نئی دہلی :ذرائع سے ملی خبروں کے مطابق اب پارلیامنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں شریک پارلیامنٹ کے پہلے سے مقرر مستقل بیس آفیسر کے علاوہ بھی آٹھ لوگ ہونگے جو لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے صدر کی جانب سے مقرر کئے گئے ہیں اور یہ راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے صدر کے خاص اسٹاف ہیں ۔واضح ہو کہ پارلیامنٹ میں جو 21اسٹینڈنگ کمیٹی ہے اور جہاں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ذریعہ بنائے جانے والے قوانین کو آخری شکل دی جاتی ہے ۔اور اس کمیٹی میں تمام پارٹیوں کے چنندہ ممبر آف پارلیامنٹ کی موجودگی ہوتی ہے ۔وہاں ان قوانین کے تمام پہلوؤں پر مباحثے بھی ہوتے ہیں اور آئین ہند کی روشنی میں انہیں حتمی شکل دی جاتی ہے ۔ان کمیٹیوں کے کام کو دیکھنے کے لئے وہاں پارلیامنٹ کے بیس مستقل آفیسر پہلے سے تعینات ہوتے ہیں جو تجربہ کار اور آئین و قوانین کے ایکسپرٹ بھی ہوتے ہیں اور ان کا تعلق کسی پارٹی سے نہیں بلکہ سرکار سے ہوتا ہے ۔ایسے میں ان قابل آفیسرز کی موجودگی کے باوجود نائب صدر جگدیپ دھنکڑ کو آخر کیا ضرورت پڑی کہ وہ ان آفیسروں کے علاوہ 8 ایسے پرسنل اسٹاف کو بھی شامل کریں جو باضابطہ تمام اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی مخصوص میٹنگوں میں بھی شامل ہونگے جو میٹنگ نہایت حساس قسم کی ہوتی ہے اور جہاں عام ممبران پارلیامنٹ چاہے وہ لوک سبھا کے ہوں یا راجیہ سبھا کے جانے کی پابندی ہو ۔یہ خبر اپنے آپ میں چونکانے والی بھی ہے کہ موجودہ بی جے پی کی سرکار ایک ایک کر کے آئینی اداروں میں اپنے مخصوص اسٹاف کو کیوں متعین کرنا چاہتی ہے ۔اور کیوں تمام روایتوں کو توڑتی چلی جا رہی ہے ۔ایک طرف اب پارلیامنٹ میں صحافیوں کے جانے پر غیر تحریری پابندی لگا دی گئی ہے ۔جس کا آغاز کورونا وبا کے زمانے میں ہوا تھا اور ابھی تک اس پابندی کو پوری طرح ختم نہیں کیا گیا ہے ۔حکومت نے نہایت شاطرانہ انداز میں ایک رپورٹر کو ہفتہ کے ایک دن ہی کوریج کی اجازت دے کر اپنا ارادہ ظاہر کر دیا ہے ۔اور پھر ان پر اتنے پروٹوکول عائد کر دئےبگئے ہیں کہ پارلیامنٹ کی کارروائی کا کوریج اب دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہو چکا ہے ۔ بھارت کے پارلیامنٹ میں کوریج پر عائد ان پابندیوں کو آئین کے چوتھے ستون پر حملہ نہ سمجھا جائے تو پھر اسے کیا کہینگے ۔












