تعلیم سے اسلام کا گہرا تعلق ہے۔ تعلیم کو اسلام سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلی وحی تعلیم سے متعلق ہی نازل ہوئی۔ تعلیم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہرجگہ فوقیت دی۔بعض مشرک قیدیوں کو آپ نے اس شرط پربلا فدیہ لئے چھوڑ دیا کہ ان میں کا ہر ایک دس دس مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھائے گا۔تعلیم کے فروغ کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں باضابطہ ایک چبوترہ خاص کیا، جس کو آج بھی’’ صفہ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔قرآن وحدیث میں علم اور علماء کی بڑی قدر ومنزلت بیان کی گئی ہے۔ علماء کو جہلاء پر فوقیت دی گئی ہے۔ دنیا کے تمام عقلمندوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اچھی تعلیم اچھی تہذیب کا ضامن ہے۔ پڑھے لکھے انسانوں کو ترقی اور کامیابی کے مواقع زیادہ ملتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ہر زمانے میں لوگوں نے پڑھنے کا التزام کیا۔ اسکول اور کالج تعمیر کئے۔ اساتذہ اور مدرسین منتخب کئے جاتے رہے۔ اس زمانے میں تو پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ہر ملک اپنی استطاعت کے مطابق تعلیم کے فروغ کے لئے جتن کررہا ہے۔ ملک کی آمدنی کا بڑا حصہ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے، تاکہ باشندوں کو تعلیم یافتہ بنایا جاسکے۔
اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور کامیاب لوگ یورپ اور امریکہ کے سمجھے جاتے ہیں۔ ترقی بھی ان کے یہاں زیادہ ہے۔ نئی ایجادات کے معاملے میں وہ دیگر براعظموں سے کہیں آگے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں یہ ساری چیزیں اس لئے ہیں کہ تعلیم کا گراف ان کے یہاں زیادہ ہے۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم پر زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اسکول اور کالج کا اچھا نظم ان کے یہاں موجود ہے۔اگر ہم لوگ بھی تعلیم کو وہ اہمیت دیں جو اہل مغرب کے یہاں ہے تو ہمارے یہاں بھی تعلیمی انقلاب پیدا ہوسکتا ہے۔ ہم بھی ترقیاتی امور میں یورپ،امریکہ، چین اور روس کی برابری کرسکتے ہیں۔
خوش آئند بات ہے کہ خلیجی ملکوں میں تعلیم کے معاملے غیر معمولی بیداری آئی ہے۔خاص طور سے سعودی عرب نے تعلیم کو دیگر شعبہ حیاب پر ترجیح دی ہے۔ ملک کے بجٹ کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے فروغ پر خرچ کیا جاتا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں میں سعودی عرب نے تعلیم کو مستحکم بنانے میں جو محنت اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل ستائش ہونے کے ساتھ ساتھ دیگر ملکوں کے لئے بہترین مثال بھی ہے۔اس وقت پورے سعودی عرب میں تقریبا 30حکومتی اور 15 غیر حکومتی یونیورسٹیاں،مختلف ضلعوں میں33500 اسکولز اس کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں کالجز اور تعلیمی انسٹی ٹیوٹس ہیں۔ سعودی عرب کے تعلیمی نظام کے مطابق بچے تین سال سے لیکر پانچ سال تک بنیادی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ساڑھے پانچ سال میں وہ پہلی کلاس کے لائق ہوجاتے ہیں۔تعلیمی سالوں کا اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو سعودی عرب میں ابتدائی درجات کے لئے چھ سال،متوسطہ کے لئے تین سال، ثانویہ کے لئے تین سال، کالج کے لئے چار سال، اس کے بعد ماسٹر اور پی ایچ ڈی کے سنوات ہوتے ہیں۔ سعودی عرب کا ایسا ٹھوس تعلیمی نصاب ہے کہ اگر کوئی طالب علم محنت سے اس نصاب کو پڑھ لیتاہے تو اس کے لئے سرکاری نوکری یقینی سمجھی جاتی ہے۔ سرکاری نوکری اگر نہ بھی مل سکے تو ایسی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ دنیا کے کسی گوشہ میں وہ روزی روٹی بہ آسانی حاصل کرسکتا ہے۔
