کسی بھی ملک کی بہترین کاکردگی کا نظام عدل پر منحصر ہے چاہے وہ ملک جمہوری ، اسلامی، یا بادشاہی نظام پر چلتا ہو جس ملک میں بھی عدل کے پیمانوں کو درکنار کردیا جاتا ہے تو یہ سمجھنا ہوگا کہ وہاں ظلم کی دیوار اٹھائی جارہی ہے یا ظلم کو نافذ کیا جارہا ہے لیکن جب انصاف کی مسند پر بیٹھے حکمران یا عہدیدار جو اگر نا انصافی کے گن گاتے ہیں یا اگر امتیاز روا رکھتے ہیں تو یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہونا چاہئے کہ وہ پاکیزہ لفظ عدل کا بھدا مذاق بنارہے ہیں۔اگر بات ہمارے ملک بھارت کی کی جائے تو بھارت ایک جمہوری نظام مملکت ہے جس میں کثیر المذاہب شامل ہیں جسکی بنیاد دستور پر منحصر ہے جس میں صاحب اقتدار حکمران ہو یا عہدیدار وہ اپنے عہدے پر فائز ہونے سے قبل یہ عہد لیتے ہیں کہ وہ آئین کے مطابق بلا مذہب و تفریق انصاف کریں گے لیکن پھر بھی اگر وہ اپنے عہدے سے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں تو یہ نا صرف عہدے سے کھلواڑ ہوگا بلکہ ملک کی جمہوریت اور آئین سے بھی منحرف ہونے کے مترادف کہلائے گا۔
جمہوری مملکت میں عدل کو مستحکم کرنے میں حکومت کا سب سے اہم کردار ہوتا ہے اگر اس سے آگے بڑھ کر دیکھا جائے تو عدلیہ کو حکومت پر فوقیت حاصل ہے وہ عدل قائم کرنے کیلئے حکومت سمیت تمام سرکاری اداروں پر اپنی گرفت جما سکتی ہے لیکن موجودہ حکومت عدل کا ہر روز کہیں نہ کہیں تماشہ بنا ہی دیتی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ عدلیہ سمیت دیگر تمام اہم سرکاری اداروں پر اپنا دبدبہ قائم رہے اور ایسا ہو بھی رہا ہے کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح حکومت ای ڈی اور سی بی آئی کا اپنا سیاسی انتقام لینے کیلئے استعمال کررہی ہے۔ اپوزیشن سے اٹھنے والی آوازوں کو اپنے خلاف سننے سے قاصر ہے ،یہی نہیں بلکہ عدل و انصاف کے مندر کو بھی اپنے مفادات کیلئے استعمال کررہی ہے کیونکہ عدلیہ کے کچھ فیصلوں میں نشیب و فراز بھی نظر آئے جسکی مثالیں ہم نے دیکھی ہے۔ ایودھیا کے فیصلے میں شامل سپریم کورٹ کے دو ججس گوگوئی اور عبدالنظیر کو کس طرح انعامات کے طور پر ایک کو راجیہ سبھا کا رکن اور ایک کو آندھراپریش کا گورنر بنادیا گیا۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ملک کا اہم ادارہ الیکشن کمیشن بھی ہے جسکے عہدیداروں کا کئی دہائیوں سے حکومت انتخاب کرتی تھی لیکن سپریم کورٹ کی موجودہ پانچ رکنی بنچ نے ایک متفقہ فیصلہ دیتے ہوئے حکومت کی عرضی کو مسترد کردیا اور کہا کہ ایک تین رکنی کمیٹی بنائی جائے جس میں وزیر اعظم چیف جسٹس آف انڈیا اور ایک اپوزیشن قائد شامل ہو یہ سہ رکنی ٹیم چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنر کے نام کا انتخاب کرتے ہوئے صدر جمہوریہ کو تجویز روانہ کی جائے جسکے بعد صدر جمہوریہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشنر کا اعلان کریں گے۔ سپریم کورٹ کی بنچ کا یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جس نے عدل کے تقاضہ کو پورا کیا لیکن یہ عمل تب تک جاری رہے گا جب تک حکومت الیکشن کمیشن کے عہدوں کے متعلق کوئی قانون نہ بنادیتی حکومت کی ہٹ دھرمی تھی کہ انھیں الیکشن کمیشن کے عہدوں کا تقرر کرنے کی آزادی دی جائے جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اسکے پیچھے حکومت کی کیا لابی تھی اور وہ کیا کرنا چاہتی تھی لیکن عدلیہ نے حکومت کو بڑی پھٹکار لگائی۔
