبقے کے درمیان ہندو ازم کی تنقید کرنے کی مہم چلا رہے ہیں بی جے پی کو اس طبقے کا کوئی ایک ووٹ بھی نہیں مل سکتا تھا۔لیکن ہر انتخاب میں اس کے الٹ ہو رہا ہے۔اور اس کا مطلب ہے کہ خط غربت کے نیچے زندگی گذارنے والے لوگوں کی محرومی اور مایوسی نے انہیں مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں دو مٹھی اناج پہنچانے والوں کو ہی اپنا مسیحا سمجھنے لگیں۔ممتا بنرجی سمیت تمام حزب اختلاف کے لیڈروں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ بھوک اور غربت جب شدت اختیار کرتی ہے اس وقت سارے بڑے بڑے فلسفے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ رام راجیہ کی خوش خبری سنانے والوں کو ہندوؤں کا دلت طبقہ بھی ووٹ دے گا۔جبکہ وہ جان رہے ہیں کہ آج جمہوری طرز حکومت میں ،آئین و قانون کی موجودگی میں بھی ان کے ساتھ نام نہاد بڑے ذات کے لوگ کیا کر رہے ہیں۔ انہیں مندروں تک میں جانے کی اجازت آج بھی نہیں ہے ،وہ شادیوں میں بھی گھوڑوں پر نہیں بیٹھ سکتے۔آئے دن ان پر ظلم و جور ہوتا رہتا ہے لیکن پیٹ کی آگ نے انہیں مجبور کر رکھا ہے کہ وہ ایسی پارٹی کو ہی ووٹ دیںاور آر ایس اور بی جے پی نے ان کی مجبوری کو سمجھ لیا ہے۔ممکن ہے میگھالیہ میں پانچ نشستوں پر ترنمول کی کامیابی نے ممتا بنرجی کے حوصلوں کو بہت بلند کر دیا ہو لیکن انہیں یہ بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ساگر دیگھی میں انکے ہی گھر میں ،ان کے برسر اقتدار رہتے ہوئے کانگریس اور لیفٹ فرنٹ نے انہیں شکست دی ہے۔