سعودی عرب کا یہ مستحسن عمل ہے کہ وہ ابتدائی سے لے کر کالج تک کی تعلیم ہر بچے کو فری دیتا ہے۔ کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ کتابیں بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ کالج میں جانے کے بعد اسکالرشب بھی دیا جاتا ہے۔ سعودی عرب یہ اسکالرشب صرف سعودی نزاد بچے ہی کو نہیں دیتا بلکہ باہر سے سعودی عرب پڑھنے آنے والے طلبہ وطالبات کو بھی دیتا ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں سعودی عرب میں ایسے اسٹوڈنٹس ہیں جو بیرون ممالک کے ہیں۔ صرف ہندوستان کے طلبہ ہزاروں میں ہوں گے جو وہاں مفت تعلیم پاتے اور اپنے وطن کی خدمت کرتے ہیں۔سعودی عرب میں نابینا اور عمر رسیدہ لوگوں کے پڑھنے کا بھی معقول انتظام ہے۔ معذور لوگوں کی تعلیم کے لئے حکومت مستقل انتظام کرتی ہے۔ ان کے کھانے پینے سے لیکر رہنے سہنے کا انتظام اچھے انداز میں کیا جاتا ہے۔ جدید آلات فراہم کرائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان کی بدولت ٹھیک سے تعلیم حاصل کرسکیں۔ان کے نصاب کی کتابیں بھی ایسے رسم الخط میں شائع کی جاتی ہیں جن کے ذریعہ وہ پڑھ سکیں۔
سعودی عرب میں تعلیم کو فروغ دینے میں تمام حکمرانوں کا اہم رول رہا ہے۔ تعلیم کے تئیں جو خواب شاہ عبد العزیز نے دیکھا تھا۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں ان کے تمام بیٹوں نے اپنا حصہ ادا کیا۔ بالخصوص تعلیم کے حوالے سے شاہ سعود،شاہ فیصل، شاہ فہد،شاہ عبد اللہ حفظہم اللہ کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی یونیورسٹیاں اس وقت نمایاں عالمی یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ سعودی عرب میں صد فیصد تعلیم ہے۔ جتنی توجہ بچوں کی تعلیم پر دی جاتی ہیں اتنی ہی توجہ بچیوں کی تعلیم پر دی جاتی ہے۔ بچیوں کی تعلیم کے لئے بعض ایسی بھی یونیورسٹیاں ہیں جو بچوں کی یونیورسٹیوں سے کہیں وسیع وعریض ہیں۔ طالبات کے لئے ہر جدید سہولیات میسر ہیں۔ باپردہ رہکر وہ ہر طرح کی تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ تعلیم کی راہ میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہے۔ سعودی بچے اور بچیاں صرف شرعی اور دینی تعلیم ہی حاصل نہیں کرتیں بلکہ جس کو عصری تعلیم کہا جاتا ہے اس تعلیم میں بھی سعودی عرب خاطر خواہ پیش قدمی کرچکا ہے۔ اس وقت بڑی بڑی کمپنیوں اور فیکٹریوں کو ہینڈل کرنے والے سعودی نوجوان ہیں۔
شاہ سلمان بن عبد العزیز اور شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی نوجوانوں میں تعلیم اور محنت کا ایسا لگن پیدا کیا ہے کہ ہر میدان میں وہ نظر آتے اور اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی ہے کہ وطن کی ترقی کے لئے محنت کے ساتھ اعلی تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے۔ ویزن 2030 کے تحت سعودی عرب ہر شعبہ حیات میں ترقی کا جھنڈا گاڑنا چاہتا ہے۔ اسی ضمن میں تعلیم بھی ہے۔