ابھی چار روز قبل ریاست کرناٹک کے وکلاءنے چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک خط روانہ کیا جس میں یہ بتایا گیا کہ کرناٹک ہائی کورٹ کو عام طور پر نئے معاملات جیسے کہ پیشگی ضمانت کی درخواستیں درج کرنے میں کئی دن یا ہفتوں کا وقت لگتا ہے لیکن اب وی آئی پیز سے متعلق انکے معاملات راتوں رات حل کئے جارہے ہیں وکلاءنے کہا ”عدالت کایہ طریقہ کار عام آدمی کا عدالتی نظام پر سے اعتماد کھو دے گایہ انتہائی اہم ہے کہ ایک رکن اسمبلی کے ساتھ بھی عام آدمی جیسا سلوک کیا جائے۔“انھوں نے خط میں کرناٹک ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پی بی ورلے پر زور دیا کہ وہ رجسٹری کو ہدایت دیں کہ وہ تمام پیشگی ضمانت کے معاملات کو ایک ہی دن میں درج کرے تاکہ عام لوگوں کے ساتھ بھی بی جے پی لیڈر جیسا سلوک کیا جائے ۔ان کے خط میں کہا گیا ہے ”یہ ضروری ہے کہ انصاف کا مندر سب کے لیے یکساں ہو اور کسی بھی وی آئی پی کو عام آدمی کی طرح انتظار کرنا چاہیے“بنگلورو کے وکلاءکو چیف جسٹس کے نام یہ خط اس لئے لکھنا پڑا کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے بی جے پی کے رکن اسمبلی ویروپکشپا کو رشوت خوری کے معاملہ میں ضمانت دینے میں جس تیزی کا مظاہرہ کیا جس سے وکلاءکوتشویش کا اظہار کرنا پڑا یہی کرناٹک ہائی کورٹ نے پچھلے ایک سال قبل حجاب معاملہ میں بھی حجاب پر پابندی عائد کرنے میں تیز رفتاری سے کام لیاتھا جسکے بعد معاملہ سپریم کورٹ جا پہنچا جسکی سماعت ہولی کی چھٹیوں کے بعد کرنے کا چیف جسٹس آف انڈیا نے اعلان کیا تھا۔
اگر ملک کی موجودہ صورتحال دیکھی جائے تو عدل و انصاف کے معاملہ میں امتیازی رویہ اختیار کیا جارہا ہے چاہے اسکا تعلق کسی بھی شعبہ سے ہو ۔عدل ڈگمگاتی کشتی میں سوار ہے ،کس جانب غرق ہو جائے اسکا کوئی اعتماد نہیں، ایسے میں سوال یہی نکل کر آتا ہے کہ نظام عدل کیوں لرز رہا ہے؟جب تک وہ عہدیدار چاہے انکا تعلق عدلیہ، الیکشن کمیشن،سرکاری ایجنسیزیاپولیس سے ہو جب تک وہ اپنے ضمیر کو جھجھوڑ کر انصاف کے ساتھ فیصلے اور کارروائی نہ کریں گے تب عدل قائم نہیں ہوسکتا۔سوال یہ بھی ہے کہ کرناٹک ہائی کورٹ نے بی جے پی رکن اسمبلی کی ضمانت میں جتنی جلدی دکھائی کیا عام آدمی کے ذہن مشکوک نہیں بنے گا؟سوال یہ بھی ہے جس طرح الیکشن کمیشن کے عہدوں کا تقرر کرنے کیلئے نظام کی جو تبدیلی کی گئی ہے کیا اب الیکشن کمیشن خود مختار ادارہ بن جائے گا؟ ہاں نظام کو بدل دینے سے عدل کی کچھ حد تک گنجائش باقی رہ سکتی ہے ایک تو یہ کہ انھیں کوئی سیاسی د باؤ نہیں ہوگا وہ آزادانہ طور پر فیصلے کرسکتے ہیں لیکن کوئی قابل اعتماد اقدامات کی امید جب تک نہیں کی جاسکتی تب تک کوئی بھی عہدیدار کسی بھی فیصلے اور کارروائی سے پہلے اپنے ضمیر کو گواہ نہ بنالے، اپنی مسند کا احترام نہ کرے، اپنے ملک کے آئین کا اعادہ نہ کرے اور عدل و انصاف کو ملحوظ نہ رکھے اگر یہ روش اختیار کی جائے گی تو عدل و انصاف ملک میں اپنی پہچان بنا پائے گا ورنہ اگر اسکے بر خلاف ہوتو اسکی حد مشکوک اور شبہات تک سمٹ کر رہ جائے گی۔












