ابتدائے آفرینش سے ہی بنی نوع انسان نے دیکھا کہ حق و باطل کی لڑائی میں فتح و ظفر ہمیشہ حق کے ساتھ رہی ہے۔ اور رہے گی۔ ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے بر صغیر میں صوفیائے کرام نے اپنی روحانی جذب و کشش سے مذہب اسلام کی تبلیغ و اشاعت کرکے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا۔ انہیں بزرگوں میں سے ایک سلطان العارفین حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات گرامی نمایاں حیثیت کی حامل ہے۔ اور آپ کا مقام ومرتبہ بہت بلند ہے۔ عظیم المرتبت صوفیائے کرام نے آپ کی تعریف وتوصیف کے قصیدے پڑھے۔ آپ کا مقام ومرتبہ کوئی کیا لکھ سکتا اس لئے کہ آپ عارفین کے امام اور زمانے کے غوث تھے۔
آپ کی شان و عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سیدالطائفہ حضرت سیدنا جنید بغدادی رضی اللہ عنہ جیسے عظیم المرتبت صوفی بزرگ فرماتے ہیں کہ: حضرت سیدنا بایزید بسطامی کا مقام صوفیاءمیں ایسا ہے جیسا مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کا ملائکہ میں ہے۔ آپ کا نام بایزید بسطامی اور بعض نے شیخ ابو یزید بسطامی لکھا اور طیفور ابو یزید بسطامی کے نام سے مشہور ہوئے، آپ کی پیدائش۔ بسطام جو ایک بڑا شہر صوبہ سمنان اور ملک ایران میں واقع ہوئی، آپ کی کنیت۔بایزید، آپ کی پیدائش سنہ188ہجری بمطابق سنہ804عیسوی میں ہوئی،آپ کا لقب سلطان العارفین، آپ کے القاب کے بارے میں عہد شاہجہاں میں سلسلہ شطاریہ کے مشہور و معروف بزرگ حضرت شاہ عبداللہ شطاری رحم اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ: ہم پر ایک حالت میں انکشاف ہوا اور عرش آعظم تک رسائی ہوئی تو ساق عرش بریں پر میں نے اکابرین طریقت کے القاب لکھے دیکھے۔ حضرت بایزید بسطامی کا لقب سلطان العارفین مسطور تھا۔ اور حضرت شیخ شرف الدین کا لقب سلطان المحققین تھا۔ آپ اندازہ لگائیں جس صوفیاءکے نام اور القاب عرش بریں پر لکھے ہو اس بزرگ کی شان کیا ہوگی۔ اس کا اندازہ نہ کوئی لگاسکا اور نہ کوئی لگاسکتا ہے۔ اسی لئے تو حضرت شیخ ابو الحسن علی ہجویری یعنی داتا گنج بخش لاہوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کشف المحجوب میں فرماتے ہیں کہ: حضرت بایزید بسطامی فلک معرفت ہیں۔ اور آپ طریقت کے دس بڑے اماموں میں سے ایک ہے۔ (کشف المحجوب)آپ کی عبادت وریاضت بہت مشہور ہے آپ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں محو رہتے یہ واقعہ بہت مشہور ہے کہ حضرت بایزید بسطامی ریاضت میں اس درجہ مستغرق رہتے کہ ایک ارادت مند جو آپ کی خدمت میں تیس برس سے حاضر تھا وہ بھی جب آپ کے سامنے آتا تو آپ اس کا نام پوچھتے کہ تیرا نام کیا ہے۔ اس نے ایک دن عرض کی کہ حضور آپ میرے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ جب بھی آپ کے سامنے آتا ہوں تو آپ میرا نام پوچھتے ہیں آپ نے فرمایا: میں مذاق نہیں کرتا بلکہ میرے قلب و روح میں اس طرح اللہ تعالیٰ کا نام جاری وساری ہے کہ اس کے نام کے سوا مجھے کسی کا نام یاد نہیں رہتا۔ آپ فرماتے ہیں کہ: جو خدا سے محبت کرتا ہے تو وہ خدائے یکتا کی طرح یکتا ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص اتباع سنت کے بغیر خود کو صاحب طریقت کہتا تو وہ کاذب یعنی جھوٹا ہے۔ایک دن حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں داخل ہونے سے پہلے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر خوب رورہیں ہیں۔ اور جب رونے کی وجہ دریافت کی گئی تو آپ نے فرمایا: میں خود کو حائضہ عورت کی طرح نجس تصور کرکے روتا ہوں کہ کہیں میرے داخلے سے مسجد نجس نہ ہوجائے۔ آپ فرماتے ہیں کہ: عورتیں مجھ سے اس لئیے افضل ہے کہ وہ ماہواری کے بعد غسل کرکے پاک و صاف ہوجاتی ہے۔ اور میری تمام عمر غسل کرنے میں گذر گئی مگر پاکی حاصل ہو نہ سکی۔ اللہ اکبر جن کا نام عرش بریں پر لکھا ہو جن کی تعریف وتوصیف بڑے بڑے صوفیاءومشائخ نے کی اور ڈاکٹر اقبال جیسا مفکر بال جبرئیل میں آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: حضرت بایزید بسطامی جیسے سچے خدا پرست درویش کا وجود حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جمالی شان و عظمت کی جھلک پیش کرتا ہے۔ تو جو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جمالی جھلک کا ایک نمونہ ہے تو اس شخص کی پاکی کے بارے میں کون کہہ سکتا ہے۔ یہ صوفیائے کرام کی شان ہوا کرتی ہے کہ سب کچھ رہنے کے باوجود بھی کچھ نہیں۔ یہی تو شان مؤ من اور اصل ایمان کی پہچان ہے۔ حضرت بایزید بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ: اسلام میں شریعت کی پابندی کے بغیر کوئی چارہ نہیں آپ سے لوگوں نے پوچھا آپ نے جو کچھ پایا کس طرح پایا آپ نے فرمایا ظاہر اور باطن دونوں کو یکساں رکھ کر یعنی کہ کسی بھی معاملات میں ظاہر جو لوگوں کے سامنے ہے اس کو بھی پاک رکھ اور باطن جو کوئی نہیں دیکھتا اس معاملے میں بھی صاف ستھرا رہ۔ آپ نے حقوق العباد کے بارے میں کیا خوب فرمایا آپ فرماتے ہیں کہ: جب تک دل میں تکبر ہے اس وقت تک کوئی بھی شخص قرب الٰہی کا بو بھی نہیں پاسکتا۔ اور کمالات تصوف تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ اور آپ فرماتے ہیں کہ: ائے لوگوں! کوئی گناہ تمہیں اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنا ایک مسلم بھائی کی بے عزت کرنے سے پہنچتا ہے۔
حضرت بایزید بسطامی سے کسی نے پوچھا آپ ولایت کے بلند مقام پر کیسے پہنچ گئے۔ آپ نے فرمایا: میری ماں کی دعاءنے مجھے پستی سے اٹھا کر بلندی تک پہنچا دیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ: میں نے سوچا اس خالقِ کائنات کی عبادت کرکے اس کا برگزیدہ بندہ بن جاؤ ں۔ ایک دن میں نے ماں سے کہا مجھے اپنے ربّ العالمین کی عبادت کرنے دو ریاضت کرنے دو یا مجھے اپنا حق معاف کردو۔ یا مجھے اپنی خدمت کرنے دو صرف میں تیری خدمت کروں ماں بھی کوئی عام ماں نہ تھی جس کا بیٹا بایزید بسطامی ہو اس ماں کی شان کا اندازہ کون لگاسکتا ہے۔ ماں نے فرمایا جا بیٹا جا میں اجازت دیتی ہوں عبادت کر اور منزل مقصود تک پہنچ جا۔ حضرت بایزید بسطامی فرماتے ہیں کہ: بیس سال تک عبادت کی نہ جانیں کیسی کیسی ریاضت کی چلے کاٹے حجابات دور نہ ہوئے، سینہ روشن نہ ہوا، اور باطنی آنکھیں کھل نہ سکی بیس سال کے بعد اپنے علاقے سے گذر ہوا اور سوچا ماں سے ملوں وہ زندہ ہے۔ کیسی ہے، کس حال میں ہے، رات میں گھر کے دروازے پر کان لگا کر سنا تو والدہ ماجدہ وضو کررہی تھی۔ اور ساتھ ساتھ یہ کہتی جاتی تھی کہ ائے اللہ! میرے مسافر کو آرام سے رکھ اور اس کا اچھا بدلہ دے والدہ ماجدہ کی یہ دعاءسن کر آپ کافی دیر دروازے پر کھڑے ہوکر روتے رہیں۔ جب کچھ حالت سنبھلی تو دروازے پر دستک دی اندر سے آواز آئی کہ کون ہے جواب دیا گیا آپ کا مسافر دروازہ کھول دیا گیا جب دونوں ماں بیٹے کی ملاقات ہوئی تو یہ منظر بڑا رقت آمیز تھا۔ والدہ نے فرمایا تم نے اتنا لمبا عرصہ سفر کرتے ہوئے گزار دیا کہ روتے روتے میرے آنکھوں کی بینائی ختم ہوگئی۔ اور غم سے میری کمر جھک گئی ایک دن حضرت بایزید بسطامی فرماتے ہیں کہ: ایک رات والدہ نے کہا بیٹا پانی لاؤ سخت سردی تھی میں نے مشکیزہ دیکھا تو خالی تھا سخت سردی میں مشکیزہ میں پانی لیکر دریائے دجلہ سے واپس آیا پیالہ میں پانی بھر کر والدہ کے پاس گیا تو کیا دیکھا کہ والدہ سوچکی تھی میں پانی لے کر کھڑا رہا تاکہ ماں کی آنکھ کھلے اور وہ پانی مانگے اور میں پانی پیش کرسکوں۔ تہجد کے وقت ماں کی آنکھ کھلی اور کہا بیٹا پانی لیکر کب سے کھڑے ہو۔ جس وقت آپ نے پانی مانگا تھا اسی وقت سے پانی لیکر کھڑا ہوں۔ تاکہ آنکھ کھلے تو پریشانی نہ ہوں اس وقت ماں کی آنکھ آنسوؤ ں سے بھر آئی اور روتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو اٹھا کر بارگاہ الٰہی میں دعاءکی ائے میرے پروردگار! میرے بیٹے بایزید کو وہ عطا کر جو وہ چاہتا ہے۔حضرت بایزید بسطامی فرماتے ہیں کہ ادھر ماں کی ہاتھ دعاءکیلئے اٹھی ہی تھی اور ادھر میرے آنکھوں سے حجابات اٹھ گئے، دل روشن ومنور ہوگیا، میرے نگاہ سے سارے پردے دور ہوئے یہ ایک ماں کی دعاءکی برکت تھی۔ ہر انسان کو چاہئے کہ ماں باپ کی قدر کریں، ان کی عزت کریں تاکہ دنیا میں پھلے پھولے اور خوب ترقی کریں۔ اور آخرت میں وہ رب العالمین سرخروئی عطافرمائے۔
محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاءفرماتے ہیں کہ: ایک مرتبہ ایک کفن چور حضرت سیدنا بایزید بسطامی کی بارگاہ میں آیا اور اپنے برے کاموں سے توبہ کی حضرت بایزید بسطامی نے اس سے کہا اچھا تم کتنے مردوں کی کفن چوری کی ہے اس نے کہا تقریباً ایک ہزار مردوں کی کفن چوری کی ہے۔ آپ نے اس سے مزید دریافت فرمایا کہ: اچھا کتنے لوگوں کے چہرے قبلہ رُ خ تھے۔ اس نے کہا ایک ہزار میں صرف دو لوگوں کے چہرے قبلہ رخ تھا باقی تمام لوگوں کے چہرے قبلہ رخ سے پھرا ہوا تھا۔ حاضرین مجلس نے حضرت بایزید بسطامی سے سوال کیا یہ ایسا کیونکر ہوا تب آپ نے جواب دیا ان میں سے صرف دو افراد ہی ایسے تھے جو اللہ پر بھروسہ کرتے تھے۔ اور باقی ایسا نہیں کرتے تھے۔ دیکھا آپ نے وہ دور تابع تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تھا۔ مگر ایک ہزار میں صرف دو افراد نکلیں اگر آج اس پر فتن دور کی بات کی جائے تو ہمارا حال کیا ہوگا اللہ رحم فرمائے۔ایک مرید نے آپ کے وصال کے بعد خواب میں دیکھااور پوچھا حضور منکر نکیر کے ساتھ کیسا معاملہ پیش آیا تو آپ نے فرمایا: منکر نکیر نے سوال کیا من ربک تیرا رب کون ہے۔ میں نے کہا تیرا اس سوال سے مقصد پورا نہیں ہوسکتا اس لئے کہ اگر میں کہتا ہوں کہ میرا پروردگار وہ ہے جو وحدۃ لا شریک ہے تو میرا یہ کہہ دینا آسان ہے۔ اس لئے کہ بہتر یہی ہے کہ تم واپس جاکر پروردگار سے خود پوچھ لوکہ وہ مجھے کیا سمجھتا ہے۔ جو کچھ وہ کہہ دے میں وہی ہوں اس لئے کہ اگر میں سو مرتبہ بھی کہتا ہوں کہ میرا پروردگار وہ ہے۔ جب تک مجھے وہ اپنا بندہ قرار نہیں دیتا میرے کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔سلطان العارفین حضرت سیدنا بایزید بسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مزار مبارک بسطام میں واقع ہے۔ جہاں لا تعداد عقیدت مند آپ کے آستانہ عالیہ پر حاضری دیتے ہیں اور بے شمار روحانی فیوض وبرکات سے مستفید ہوتے ہیں۔ آپ کا وصال 15 شعبان المعظم 261 ہجری بمطابق 874عیسوی میں آپ دارالبقاءسے دارالفنا کی طرف رخصت ہوئے۔
تمنا درد دل کی ہو تو خدمت کر فقیروں کی
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں












