لفظ شب فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں رات اور برآت عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں آزادی ،” اس رات کو شبِ برآت اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس رات میں اللہ تعالیٰ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کو جہنم سے نجات دیتا ہے“۔
شبِ برآت کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی ہیں ، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماءنے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے ، لیکن حضرات محدثین اور فقہاءکا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تائید بہت سی احادیث سے ہو جائے تو اس کی کمزوری دور ہو جاتی ہے ، اور جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام سے اس کی فضیلت میں روایات موجود ہیں ، لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے۔
شب برآت میں عبادت :
امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور ، تبع تابعین کا دور ، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے ، لوگ اس رات میں عبادت کا خصوصی اہتمام کرتے رہے ہیں ، لہٰذا اس کو بدعت کہنا ، یا بے بنیاد اور بے اصل کہنا درست نہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ یہ فضیلت والی رات ہے ، اس رات میں عبادت کرنا باعثِ اجر و ثواب ہے اور اسکی خصوصی اہمیت ہے۔
عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں :
البتہ یہ بات درست ہے کہ اس رات میں عبادت کا کوئی خاص طریقہ مقرر نہیں کہ فلاں طریقے سے عبادت کی جائے ، جیسے بعض لوگوں نے اپنی طرف سے ایک طریقہ گھڑ کر یہ کہہ دیا کہ شبِ برآت میں اس خاص طریقے سے نماز پڑھی جاتی ہے ، مثلاً پہلی رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے ، دوسری رکعت میں فلاں سورت اتنی مرتبہ پڑھی جائے وغیرہ وغیرہ ، اس کا کوئی ثبوت نہیں ، یہ بالکل بے بنیاد بات ہے ، بلکہ نفلی عبادت جس قدر ہو سکے وہ اس رات میں انجام دی جائے ، نفل نماز پڑھیں ، قرآن کریم کی تلاوت کریں ، ذکر کریں ، تسبیح پڑھیں ، دعائیں کریں ، یہ ساری عبادتیں اس رات میں کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی خاص طریقہ ثابت نہیں۔
شب برآت اور حلوہ :
ویسے تو سارے سال میں کسی دن بھی حلوہ پکانا جائز اور حلال ہے ، جس کا جب دل چاہے پکا کر کھا لے ، لیکن خاص شب برآت میں حلوہ بنانے کا اس قدر اہتمام کرنا درست نہیں بلکہ بدعت ہے ، نہ ہی قرآن ، حدیث ، آثار صحابہ ، تابعین اور بزرگان دین کے عمل میں اس کا کہیں کوئی تذکرہ ہے ، لہٰذا ان فضولیات اور بدعات سے بچنا چاہیے۔
ملکی معیشت اور آتش بازی :
اگر کوئی آدمی دس روپے کا ایک نوٹ جیب سے نکال کر آگ میں جلائے اور اس پر خوش بھی ہو تو لوگ سمجھیں گے کہ اس کے دماغ کو کچھ ہوگیا ہے ، یہ عوامی رد عمل ہے کہ دس روپے کا نوٹ جلانے والا ان کی نظروں میں پاگل ٹھہرا ، اور جو ہزاروں روپے آتش بازی کی نظر کردے یا محض چند لمحات کے لئے اپنی اندرونی تخریب کو تسکین پہنچانے کے لئے نوٹوں کی آگ جلا جلا کر تماشہ دیکھے اسے کیا کہا جائے؟ کیا مال و زر کو آگ لگا کر اپنی بربادی کا تماشہ دیکھنا اس قوم کو زیب دیتا ہے ، جو ملک قرضوں میں جکڑا ہوا ہو جس ملک کی صورت حال بدتر ہو ، جس کے بیشتر افراد رات کو بھوکے سو رہے ہوں اور جسے غیر مسلم قوتیں مٹانے کے لئے یکجا ہوگئی ہوں پھر اس آتش بازی سے اڑنے والی چنگاریوں سے بسا اوقات ملکی کارخانے جل کر خاکستر ہو جاتے ہیں ، اس آتش بازی سے کسی کے گھر کوآگ لگ گئی تو کسی کا دامن جل گیا ، مگر پھر بھی قوم مسلم کے عقل و دانش والے لوگ اپنے سرمایہ کو آگ لگا کر اس کے شعاعوں سے اپنے ہی ملک کو جلا رہے ہیں۔
شبِ برآت میں قبرستان جانا :
اس رات میں ایک اور عمل ہے جو ایک روایت سے ثابت ہے وہ یہ ہے کہ حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم جنت البقیع میں تشریف لے گئے ، اب چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس رات میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اس لئے مسلمان اس بات کا اہتمام کرنے لگے کہ شبِ برآت میں قبرستان جائیں ، لیکن حضرت مفتی محمد شفیع صاحب قدس اللہ سرہ ایک بڑی کام کی بات بیان فرمایا کرتے تھے ، جو ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے ، فرماتے تھے کہ جو چیز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جس درجہ میں ثابت ہو اسی درجے میں اسے رکھنا چاہیے ، اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے ، لہٰذا ساری حیاتِ طیبہ میں رسول کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ جانا مروی ہے کہ آپ شبِ برآت میں جنت البقیع تشریف لے گئے ، چونکہ ایک مرتبہ جانا مروی ہے اس لئے تم بھی اگر زندگی میں ایک مرتبہ چلے جاؤ تو ٹھیک ہے ، لیکن ہر شب برآت میں جانے کا اہتمام کرنا ، التزام کرنا ، اور اس کو ضروری سمجھنا اور اس کو شب برآت کے ارکان میں داخل کرنا اور اس کو شب برآت کا لازمی حصہ سمجھنا اور اس کے بغیر یہ سمجھنا کہ شب برآت نہیں ہوئی ، یہ اس کو اس کے درجے سے آگے بڑھانے والی بات ہے۔
15 شعبان کا روزہ :
ایک مسئلہ شب برآت کے بعد والے دن یعنی پندرہ شعبان کے روزے کا ہے ، اس کو بھی سمجھ لینا چاہیے ، وہ یہ کہ سارے ذخیرہ حدیث میں اس روزہ کے بارے میں صرف ایک روایت میں ہے کہ شب برآت کے بعد والے دن روزہ رکھو لیکن یہ روایت ضعیف ہے لہٰذا اس روایت کی وجہ سے خاص پندرہ شعبان کے روزے کو سنت یا مستحب قرار دینا بعض علماءکے نزدیک درست نہیں البتہ پورے شعبان کے مہینے میں روزہ رکھنے کی فضیلت ثابت ہے ، لیکن 28 اور 29 شعبان کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے کہ رمضان سے ایک دو روز پہلے روزہ مت رکھو ، تاکہ رمضان کے روزوں کے لئے انسان نشاط کے ساتھ تیا ر رہے۔اللہ تعالیٰ پوری امت کو صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ، اور بدعات و خرافات سے حفاظت فرما کر اتباعِ سنت کے جذبے سے مالامال فرمائے۔ آمین یا رب العالمین












